Daily Mashriq

ہمارا نظام اپنے جوبن پر

ہمارا نظام اپنے جوبن پر

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے ساہیوال واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو عدم شواہد کی بنیاد پر چھوڑ دینے کے فیصلے کو اپنے نظام کا نقص سمجھنا بے کار ہے۔ ہمارا نظام ٹھیک اسی طرح کام کر رہا ہے جیسا کہ اسے کرنے کو بنایا گیا ہے۔ ہمارا نظام ترتیب ہی ایسا دیا گیا ہے کہ یہاں ریاست کو شہریوںکا قصوروار نہ ٹھہرایا جا سکے۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے کچھ شہریوں نے ریاست کیخلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے اور ایسی جنگ کے دوران ریاست کو خود کو بچانے اور اپنے اقتدار اعلیٰ کسی طور بھی کمزور نہ ہونے دینے کیلئے کئی ایسے طریقے بھی استعمال کرتی ہے جو عام طور پر قابل اعتراض ہوتے ہیں مگر ایسے طریقوں کے استعمال کے دوران معصوم شہریوں کی ہلاکت وہ قیمت ہے جو ریاست اور نظام بہت آسانی سے قبول کر لیتا ہے۔

ہمارے ہاں دہشتگردوں کے قلع قمع کیلئے حساس معلومات کی بنیاد پر آپریشنز کئے جاتے ہیں۔ پنجاب میں ان آپریشنز کا سہرا سی ٹی ڈی کو جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک آپریشن میں ملک اسحاق کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے مگر ان کی ہلاکت پر آنسو بہانے والا کوئی نہ تھا۔ ہمارے ہاں مشتبہ افراد پر مکمل قانونی کارروائی کے بغیر ہاتھ ڈالنا اور گمراہ کن معلومات اور سرکاری اہلکاروں کے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے بے گناہ لوگوں کو ہدف بنانا معمول بن چکا ہے۔ یہ اقدامات نظام سے بڑی غلطیاں کروا بیٹھتے ہیں اور ساہیوال واقعہ ایسی ہی ایک غلطی تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ریاست ایسی صورتحال میں کیا کرے؟ کیا چند اہلکاروں کو غلط معلومات ملنے کی بناء پر یہ سارا پراجیکٹ ہی قالین کے نیچے سرکا دیا جائے؟ اس سے دنیا کو کیا پیغام جائے گا؟ آئندہ اگر حکام کو ملک اسحاق کے انکاؤنٹر جیسی کسی اور کارروائی کا حکم ملا تو انہیں پہلے قانونی تقاضے پوری کرنے کی فکر لاحق ہو جائے گی اور وہ کچھ بھی کرنے سے قبل اس خوف کا شکار رہیں گے کہ انہی کے کچھ ساتھیوں کو غلط معلومات کی بنا پر کارروائی کرنے کی ضمن میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ کیا ایسی کارروائیوں کی قانونی نوعیت اور جائز وناجائز کی بحث ان معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانے میں رکاوٹ نہ بنے گی؟

ساہیوال واقعہ ہماری ریاست کی جانب سے وضح کردہ نظام کا ایک ان چاہا نتیجہ ہے۔ جب وزیراعظم نے اس واقعے میں ملوث لوگوں کو سزا دلوانے کے بابت ٹویٹ کیا تھا تو شاید انہیں اس وقت یہ نہیں بتایا گیا کہ نظام سے سرزد ہونے والی غلطیوں پر پردہ ڈالنا ریاست کی مجبوری بن جاتا ہے۔ آپ ساہیوال واقعے پر غور کریں، یہاں بچوں کے سامنے ان کے والدین کو قتل کیا گیا۔ مقتولین کے خاندان نے اقرار کیا کہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور تفتیش کے دوران گواہان اپنے گواہیوں سے مکر گئے اور عینی شاہدین نے شناخت پریڈ میں شمولیت سے معذرت کر لی۔ درحقیقت جو ریاست سی ٹی ڈی فورس کے پیچھے کارفرما تھی وہی اس کیس کی تفتیش کرنے، شواہد اکھٹے کرنے اور ملزمان کو سزا دینے کی مختار بھی تھی سو اگر اس نے متاثرین کی بجائے اپنا آپ محفوظ کرا لیا تو اس میں ایسے اچھنبے کی کیا بات ہے؟ ایک وقت تھا جب شہریوں میں گمشدہ افراد کے معاملے پر خاصی پریشانی پائی جاتی تھی۔ سبھی اس بات پر متفق تھے کہ کسی کو بھی ایسے بغیر کسی الزام یا قانونی کارروائی کے اُٹھا لینا غیرقانونی ہے اور نظام نے اس مسئلے کا حل ایسے نکالا کہ پی پی اور اے این پی نے ایکشن ان ایڈ آف سول ریگولیشنز برائے فاٹا اور پاٹا کے تحت کسی بھی فرد کو بلاجواز اور غیرمعینہ مدت کیلئے تحویل میں لینے کو قانونی حیثیت دیدی۔ البتہ اب یہ دونوں حکومتیں پی ٹی آئی کی جانب سے ایسے ہی ایک قانون کی مخالفت کر رہی ہیں۔

سپریم کورٹ نے پشاور حکومت کی جانب سے کے پی حکومت کے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کے صدارتی حکم نامے کوغیرآئینی قرار دینے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا۔ اس حوالے سے ایک لارجر بنچ تشکیل کیا جا چکا ہے۔ آخری مرتبہ عدالت کی جانب سے شہریوں کے بنیادی حقوق کے متعلق ریاست کے اختیار کے حوالے سے اس وقت فیصلہ دیا گیا تھا جب ملٹری کورٹس قیام میں آرہی تھیں۔ سپریم کورٹ کو یہ یقین دلایا گیا تھا کہ فوجی عدالتیں وقت کی اہم ضرورت ہیں اور اب جبکہ فوجی عدالتیں ختم ہو چکی ہیں اور فاٹا اور پاٹا پختونخوا کا حصہ بن چکے ہیں سو اب ریاست کو اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کیلئے کے پی میں ایک صدارتی حکم نامے کی ضرورت تھی اور اب سپریم کورٹ کو یہ یقین دلایا جائے گا کہ اگر یہ صدارتی حکم نامہ اور تحویل خانے برقرار نہ رکھے گئے قیامت آجائے گی۔ اس مارچ کو سیکورٹی کیلئے بھی خطرہ گردانا جا رہا ہے۔ بلاشبہ یہ مارچ ماضی میں کئے جانے والے دھرنوں کا ان چاہا نتیجہ ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس ضمن میں بھی ہم گڈ دھرنا، بیڈ دھرنا پالیسی دیکھنے لگیں گے۔ نظام غلطیاں کرتا ہے مگر ان کے پاس اپنی غلطیاں درست کرنے اور دہرانے سے بچنے کیلئے طریقہ کار موجود ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں ایک بیمار نظام کام کر رہا ہے، یہ خود ہی اپنے اصلاح کاروں کے خاتمے کا سبب بن جاتا ہے۔ کوئی بھی شے جو ہمیں باطن بینی پر مائل کرے، ہمارے نزدیک ایک غلطی گردانی جاتی ہے۔ یہاں مسائل کو سلجھانے کی بجائے اُلجھانے کی روش قائم ہے۔ ان تمام مسائل کا حل نظام کی اصلاح میں ہے، اصلاح کی صورت میں یہ ہمیں وہ نتائج دے سکتا ہے جس کے ہم خواہاں ہیں مگر اس اصلاح کا آغاز ہی کیسے ہو جب یہاں مقتدر اور طاقت ور نظام ہر اس کوشش کو تہس نہس کر دیتا ہے جو یہاں اصلاح اور احتساب کی کوئی بھی روایت کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔

(بشکریہ دی نیوز، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں