Daily Mashriq

طبل جنگ

طبل جنگ

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے پنجاب میں داخل ہونے کے بعد مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اب طبل جنگ بج چکا ہے چنانچہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹایا جائے گا اب ایسا کرنا گناہ ہے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے باباگورو نانک یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں کسی کو این آر او نہیں دیں گے، آزادی مارچ والے بلیک میلنگ کر رہے ہیں لیکن وہ کان کھول کر سن لیں کہ وہ نہ تو بلیک میل ہوں گے اور نہ ہی این آر او دیںگے۔ یہ این آر او کی بات وزیراعظم عمران خان اقتدار سنبھالنے کے پہلے ہی روز سے دہرا رہے ہیں جو یکطرفہ ہے کیونکہ اب تک نہ تو حکومت بتا سکی ہے کہ این آر او کون مانگ رہا ہے اور نہ حزب اختلاف کی جانب سے ایسی کوئی خبر ملی ہے البتہ اپوزیشن حلقے کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ حکومت ان لوگوں کے نام آشکارہ کرے جو این آر او کے متمنی ہیں حکومت بھی نام بتا نہیں پارہی ہے کہ قوم کو معلوم ہوسکے کہ این آر او کا شیدائی کون ہے تاہم مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے حکومت میں ایک ہلچل ضرور مچی ہوئی ہے چنانچہ جب جمعیت العلمائے اسلام نے تیاریاں شروع کیں تو اس مارچ کو روکنے کیلئے حکومت کی جانب سے جن اقدام کا اعلان کیا گیا اور اس بارے میں جو قدم بڑھایا گیا اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یقینی طور پر حکومت کو آزادی مارچ کی فکر لگ گئی ہے، لیکن اس بارے میں حکومتی حلقوں کی جانب سے جو کچھ کیا گیا وہ خود تو حکومت کیلئے سودمند نہ رہا البتہ مزید اشتعال انگیزی کا باعث بنا ہے، مثلاً کنٹینر لگانے کا منصوبہ جبکہ عوام کو یاد ہے عمرانی دھرنے کے موقع پر نواز شریف حکومت نے ایسے ہی حربے استعمال کرنے کی سعی کی تھی مگر عدالت نے اس کے برعکس فیصلہ دیا جس سے پی ٹی آئی خوب محظوظ ہوئی۔ عدالتی فیصلہ ہنوز لاگو ہے اور حیرت تھی کہ عدالتی فیصلہ کی روشنی میں کنٹینر کی رکاوٹیں کیوں کر لگائی جا سکیں گے۔ بہرحال حکومت نے اس منصوبہ بندی کو ترک کرلیا، دوسری اشتعال انگیزی جے یو آئی کے ورکروں میں یوں پیدا کر دی گئی جب مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کر لیا گیا، مفتی کفایت اللہ آزادی مارچ کو منظم کرنے میں سب سے زیادہ متحرک تھے، پھر یہ کہ مولانا حمد اللہ کی پاکستانی شہریت ختم کر دی گئی وہ چھ مرتبہ پارلیمنٹ میں نمائندگی کر چکے ہیں وزیرکے عہدہ جلیلہ پر بھی فائز رہے ہیں۔ دنیا میں کسی کی بھی شہریت معطل یا ختم نہیں کی جاتی یہ حربہ انگریز کے دور میں ہندوستان میں استعمال کیا جاتا تھا کہ آزادی کے رہنماؤں کی شہریت ختم کر کے انہیں کالا پانی بھیج دیا جاتا تھا، برصغیر میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے۔ جہاں تک یہ امر ہے کہ آزادی مارچ سے اب تک حکومت متاثر ہوئی ہے یا نہیں، اس بارے میں رائے اس وقت قائم ہو پائے گی جب آزادی مارچ کا قافلہ اسلام آباد پہنچے گا جہاں مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ کنٹینر پر مسلم لیگ ن، پی پی پی، اے این پی اور جمعیت کی حمایت کرنے والی دیگر جماعتوں کے رہنما کھڑے نظر آئیں گے لیکن محسوس تو یہ ہوا کہ حکومت کو فکر لگ گئی ہے کیونکہ وزیراعظم لگاتار جمعیت کے دھرنے کیخلاف بیان دئیے جارہے ہیں حالانکہ عمرانی دھرنے کے موقع پر اس وقت نواز شریف نے کوئی زبان نہیںکھولی تھی، وہ اپنے وزیراعظم کے فرائض کی انجام دہی میں مصروف نظر آرہے تھے۔ علاوہ ازیں معیشت سے متعلق ایک عالمی سیمینار میں شرکت کیلئے وزیراعظم عمران خان کو سعودی عرب جانا تھا انہوں نے اپنا سعودی عرب کا یہ دورہ ملتوی کر دیا، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عمران خان نے اپنے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ کسی ملک کا دورہ وہ بھی سعودی عرب جیسے ملک کا دورہ ملتوی کیا ہے جبکہ بھارت کے وزیراعظم سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ بھارتی اور سعودی ذرائع کے مطابق توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک میں اربوں ڈالرز کے پراجیکٹ پر معاہدات طے پائیںگے۔ ان دنوں سعودی عرب پاکستان سے قربت میں کھسکا ہوا ہے اور بھارت کی قربت میں جلوہ نشین ہے، ان دنوں بھارت اور سعودی عرب کے مابین تعلقات عروج پر نظر آرہے ہیں۔ بھارت اپنی ضرورت کا سترہ فیصد تیل اور بتیس فیصد ایل پی جی سعودی عرب سے درآمد کرتا ہے اس طرح دونوں ممالک میں سالانہ ستائیس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی تجارت ہو رہی ہے جس میں سے تئیس ارب ڈالر کی تجارت پٹرولیم منصوعات کی مد میں ہو رہی ہے جبکہ سعودیہ کو بھارتی اشیاء کی برآمدات صرف پانچ ارب ڈالر کی ہیں۔ بھارت اس تفرقہ کو کافی حد تک کم کرنے کی سعی میں ہے علاوہ ازیںسعودیہ کو مغربی ممالک خاص طور پر امریکا، فرانس اور برطانیہ سے توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہو سکیں چنانچہ سعودیہ نے اپنی معاشی پالیسیوں میں تبدیلی کیلئے مغربی دنیا سے رخ موڑ کر مشرقی دنیا کی طرف کرنے کی سعی کی ہے چنانچہ صرف بھارت ہی نہیں بلکہ وہ بھارت، چین، جاپان اور کوریا کی طرف بھی سرمایہ کاری کیلئے قدم بڑھانا چاہتا ہے علاوہ ازیں بھارت سعودی سرمایہ کاری سے بھارت میں تیل کا بہت بڑا ذخیرہ کرنے کے پراجیکٹ کی تکمیل چاہتا ہے کیونکہ بھارت کی خواہش ہے کہ اگر تیل مہنگا ہو جائے یا کسی اور وجہ سے بھارت کیلئے تیل کی خریداری ممکن نہ رہے تو اس کے پاس تین سال تک کیلئے ملک کی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے ذخائر موجود ہونا چاہئیں۔ اگر دیکھا جائے تو بھارت تیزی سے معاشی ترقی کے منصوبوں کی جانب قدم بڑھانا چاہتا ہے بھارت کے اسی طرح جاپان اور جنوبی کوریا کیساتھ تعلقات آراستہ ہیں اور آپس میں سرمایہ کاری کے منصوبے بھی ہیں جن پر کام بھی ہو رہا ہے، یہاں ایک بات لازمی سمجھنے کی ہے کہ کسی بھی معاشی اور اقتصادی ترقی کیلئے اس خطے میں سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہوتی ہے، نریندر مودی کو بھی اپوزیشن کا سامنا ہے، لیکن مودی نے خود کو کنٹینر کا سیاستدان نہیں بنا رکھا ہے حالانکہ اس کو ایک مضبوط حزب اختلاف کا مقابلہ ہے اور وہ پھر بھی سعودی عرب کے دورے پر پہنچے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں