Daily Mashriq


ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

گزشتہ کالم میں ہم نے اپنے بچپن اور لڑکپن کی بعض یادوں کویکجا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے کی سعی کی تھی، اسی سلسلے کو بڑھاتے ہوئے ایک بار پھر برف سے بنی ہوئی کچھ چیزوں کا تذکرہ کرتے ہیں، شہر کے مختلف بازاروں میں ایسی ہتھ ریڑھیاں دیکھی جا سکتی تھیں جو صندوق نما شکل میں ڈھالی گئی تھیں، ان میں برف کے اندر پیتل کے بنے ہوئے بالز کے اندر سرخ، سبز، زرد اور دودھیا رنگ کے میٹھے گولے جمائے جاتے جو دو نصف کروں کی مانند ہوتے اور انہیں ایئرٹائٹ کرنے کیلئے سائیکل ٹیوب کے گول گول ٹکڑے کاٹ کر بند کرنے میں مدد لی جاتی تاکہ اندر جو شربت بھری جائے وہ نصف گول کروں سے نکل کر ضائع بھی نہ ہو جائے اور بالز کی شکل میں ڈھل کر بچوں کو پُرلطف آئس بالز کی شکل میں فروخت کی جا سکے۔ ادھر گھنٹہ گھر میں محلہ خویشگی کے کونے پر جانی فالودے والے کی دکان بھی شہر میں بہت مشہور تھی، جب ہم نے لڑکپن میں قدم رکھا اور چوک ریشم گراں میں اپنے والد کی دکان اور بعد میں پیپل منڈی میں ماموں کی دکان پر جایا کرتے تب جانی فالودہ گر کا تو انتقال ہو چکا تھا البتہ ان کے دو فرزند دکان کا نظم ونسق سنبھال کر فالودہ فروخت کرتے ضرورکرتے ضرور دیکھے، لوگ دور دور سے ان کی دکان پر فالودہ کھانے آتے، بعد میں قصہ خوانی میں بھی فالودے کی دو تین دکانیں کھل گئی تھیں لیکن بقول شاعر

مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

جانی فالودے والی دکان کے سامنے اور گھنٹہ گھر سے کریم پورہ جانے والی سڑک کی بغلی گلی میں جو آگے جاکر محلہ پکھی سازاں سے جڑ جاتی ہے اس کے شروع ہی میں ایک بزرگ صندل کا شربت فروخت کرتے جس کیلئے وہ اسپغول کو صاف کر کے ایک میگا سائز شیشے کے گلاس میں ڈال کر دیتے۔ صندل کا شربت وہ خود کشید کرتے اور اس کا ذائقہ خوشبو اور مٹھاس لاجواب ہوتا، اس دور میں وہ ایک گلاس کے آٹھ آنے وصول کرتے۔ اسی طرح سبزی منڈی اور پیپل منڈی کے بیچ گزرنے والی سڑک جو چڑویکوبان سے گزرتی ہے اس پر بھی ایک بزرگ صندل ہی کا شربت بالکل اسی فارمولے کے تحت فروخت کرتے ممکن ہے کہ دونوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے رہا ہو جبکہ چڑویکوبان والے بزرگ کا برخوردار نثار شہر کے فٹ بال کے کھلاڑیوں میں شامل تھا۔ بات شربت کی چل رہی ہے تو گھنٹہ گھر کیساتھ پل پختہ کے عین سامنے سبزی منڈی کے باہر کونے پر دو بھائی بڑے بڑے برتنوں میں جنہیں مقامی طور پر بادیوہ کہتے ہیں اور جو شاید فارسی زبان کے لفظ بادیہ سے نکلا ہے، زرد رنگ کا ٹھنڈا یخ شربت ایک آنہ گلاس بیچتے تھے، وہ ایک بڑے کٹورے میں تخم ملنگاں بنا کر شربت کے گلاس میں ڈالا کرتے، بعد میں پتہ چلا کہ اس کے بنانے میں شکرین کا استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ جب شربت خوب ٹھنڈا ہوتا تو اچھا لگتا مگر کبھی برف کی مقدار کم ہوتی توگھونٹ کے آخر میں تلخی کا احساس ہونے لگتا اور یہی شکرین کی نشانی ہوتی ہے۔ ابھی چونکہ گھنٹہ گھر اور اس کے آس پاس گھوم رہے ہیں اس لئے وہیں کی کچھ اور باتیں ہو جائیں، اوپر کی سطور میں شربت بیچنے والے دو بھائیوں کے تذکرے کیساتھ ہی ان کی دکان کے عین سامنے ریتی گیٹ تک جانے والی سڑک کے کونے پر شام کے وقت کالا خان نامی ایک شخص ہتھ ریڑھی میں چولھا رکھے کٹاکٹ گوشت فروخت کرنے آجاتا، اس کی خاص خوراک گردے کپورے اور دل کلیجی کے تکے ہوتے۔ کیا ذائقہ دار گوشت ہوتا، وہ ذائقہ آج تک زبان سے چمٹا ہوا اس دور کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ اسی طرح سیخ تکے تو شہر کے کئی حصوں میں فروخت ہوتے اور یہ وہ دور تھا جب ابھی کڑاہی گوشت پشاور میں دستیاب نہ تھا بلکہ اس کیلئے لوگوں کو لنڈی کوتل اور طورخم جانا پڑتا تھا مگر کوئلے کی انگیٹھیوں پر سیخ میں بھنے ہوئے تکے ضرور مل جاتے تھے اور شام کے وقت سنیما روڈ پر پکچر ہاؤس سینما کے پاس ایک پہلوان نما شخص تکوں کی انگیٹھی لگاتا۔ اس پر بھی بے پناہ رش ہوتا۔ اس کی مدد کیلئے اس کے دو تین بیٹے گاہکوں کی خدمت کیلئے ہمہ وقت موجود ہوتے، گاہک انگیٹھی کے سامنے، دائیں بائیں اور پیچھے کھلی جگہوں پر بان کی بنی ہوئی پیڑھیوں پر بیٹھ کر تکے پکنے کا انتظار کرتے۔ ادھر ایک بوڑھا بابا ڈبگری بازار میں بھی بیٹھتا تھا اور جب ہم چند دوست صدر سے پیدل چلتے ہوئے شہر آتے اور اس علاقے سے گزرتے تو کبھی کبھی اس کے پاس بیٹھ کر تکوں سے لطف اندوز ہوتے، اس کے پاس سیخوں پر چڑھے ہوئے کچھ تکے ایسے تھے جنہیں گاہک آکر خریدتے، وہ ان کو پٹہ دانہ یعنی پوشیدہ دانہ کہہ کر آرڈر کرتے۔ بابا جی ان سیخوں پر صرف نمک چھڑک کر آگ پر بھونتے۔ ایک دن ہم نے پوچھ لیا کہ یہ کیا ہے، بابا نے بتایا کہ یہ دراصل کلیجی کے تکے ہیں جن پر چربی چڑھا کر پوشیدہ کر دیا گیا ہے اور صرف نمک چھڑک کر پکائے جاتے ہیں، بہت مزے کے ہوتے ہیں، ہم نے بھی ایک ایک سیخ کا آرڈر دیدیا اور واقعی جب ہم نے وہ تکے پہلی بار کھائے تو ان کی لذت نے خاصا محسور کر دیا۔ بعد میں جب بھی وہاں سے گزرتے تو عام گوشت والے تکوں کیساتھ پٹہ دانہ کا آرڈر بھی ضرور دیتے۔ افسوس ہے کہ کالم کی تنگ دامنی آڑے آرہی ہے، ورنہ ابھی تو بہت سے لوگوں کا تذکرہ باقی ہے، جس کے بارے میں آئندہ کسی موقع کا انتظار کرنا پڑے گا۔

طلسم خواب زلیخا ودام بردہ فروش

ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں

متعلقہ خبریں