Daily Mashriq


وزیر اعظم کا جدید احتسابی سسٹم

وزیر اعظم کا جدید احتسابی سسٹم

وزیر اعظم عمران خان نے براہ راست عوامی مشکلات اور تجاویز کے لیے ''پاکستان سٹیزن پورٹل'' سسٹم کا باضابطہ افتتاح کر تے ہوئے کہا ہے کہ شکایات کے ازالے اور تجاویز پر غور کے عمل کی نگرانی وہ خود کریںگے ۔ اس نظام سے سزا و جزا میں آسانی ہو گی اور ارکان پارلیمنٹ کا احتساب ہو سکے گا۔ سسٹم سے معلوم ہو جائے گا کہ کون سا سرکاری افسر کرپشن کر رہا ہے یا رشوت مانگ رہا ہے ۔ اس نظام کے ذریعے عوام نجی اداروں کے خلاف بھی شکایات درج کرا سکیں گے۔ وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے معاملات میں براہ راست مداخلت نہیں کرے گی بلکہ چیف سیکرٹری کے ذریعے ہدایت جاری کی جائے گی۔ یاد رہے سٹیزن پورٹل سسٹم کے قیام کے لیے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ جس میں عوام موبائل فون میں اپیلی کیشن سے حکومتی اداروں تک اپنی آواز پہنچا سکیں گے۔ شکایت کنندہ کو اپنا نام ' شناختی کارڈ نمبر اور ایڈریس دینا ہوگا۔ عوامی شکایات کے ازالے کے لیے وزیر اعظم کی طرف سے قائم کیے گئے سسٹم میں ابتدائی مرحلے میں دو خرابیاں سامنے آئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس آن لائن سسٹم کے لیے سمارٹ فون کی ضرورت ہو گی جس میںلازمی طور پر انٹرنیٹ سروسز بھی ہونی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ شہریوں کی غالب اکثریت بالخصوص گاؤں دیہات میں رہنے والے اس کے استعمال پر قادر نہ ہو ںگے۔ اس جدیدسسٹم کے ساتھ ساتھ اگر ضلع ' تحصیل اور یونین کونسل سطح پر کوئی ٹال فری فون نمبر دے دیا جاتا تو شہریوں کو اپنی شکایات کے ازالے کے لیے آسانی ہوتی ۔ تمام تر تحفظات کے باوجود تحریک انصاف حکومت کا ''پاکستان سٹیزن پورٹل'' سسٹم انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر اس سسٹم کو بھرپور طریقے سے عوام میں متعارف کرا دیا جاتا ہے تو پاکستان کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں گے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے عوام مروجہ نظام سے چھٹکارا چاہتے ہیںلیکن مناسب فورم اور طریقہ کار موجود نہ ہونے کی بنا پر عوام کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوتی ہے۔ اس مسئلہ کو آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ ایک عام شہری سے پولیس کانسٹیبل رشوت کی ڈیمانڈ کر تا ہے، شہری نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی مٹھی گرم کرنے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہ کانسٹیبل کے خلاف اگر ایس ایچ او کے پاس بھی جائے گا تو اس شہری کے بجائے کانسٹیبل کی ہی سنی جائے گی۔ اس سسٹم کی بدولت جب شہری کو معلوم ہو گا کہ وہ ''پاکستان سٹیزن پورٹل'' کے ذریعے وزیراعظم تک رسائی رکھتا ہے تو وہ کانسٹیبل تو کیا ایس ایچ او یا اس سے بھی اوپر کے افسر کے خلاف بھی بے خوف شکایت کرے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس مضبوط فورم میں اس کی آواز سنی جائے گی اور اس کی شکایت کا ازالہ کیا جائے گا۔ اگرچہ ''پاکستان سٹیزن پورٹل' کے ذریعے صرف انہی شکایات کا ازالہ ہو سکے گا جو عوام کی طرف سے اس خاص سسٹم کے ذریعے درج کرائی جائیں گی لیکن قوی امید ہے کہ جب کچھ لوگوں کو کٹہرے میںلایاجائے گا تو دیگر کرپٹ اپنے انجام کے ڈر سے خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ عوامی شکایات کے زیادہ ہونے کی چند وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ پاکستان کے شہریوں کو یہ پہلی دفعہ سہولت دی گئی ہے' دوسرے یہ کہ تھانہ ' کچہری ' ماتحت عدلیہ سمیت ' صحت ' تعلیم جیسے دیگر اہم اداروں سے عوام کی اکثریت کو شکایات رہتی ہیں۔ عین ممکن ہے شروع کے چند دنوں میں عوام کی جانب سے شکایات کا انبار لگ جائے' جسے نمٹانا مشکل ہو۔ ماتحت عدلیہ کے سول کیسز کے بارے میں تو وزیر اعظم نے صراحت کر دی ہے کہ چیف جسٹس کے تعاون سے سول کیسز ایک سال میں نمٹائے جائیں گے ۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو جلد انصاف کی فراہمی کی وجہ سے جرائم کی شرح میں یقیناً کمی واقع ہوگی ۔ تاہم دیگر شکایات اور کیسز سے متعلق وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ٹاسک کی نوعیت کے مطابق شکایت کے ازالے کے لیے ٹائم فریم دیا جائے گا اور ہر ماہ شکایات کا ڈیٹا جاری کر دیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے شہریوں کو حکومت و افسران کے احتساب کا جو حق دیا ہے ' اس کی مثالیں قرون اولیٰ اور مہذب معاشروں میں دیکھی جا سکتی ہیں جہاں ایک عام شہری بھی حکمران کا احتساب اور اپنے حقوق کے بارے میں ان سے پوچھنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ پاکستان کی 71سالہ تاریخ میں چونکہ ایسا پہلی بار ہونے جا رہا ہے تو عین ممکن ہے کہ یہ سسٹم وزیر اعظم کی توقعات پر کماحقہ پورا نہ اتر سکے ' عین ممکن ہے کرپٹ افسران کی طرف سے بھرپور ردِ عمل آئے' یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شکایات کے ازالے میں تاخیر ہو جائے اور مخالفین کی جانب سے اس سسٹم پر انگلیاں اٹھائی جائیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس سسٹم کے پوری طرح نافذ العمل ہونے کے لیے تمام کوششوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔خود احتسابی کیلئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کی طرف سے توقعات بہت زیادہ ہوں گی ،وہ بعض معاملات میں بے صبری کا مظاہرہ کریں گے اس کے مقابلے میں حکومت کو انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ اگر وزیر اعظم ''پاکستان سٹیزن پورٹل'' سسٹم کو پاکستانی معاشرے میں نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارا شمار بھی مہذب اور ترقی یافتہ اقوام میں ہو گا ۔ امید کی جانی چاہیے کہ موجودہ حکومت کے ''پاکستان سٹیزن پورٹل'' سسٹم کے نفاذ میں مخالفین روڑے نہیں اٹکائیں گے' کیونکہ یہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ پاکستان کے بہترین مستقبل کی کوشش ہے ۔

متعلقہ خبریں