Daily Mashriq

پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر اس امر کا اعادہ کیا ہے بلکہ اس مرتبہ انہوں نے اپنی زندگی سے این آر او نہ دینے کو مشروط کر کے سخت پیغام دیا ہے۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ ملک کے وزیراعظم کے ناتے این آر او دینے نہ دینے کا اختیار ان کے پاس ہے۔ قبل ازیں انہوں نے استعفے دینے اور این آراو نہ دینے کا بھی عہد کیا تھا ان کے بار بار کے بیانات اس ابہام کا باعث ہیں کہ اس کے باوجود کہ وزیراعظم این آر او کے سختی سے مخالف ہیں این آراو کی باز گشت کیوں ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دوسرا فریق بھی این آر او طلبی سے قطعاً منکر ہے، ملکی سیاست وحکومت این آر او کے گرد اتنا گھومی ہے کہ بادصبا پر باد سموم کا گماں گزرنا فطری امر ہے۔ این آر او اگر ایک فریق کیلئے بادبہاری ہوتا ہے تو دوسرے فریق کیلئے بھی یہ آندھی نہیں ہوتی بلکہ اس کے خوشگوار اثرات سے وہ بھی سکھ کا سانس لیتا ہے۔ ہر دس سال بعد این آراو کی ضرورت ہر دو فریقوں کی ضرورت بننا ہماری سیاست کا وہ المیہ ہے جس کے فریقوں کی نوعیت میں تھوڑی بہت تبدیلی آتی ہے، صرف کرداربدل جاتے ہیں باقی فریق وہی ہوتے ہیں۔وزیراعظم کے واضح انکار اور زندگی سے مشروط کرنے کے باوجود سڑکوں پر حکومت کی رخصتی اور درون خانہ آئندہ کے منظر نامے کی تیاری کوئی فسانہ نہیں، کب اور کس وقت کس جگہ باگ ہاتھ سے چھوٹ جائے یا کوئی ایسی صورتحال سامنے آئے کہ منصوبہ سازوں کی منصوبہ بندی پراثر انداز ہو، اس حوالے سے یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔ سیاست میں امکانات اور عجوبات دونوں ہی ممکن ہیں۔جے یو آئی کے آزادی مارچ کے قائد مولانا فضل الرحمن بضد ہیں کہ حکومت کیخلاف طبل جنگ بج چکا ہے اب پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسلم لیگ(ن) کی توجہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی صحت کے معاملات کی طرف مبذول ہے، پیپلزپارٹی کے جوانسال قائد بلاول بھٹو کا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان جلد استعفیٰ دیدیں گے۔ سیاسی جماعتوں کو مارچ کرنے اور بیان دینے کی آزادی حاصل ہے، حکومت کے پاس امکانات لامحدود نہیں تو موجود تو ہیں۔ اس سارے عمل میں عوام کس کیساتھ ہیں اور ان کے مسائل و مشکلات کیا ہیں اس کا تذکرہ بھی حقیقی نہیں، سیاسی اور حکومتی ہے۔ کچھ عرصہ کیلئے عوام کی توجہ بھی سیاست وقیادت کی طرف ہوگئی ہے، اسلام آمد پر معاملہ ٹیڑھی کھیر ہی نظر آئیگا اس وقت اسلام آباد کی طرف بڑھنے والوں کے ارادے فرزین سے بھی پوشیدہ ہے، شاطر کا ارادہ کس قسم کا ہے اسلام آباد کا مجوزہ پڑائو رہے گا یا پھر2014ء میںتحریک انصاف اور حکومت کے درمیان معاہدے سے پھر جانے کی روایت دہرائی جائے گی، اوسط درجے کی قیادت ابھی سے معاہدہ ختم ہونے کی دعویدار ہے لیکن اعلیٰ قیادت معاہدے کے برقرار ہونے کا حامی ہے۔ حکمت عملی وبصیرت چشم دید نہیں ہوا کرتی پوشیدہ اور پس پردہ حقائق کیا ہیں پردہ اُٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔

متعلقہ خبریں