Daily Mashriq

آٹا سمگلنگ کا مکمل خاتمہ کرنے کی ضرورت

آٹا سمگلنگ کا مکمل خاتمہ کرنے کی ضرورت

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے آٹا، گندم اور اس سے جڑی تمام تر مصنوعات کی افغانستان لے جانے پر مکمل پابندی عائد کرنے اور پابندی پر من و عن عمل درآمد کرانے کیلئے دفعہ144نافذ کرنے کے احکامات کا اجراء کرکے صوبے میں آٹا بحران کی افواہوں یا پھر خدشات کا بڑی حد تک ازالہ کردیا ہے جو بروقت اقدام کرنے کے زمرے میں آتا ہے۔ دریں اثناء صوبائی وزیر خوراک قلندر لودھی نے کہا کہ صوبے میں خوراک کا کوئی بحران نہیں۔ صوبے کے پاس گندم کا ذخیرہ موجود ہے، فلور ملز کو روزانہ دو ہزار ٹن کی بجائے تین ہزار ٹن گندم دی جائیگی جس سے ایک دو دن میں آٹے کا مصنوعی بحران ختم ہو جائیگا اور قیمتیں بھی معمول پر آجائیں گی۔ وزیر اعلیٰ محمود خان نے بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے بات کی ہے، خیبر پختونخوا کوآٹاکااپنا حصہ پورا مل رہا ہے۔علاوہ ازیں وزیراطلاعات کا کہنا ہے کہ تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ گوداموں اور دکانداروں پر آٹے کی قیمت کے حوالے سے نظر رکھیں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف ایکشن لیں جن کی وجہ سے آٹے کا مصنوعی بحران پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ آٹے کی قیمتوں میں اضافہ اورآٹے کے بحران سے نمٹنے کیلئے حکومت کے اقدامات کی تحسین کرتے ہوئے ان کے اس دعوے سے اتفاق ممکن نہیں کہ صوبے میں آٹا کی مہنگائی اور قلت کا کوئی مسئلہ نہیں، یہ ضرور ہے کہ آٹے کا بحران پیدا تو نہیں ہوا لیکن ایسے حالات ہیں جس کے باعث یہ نوبت آسکتی ہے۔ حکومت کے تین تین اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے اس حوالے سے بیانات ووضاحت اور اقدامات ازخود اس امرکا اعتراف ہے کہ صوبے میں آٹے کے حصول اور قیمت کے حوالے سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔خیبرپختونخوا کے عوام کو آٹا بحران اور اس کی تکالیف کا تلخ تجربہ ہے اسلئے اس حوالے سے پریشانی کا اظہار فطری امر ہے۔ صوبے کو آٹا کا کوٹہ مکمل مل رہا ہو اور آٹے کی افغانستان سمگلنگ نہ ہورہی ہو تو ایسے غیر معمولی حالات نہیں کہ اس کا بحران پیدا ہو۔ آٹا کی سمگلنگ کی مکمل روک تھام شاید ہی کبھی ہوئی ہو، آٹا مسلسل افغانستان سمگل ہوتا ہے جس کے حصہ داروں کا بھی اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔ یہ ایک ایسا منظم اور منافع بخش دھندا ہے کہ اس کی مکمل روک تھام کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی۔ حکومت اگر اس کی مکمل روک تھام کرسکے تو صوبے میں آٹا کی قیمتوں اور پنجاب کی قیمتوں کے درمیان زیادہ فرق نہ رہے۔ خیبرپختونخوا میں آٹا مہنگا ہونے کی سب سے بڑی وجہ طلب ورسد کے درمیان غیر حقیقی توازن ہے، طلب کے مقابلے میں رسد میں سرکاری کاغذات میں تو توازن ہوگا لیکن صوبے کے کوٹے کا آٹا اگر افغانستان کو بھی سمگل کیا جائے تو مارکیٹ میں اس کا بحران نہ سہی اس کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہنا اکنامکس کے اصول کے تحت مسلمہ امر ہے۔صوبائی حکومت سے گزارش ہے کہ وہ نہ صرف آٹے کی سمگلنگ کی روک تھام کر کے آٹا بحران پیدا نہ ہونے دے بلکہ سمگلنگ کی مکمل روک تھام یقینی بنا کر آٹے کی قیمتوں میں کمی کا ماحول بھی پیدا کرے۔

افغان حکومت کا ناقابل برداشت رویہ

افغانستان میں ایک اور پاکستانی شہری کا این ڈی ایس کے ہاتھوں اغواہونا سنگین واقعہ ہے، سرکاری سطح پر اس طرح کے اقدامات سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہونا فطری امر ہوگا۔ مغوی ڈاکٹر وقار کے دوست نے جاد اوول پولیس اسٹیشن کومقدمہ کی درخواست کے باوجود پولیس کا انکار خود اپنے ہی قوانین کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ پاکستانی حکام کامعاملہ افغان وزارت خارجہ کیساتھ اٹھانا اور اپنے شہری کی بحفاظت بازیابی کیلئے افغان حکام کو72 گھنٹوں کا وقت دینا بروقت اقدام ہے۔ افغان سفارتخانے کا پاکستانیوں کو ویزے دینے سے انکاراور لیت ولعل کے بعد پاکستانی طالب علموں کا اغواء اور مقدمے کا عدم اندراج ایسے واقعات نہیں جن کو نظر انداز کیا جا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان حکام جان بوجھ کر پاکستان کو جوابی اقدامات پر مجبور کررہے ہیں تاکہ وہ اپنے شہریوں کی توجہ پاکستان کی طرف کر سکیں۔ افغانستان میں جہاں داخلی طور پر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات پراختلافات اور داخلی تشدد کے باعث عوام غیرمطمئن ہیں بلکہ افغان صدارتی انتخابات کے نتائج میں تاخیر اور بیک وقت دو دو تین تین امیدواروں کی جانب سے اپنی اپنی کامیابی کے اعلانات کے باعث بھی بے چینی کی فضا طاری ہے جس سے عوام کی توجہ ہٹانا ضروری ہے۔ قبل ازیں پاکستان پر افغانستان میں بے چینی اور عدم استحکام کا الزام لگانے کیلئے دھماکے کرانے کے الزامات کا سہارا لیا جاتا تھا جس کی گنجائش سر حد پر باڑلگا نے، آمدورفت کو دستاویزی بنانے اور سخت سرحدی حفاظتی اقدامات کے باعث اب نہیں رہی۔افغان حکومت پر واضح کردینا چاہیے کہ پاکستان اپنے شہریوں کو ہراسانی سے بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ پاکستان کو زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، افغانستان کیساتھ سرحد ہی چند دن کیلئے بند کردی جائے تو ان کے ہوش ٹھکانے آجائے۔

بچہ بغل میں ڈنڈھورا شہر میں

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کا خیبر پختونخوا سے بڑے پیمانے پر غیر قانونی طریقے سے سگریٹ اور تمباکو کی سمگلنگ میں ملوث کاروباری افراد اور سرکاری اہلکاروںکی نشاندہی کیلئے خفیہ ٹیم تشکیل اور غیر قانونی طریقہ سے سگریٹ اور تمباکو سمگل کرنے والے کمپنی مالکان اور اس میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے کے اقدامات کی اصابت سے انکار ممکن نہیں لیکن اگر اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو ان اقدامات کی حقیقت تجاہل عارفانہ سے زیادہ کچھ نہیں۔غیر قانونی سگریٹ کی تیاری وفروخت اور تمباکو کی سمگلنگ کوئی راز کی بات نہیں حال ہی میں ذرائع ابلاغ میں اس پر تفصیلی رپورٹ بھی شائع ہو چکی ہے۔ اس دھندے میں ملوث بااثر عناصر کی شہرت کوئی ڈھکی چھپی بات بھی نہیں ،اس کے باوجود عملی اور سخت اقدامات کی بجائے معلوم کا کھوج لگانے کیلئے خفیہ ٹیم کی تشکیل وقت کا ضیاع اور آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے۔ایف بی آر کی معلومات ایک عام آدمی سے تو یقینا زیادہ ہی ہوں گی اس کے باوجود بھی اگر خفیہ ٹیم تشکیل دی جاتی ہے اور نوشتہ دیوار نہیں پڑھا جاتا حقائق سے آنکھیں بند کر کے مفروضے تلاش کئے جائیں تو اس اقدام کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع ہی عبث ہوگی۔

متعلقہ خبریں