Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

امام العارفین جمال الدین الیافعی کی کتاب ''کفایتہ المعتقد'' میں مذکور ہے کہ شیخ عمرو بن الفارض مصر میں ایک مدرسہ کے افتتاح کے لئے پہنچے۔ آپ نے وہاں ایک مسجد میں دیکھا کہ ایک بوڑھا جو قوم کا بقال تھا' مسجد کے حوض پر خلاف قاعدہ وضو کر رہا ہے۔ آپ نے اس سے کہا: اے شیخ! آپ سن رسیدہ ہو کر اور ایسے شہر میں جہاں علماء کی کمی نہیں' باقاعدہ وضو نہیں سیکھ سکے؟ شیخ نے یہ سن کر کہا اے عمرو تم کو مصر میں فتح حاصل نہیں ہوگی ۔یہ سن کر آپ ان شیخ کے پاس جا بیٹھے اور کہنے لگے کہ حضرت یہ تو فرمائیے کہ مجھ کو فتح کہاں حاصل ہوگی؟شیخ نے جواب دیا مکہ مکرمہ میں۔ آپ نے پوچھا کہ مکہ مکرمہ کہاں ہے؟ شیخ موصوف نے ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ یہ ہے۔ چنانچہ شیخ کے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہی مکہ مکرمہ عمرو کے رو برو منکشف ہوگیا اور آپ آن کی آن میں اس میں داخل ہوگئے اور بارہ سال تک وہاں رہے۔ وہاں آپ کو بہت سی فتوحات روحانی حاصل ہوئیں اور آپ نے اپنا مشہور دیوان بھی وہیں تصنیف کیا۔

ایک مدت کے بعد آپ کے کان میں شیخ مصری کی آوازآئی۔ وہ آواز یہ تھی کہ شیخ مصری کہہ رہے ہیں: اے عمرو! یہاں آکر میری تجہیز و تکفین کا انتظام کرو۔ چنانچہ شیخ مصری کی یہ آواز سن کر آپ مصر پہنچے۔ شیخ نے آپ کو ایک دینار دیا اور کہا کہ اس سے میرا کفن وغیرہ خریدنا اور مجھ کو کفنا کر اس جگہ (ہاتھ سے قرافہ کے قبرستان کی جانب اشارہ کیا) رکھ دینا۔ اس کے بعد انتظار کرنا کہ کیا ہوتا ہے؟

شیخ عمر بن الفارض فرماتے ہیں کہ اس گفتگو کے کچھ دیر بعد شیخ بقال کی وفات ہوگئی اور میں نے ان کو نہلا کر اور کفناکر اس جگہ یعنی قرافہ میں رکھ دیا۔ کچھ دیر کے بعد آسمان سے ایک شخص نازل ہوا اور ہم دونوں نے مل کر ان کی نماز جنازہ ادا کی۔ اس کے بعد ہم انتظار کرتے رہے۔ کچھ دیر کے بعد یکایک پوری فضاء پر سبز رنگ کے پرندے منڈلانے لگے اور ان میں سے ایک بہت بڑا پرندہ نیچے اترا اور شیخ کی نعش کو نگل لیا اور پھر اڑ کر دوسرے پرندوںکے ساتھ مل کر نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔

شیخ بن الفارض کہتے ہیں کہ یہ منظر دیکھ کر مجھے بڑا تعجب ہوا۔ وہ صاحب جنہوں نے میرے ساتھ شیخ کی نماز جنازہ ادا کی تھی کہنے لگے کہ تعجب کی کوئی بات نہیں' حق تعالیٰ شہداء کی ارواح کو سبز پرندوں کے پوٹوں میں داخل کرکے جنت کے باغوں میں چھوڑ دیتے ہیں اور وہ جنت کے پھل وغیرہ کھاتے پھرتے ہیں اور رات کے وقت عرش کی قندیلوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ (حیات الحیوان' جلد دوم)

امام ثعلب کہتے ہیں کہ حضرت حسن بن سہل پریشان ہو جانے کے باوجود لوگوں کو کثرت کے ساتھ مال دیاکرتے تھے۔ اس پر میں نے ان سے کہا: اسراف یعنی زیادہ خرچ کرنے میں بھلائی نہیں۔

انہوں نے جواب دیا: بلکہ بھلائی میں اسراف ہوتا ہی نہیں۔ ان ہی الفاظ کو ترتیب بدل کر لوٹا دیا جس سے 'معنی سے بھرپور جملہ بن گیا۔

متعلقہ خبریں