Daily Mashriq

وزیراعظم نے فردوس عاشق اعوان کی شکایت پر وزرا کی سر زنش کردی

وزیراعظم نے فردوس عاشق اعوان کی شکایت پر وزرا کی سر زنش کردی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کچھ وزرا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما کی جانب پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے متنازع فیصلے پر بیان دینے پر ان کی سرزنش کردی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے وزیراعظم نے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری اور رکنِ قومی اسمبلی اسد عمر کے ان بیانات پر برہمی کا اظہار کیا، جس میں انہوں نے پیمرا کی جانب سے اینکرز کو بطور تجزیہ کار کسی پروگرام میں شامل نہ ہونے کی ہدایت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اجلاس میں شریک ایک شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’دراصل معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے وزیراعظم سے شکایت کی تھی کہ فواد چوہدری، شیریں مزاری اور اسد عمر نے اپنی ٹوئٹ میں حکومتی فیصلے کے خلاف ریمارکس دیے'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے مذکورہ رہنماؤں کو ہدایت کی کہ حکومتی فیصلوں کے حوالے سے عوامی سطح پر بات چیت نہ کریں۔

جس پر وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے وزیراعظم سے کہا کہ پیمرا نے درست فیصلہ نہ کر کے حکومت پر تنقید کا راستہ کھول دیا، اس کا یہ اقدام میڈیا اور سرکاری حلقوں میں بھی تنازع کا سبب بنا۔

فواد چوہدری نے اپنی ٹوئٹ میں پیمرا کے حکم کو غیر منطقی، بلاجواز اور غیر ضروری قرار دیا تھا۔

ادھر اپنی ٹوئٹ میں سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا تھا کہ ’اینکرز کو دوسروں کے ٹاک شو میں شرکت اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا پیمرا کا حیرت انگیز فیصلہ ہے، پیمرا کو اینکرز سمیت کسی کا بھی حقِ اظہار رائے دبانے کے بجائے جعلی خبروں کے خلاف کارروائی کا کام بہتر طور پر کرنا چاہیے‘۔

دوسری جانب شیریں مزاری نے کہا تھا کہ "ایک دلچسپ بحث خود بخود شروع ہوگئی ہے کہ ’کون ماہر ہے‘؟ تو سیاست کی تعلیم نہ حاصل کرنے کے بعد اب سیاست میں ماہر بننے کے لیے مجھے ڈگری لینی پڑے گی؟ اب میرے پاس انسانی حقوق کی ڈگری نہیں تو کیا مجھے ٹیلیویژن پر انسان حقوق کے مسائل پر بات کرنے کے لیے جانا چاہیے؟"

نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی

کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کابینہ نے وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کی سربراہی میں نیشنل ایگزیکٹو کمیٹی کی منظوری دے دی، جس میں ملٹری آپریشنس اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل بھی شامل ہوں گے۔

مذکورہ کمیٹی انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کی روک تھام کے لیے کام کرے گی۔

خیال رہے کہ یہ ملکی تاریخ میں پہلا موقع ہے جب اعلیٰ ترین حساس فوجی ادارے کے سربراہان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے تدارک کے لیے بنائی گئی کسی سرکاری کمیٹی کا حصہ ہیں۔

متعلقہ خبریں