Daily Mashriq

بجلی ندارد بل اضافی، ہوائی فائرنگ اور دیگر مسائل

بجلی ندارد بل اضافی، ہوائی فائرنگ اور دیگر مسائل

ملک میں سیاست اور موسم گرم ہو یا سرد، موسم اور سیاست دونوں کے عوام کی زندگی پر اثرات تو بہت مرتب ہوتے ہیں لیکن کم ہی لوگ ان اثرات سے واقف اور متاثر ہوتے ہیں۔ ایک عام آدمی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ بساط بھر محنت اور جدوجہد کر کے بچوں کو پالے، ان کو تعلیم دے اور اگر حالات نے اجازت دی تو کوئی سائیباں بنا دے اور بس۔ عام آدمی کی زندگی اسی جدوجہد میں گزر جاتی ہے۔ سیاست دوراں بھی آنے جانے والی چیز ہے اور موسم بھی۔ ملک میں جاری سیاسی مد وجزر سے بے نیاز یا پھر بیزار ہمارے قارئین کے ملنے والے برقی پیغامات سے ایک مرتبہ پھر اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کے مسائل طویل عرصے سے چلے آرہے ہیں اور آگے بھی ان کے حل کی کوئی خاص اُمید نہیں۔ ملک میں تقریباً ہر سیاسی جماعت کسی نہ کسی صورت میں اقتدار میں اور شریک اقتدار رہی ہے، اقتدار سے قبل کے انقلابی ہوں یا اسلامی، کرسی ملنے پر کرسی ہی کے ہوکر رہ جاتے ہیں عوام کی یاد حکومت لینے یا حکومت گرانے کی کوشش ہی کے دوران آتی ہے۔بنوں سے ہمارے قاری حامد خان نے بجلی کی طویل بندش اور مکمل غائب ہو جانے کی شکایت کی ہے۔ ان کا سوال ہے کہ شہر والے طویل دورانئے کی بندش کے باوجود بل پورا دیتے ہیں، مضافات والے کنڈے ڈال کر مفت کی بجلی حاصل کرتے ہیں اور بل تو ان سے وصول نہیں ہوتا، آخر شہری علاقوں والے کب تک اس عذاب سے گزرتے رہیں؟ یہ صرف بنوں ہی کا مسئلہ نہیں صوبائی دارالحکومت پشاور کے جن فیڈرز سے دیہی اور شہری علاقوں دونوں کیلئے مشترکہ بجلی آتی ہے، وہاں پر بھی یہی صورتحال ہے جو فیڈرز صرف اور صرف شہری اور بل وصولی والے علاقوں میں ہیں وہاں کے مکینوں کو لوڈشیڈنگ کی شکایت نہیں۔ یہ صارفین سے ناانصافی ضرور ہے لیکن خود محکمہ بجلی والے بھی کیا کریں یہ مسئلہ سرکاری سے زیادہ عوامی ہے اور تب تک رہے گا جب تک عوام اپنی اصلاح نہ کریں یا پھر حکومت اتنی طاقتور ہوجائے کہ کوئی بھی بل دیئے بغیر بجلی استعمال نہ کر سکے۔جان دراز خان میراخیل بنوں نے ہوائی فائرنگ کا ایک آسان حل بتایا ہے کہ مٹی سے دیوار بنا دی جائے اور لوگ اس پر فائرنگ کر کے اپنا شوق پورا کریں۔ ہوائی فائرنگ سے معصوم جانیں چلی جاتی ہیں، کوئی ایسی سوچ رکھے اور زحمت کر کے نشانہ پکا کرے تو قابل قبول بات ہے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کوئی ہتھیار رکھے ہی کیوں؟ اگر خودحفاظتی کیلئے کوئی قانونی اسلحہ رکھتا ہے تو اس سے تو مٹی کی کچی دیوار کو تختہ مشق بنانے کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن اگر کسی کے پاس غیرقانونی اسلحہ ہو تو جس طرح کوئی شخص اپنی مرضی پر اسلحہ رکھ سکتا ہے اس کا استعمال بھی وہ سوچ سمجھ کر کم ہی کرے گا۔ میرے خیال میں علاقہ پولیس چاہے تو غیرقانونی اسلحہ آزادانہ طور پر رکھنا ممکن نہ ہوگا جبکہ ہوائی فائرنگ ایک واضح اور علی الاعلان فعل ہے جس پر اگر پولیس موقع پر نہ پہنچ پائے تو بھی دوسرے تیسرے دن اطلاع ملنے پر سخت کارروائی کر سکتی ہے جس سے ہوائی فائرنگ کی لعنت کی روک تھام ممکن ہے۔ ہوائی فائرنگ پر قتل خطا کا نہیں قتل عمل کا مقدمہ درج ہونا چاہئے اور اس کی روک تھام کیلئے مزید سخت قوانین بنانے اور اس پر عملدرآمد میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے۔خیبر پختونخوا کے گاؤں کے پشتو نام رومن میں لکھے ملے تو مجھ جیسے پشتو سے نابلد سے گاؤں کا نام زیادہ درست لکھنے کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ بہرحال جمال آباد دیلی زریں کلے میں آبنوشی، بجلی، مرکزصحت اور سکول نہ ہونے کی شکایت آئی ہے۔ گاؤں کتنا بڑا ہے اورگاؤں سے کتنی دور یہ سہولتیں موجود ہیں اس کا علم نہیں البتہ بجلی اور آبنوشی ہر گھر کی نہیں ہر فرد کی ضرورت ہے جس سے کسی کو محروم رکھنا حکومت کی نااہلی اور حکمرانوں کا ذمہ داریوں سے احتراز کے زمرے میں آتا ہے۔ ان دو سہولیات کا تو جلد سے جلد انتظام ہونا چاہئے۔ سکول اور مرکز صحت اگر بہت ہی دور واقع ہیں توگاؤں میں یا گاؤںکے نزدیک ان سہولتوں کی فراہمی بھی ضروری اور حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔ ایسے ہی پیغامات درجنوں میں آتے ہیں اسلئے تمام حکومتی نمائندوں سے گزارش ہے کہ وہ عوام کو ان سہولیات کی فراہمی کی جدوجہد تیز کریں۔ اس جدید دور میں عوام اگر زندگی گزارنے کی بنیادی سہولتوں کو ہی ترسیں تو کیا اچھی حکمرانی، کیا تبدیلی اور کیا ریاست مدینہ کی مثالیں۔رحمان علی شاہ نے بونیر پیر بابا سے برقی پیغام میں کہا ہے کہ یہاں این ٹی ایس کے ذریعے اسامیوں کے امتحان میں کامیابی پانچ لاکھ اور تین لاکھ روپے دیکر حاصل کرنے اور ملازمت لینے کی مثالیں موجود ہیں۔ اس موضوع پر باربار لکھا جا چکا ہے، این ٹی ایس کے امتحانات شکایت پر منسوخ بھی ہو چکے ہیں اُمید ہے آئندہ اس کا تدارک ہوگا۔برقی پیغام کے مطابق منڈا سے باجوڑ تک سڑک کی حالت بہت خراب ہے، دوسرا یہ کہ منڈا بازار سے زرعی کھاد کی ایک دو بوریاں لے جانے پر اب بھی پابندی ہے جس سے علاقے کے کسان سخت مشکل میں ہے۔ فصل اُگتی نہیں یا پھر پیداوار اچھی نہیں ہوتی۔ سڑک کی حالت زار حکمرانوں کیلئے کوئی پوشیدہ مسئلہ نہیں ہے۔ اپنی آرام دہ گاڑیوں میں گزرتے ہوئے ایک نظر سڑک کی خستہ حالی پر بھی ڈال دی جائے تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ کسانوں کو محدود پیمانے پر اور اپنی ضرورت کے مطابق کیمیاوی کھاد سے محروم رکھنا سمجھ سے بالاتر امر ہے۔ عجیب بات ہے جو قانون میں ممنوع نہ ہو اس کی بھی ممانعت ہوتی ہے۔ رہا کھاد سے بارود اور دھماکہ خیزمواد کی تیاری کا معاملہ اولاً حالات کافی بہتر ہیں، دوم اس کی روک تھام انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ قانونی طور پر کھاد کے حصول کی ممانعت ہے اور دھماکہ خیز مواد تیار کرنے والوں کو پھر بھی وافر مقدار میں دستیاب ہے این چہ بوالعجبی است۔

قارئین اپنے مسائل 03379750639پر میسج کرسکتے ہیں

متعلقہ خبریں