Daily Mashriq


حالات کی کھچ کھچ سیاست کا تگڑم

حالات کی کھچ کھچ سیاست کا تگڑم

سب ہی این آر او مانگ رہے ہیں، یہ بات وزیر باتدبیر چودھری فواد حسین نے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مت پوچھیں کس نے این آر او مانگی ہے، بلکہ یہ پوچھیں کہ کس نے نہیں مانگی۔ یہ سیاست بھی عجب شے ہے کہ جو نہ سمجھ میں آنے کی ہے اور نہ سمجھانے کی ہے، بہتر تو یہ رہتا کہ وفاقی وزیر چودھری فواد حسین فہرست جاری کر دیتے کہ اب تک کس کس نے این آر او طلب کی ہے۔ اسی طرح نہ سمجھ آنے والی بات ہے کہ اسرائیلی طیارہ فضاء سے کہاں گیا تھا، ظاہر ہے کہ وہ دس گھنٹے تک فضاء میں تیر تو نہیں سکتا۔ آخر کہیں تو گیا تھا۔ عالمی میڈیا بھی اسرائیلی صحافی کی اطلاع سے آگے نہ بڑھ سکا ہے البتہ پاکستان کے شہری ہوابازی کے ادارے نے تردید کر دی ہے کہ طیارہ اسلام آباد نہیں اُترا۔ بعض سیاستدان اس بات کا بھی بتنگڑا بنا رہے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ صرف اسلام آباد کا نام کیوں لیا جا رہا ہے پاکستان میں اور بھی تو مستقر ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہا ہے مگر اس امر کی تردید ازخود چودھری فواد حسین نے کر دی۔اسرائیلی طیار ے کے بارے میں بعض حلقوں کی جانب سے تاثر دیا جا رہا ہے کہ اس میں اسرائیل کی کوئی اہم شخصیت سوار تھی، ایسا ممکن بھی ہے ناممکن بھی ہے، مگر یہ تاثر دینا کہ کوئی اسرائیلی اہم شخصیت خفیہ طور پر کہیں گئی اور یہ ظاہر کرنا کہ طیارہ پاکستان کی حدود تک تو نظر آیا اس کے بعد لاپتہ سا ہوگیا کئی سوال پیدا کرتا ہے، جہاں تک اس سوچ کا تعلق ہے کہ یہ طیارہ پاکستان اترا اور کوئی ملاقات ہوئی ہے، قابل اعتبار محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ایسی ملاقاتوں کیلئے یوں اہتمام ہوتے نہیں دیکھا گیا ہے۔ اس طرز کی ملاقات کسی تیسری جگہ باآسانی ہو سکتی ہے جیسا کہ ماضی میں پرویز مشرف کے وزیر خارجہ میاں خورشید محمود قصوری نے اسرائیلی وزیر سے استنبول میں ملاقات کی تھی، ان کے طیاروں کی ترکی آمد پر استنبول ایئر پورٹ کی تمام بتیاں گل کر دی گئی تھیں اور پورا ہوائی اڈہ تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔ اسرائیلی طیاروں کی مشکوک حیثیت اسلئے بھی بن رہی ہے کہ یہ طیارہ تل ابیب سے کوئی ایک ہفتہ پہلے امریکا گیا تھا جہاں سے غالباً تین دن کے بعد واپس لوٹا تھا، پھر دوسرے دن اس کی پرواز ہوئی جس کو مشکوک قرار دیا جا رہا ہے اور اپنی مشکوک پرواز کے آنے جانے کا روٹ بھی ایک ہی اپنایا۔

پاکستان میں جس طرح تبدیلی کا چرچا ہو رہا ہے ان دنوں عرب ممالک میں بھی تبدیلی آرہی ہے کی دھوم مچی ہوئی ہے، کوئی تین دن پہلے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو غیر متوقع طور پر خلیجی ریاست عمان کے دورے پر گئے جہاں انہوں نے ریاست کے بادشاہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کا جو اعلامیہ جاری ہوا اس میں اسرائیلی وزیراعظم کا دورہ مفید قرار دیا گیا ہے، اس موقع پر نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کے ریاست عمان کے دورے سے ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دورے کے فوراً بعد یہ خبر بھی آئی ہے کہ عرب میڈیا کے مطابق بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد الخلیفہ نے کہا ہے کہ چھ خلیجی ممالک کے تحفظ کیلئے عرب نیٹو بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کو آئندہ برس تک تشکیل دیدیا جائے گا، خبر کے مطابق عرب نیٹو میں خلیجی ممالک بحرین، کویت، عمان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یمن شامل ہوں گے، بحرین کے وزیر خارجہ کے مطابق عرب نیٹو میں مصر کی شمولیت بھی متوقع ہے، ان کے مطابق اس طرح سات ممالک پر مشتمل ایک سیکورٹی فورس ہوگی۔ جب یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے تو یہ ایک انقلابی فیصلہ ہی قرار پا سکتا ہے، ماضی کی تاریخ یہ کہتی ہے کہ عربوں کا اتحاد کبھی پائیدار ثابت نہیں ہوا ہے تاہم اب حالات بدلے بدلے نظر آرہے ہیں، عرب نیٹو کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قطر اور دیگر کچھ دوسرے خلیجی ممالک ہیں دیکھیںکہ یہ منصوبہ کہاں تک کامیاب ہو سکے گا، اس سے قبل سعودی عرب نے اسلامی ممالک پر مشتمل فوج تشکیل دی ہے اور اس کا سربراہ پاکستان کے ایک سابق سپہ سالار کو مقرر کیا ہے۔ کیا اب یہ اسلامی اتحاد فوج عرب نیٹوکے ماتحت ہو جائے گی، بہرحال جو بھی ہے یہ عرب ممالک میں مقاصد کے حصول کے حوالے سے نئی صف بندی کی طرف قدم بڑھایا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میںآئندہ پانچ سال میںجو حالات پیش ہونا متوقع ہیں ان کے پیش نظر یہ ہی کہا جا سکتا ہے کہ اس خطے میں ایران، ترکی اور ان کے حامیوں کا اثر ورسوخ کم کرنا مقصود ہے اور یہ اثر ورسوخ امریکا کو بھی کھلتا ہے۔اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے دورہ عمان کے بعد عالمی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ عمان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے، ذرائع کے مطابق عمان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل ایک حقیقت ہے جس کو تسلیم کر لینا چاہئے، عمان اور بحرین عرب دنیا میں سعودی عرب کے بہت قریب ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی بھی خارجہ پالیسیوں میں تبدیلی متوقع تصور کی جاسکتی ہے۔ ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اگر زیادہ تر عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں تو ان عرب ممالک کے غیرعرب ممالک کیلئے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنا کوئی کٹھن نہ ہوگا۔

سیاست کا تگڑم چاہے پاکستان کا ہو یا دنیا کے کسی کونے کا ہو، ہے ایک جیسا کہ عوام بے چارے ہر جگہ اس مخمصے میں رہتے ہیںکہ کل کیا ہوگا، پاکستان پی پی کے سربراہ آصف زرداری نے گزشتہ روز جو بیان دیا ہے ان کے لب ولہجہ سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ آصف زرداری نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ نواز شریف کی زبان بول رہی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ معاملہ کرپشن کا نہیں ہے بلکہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کا ہے، آئین کی اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں سیاستدانو ں کے بیان آرہے ہیں کہ اگر اٹھارہویں ترمیم ختم کی گئی تو ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا، آئین میں اٹھارہویں ترمیم منتخب جمہوری پارلیمنٹ نے کی ہے۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں