Daily Mashriq

غصہ آخر ناک پر کیوں؟

غصہ آخر ناک پر کیوں؟

شمال مغربی سرحدی صوبہ' خیبر پختونخوا کے دل اور دارلخلافہ پشاور میں بھی کئی دوسرے شہروں کی طرح بڑے بڑے ہولڈنگ لگے ہیں اور سرکاری وغیرسرکاری اداروں کی پیشانی پر طرح طرح کے سلوگن بھی نمایاں ہیں، ان میں جہاں ایک عمارت پر لکھا ہے کہ ''عبادت کی قضا ہے خدمت کی نہیں'' یہاں کی کئی اور باتوں کیساتھ ساتھ ہمارے صوبہ کے سب سے پرانے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکندڑی ایجوکیشن پشاور کے دروازے پر لکھا ہے ''ضبط غصہ عقل مندی، تحمل باعث رضائے الہٰی''۔ بے شک غصہ کرنا اسلام میں حرام ہے مگر غصہ پی جانے کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔ غصہ پی جانے والے کے درجات بہت بلند ہوتے ہیں لیکن یہاں تو گویا لوگ غصہ کو ضبط کرنا ہی بھول گئے ہیں۔ ہر بات پر تماشا کھڑا کردیتے ہیں، کبھی کبھی لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ آخر تماشا ہی کیوں لکھتے ہیں، اب ہم کسی کو پوری طرح سمجھا بھی نہیں سکتے، بس اس بات پر اکتفا کرتے ہیں کہ دنیا میں ہر روز تماشے ہی ہوتے رہتے ہیں پس میں ان کو ہی قلمبند کرتا رہتا ہوں۔ اکثر اوقات تو لوگ سیدھی سی بات کا بھی تماشا بنا دیتے ہیں۔ ضبط غصہ تو گویا ناپید ہوتا جا رہا ہے، اس میں جہاں دیگر کئی وجوہات ہیں ان میں ملک کے حالات بھی ہیں جن میں بیروزگاری اور مہنگائی نمایاں ہیں۔ وطن عزیز میں جو حالات جا رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہر ایک محب وطن شہری کا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کیا ہوا اس قوم کو جو دشمن کیلئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار تھی اور اپنے مسلمان بھائیوں کیلئے جس کا صبر تحمل اور ایثار پوری دنیا کیلئے مثال سے کم نہ تھا مگر آج ہمارے پیارے وطن کا ہر شخص انتہائی پریشان اور ہر چیز سے نالاں ہے، بھائی بھائی کا دشمن ہوگیا ہے، ایک تو بیرونی طاقتیں ہمارے اتحاد ویگانگت کے درپے ہیں تو دوسرا ہمارا اپنا تحمل ہم سے بھولتا جارہا ہے۔ ہر بات پر اور بات بات پر غصہ تو جیسے ہماری ناک پر پڑا ہے۔ ذرا کسی کوئی بات ہوئی نہیں اور ایک بھائی نے دوسرے مسلمان بھائی کو گولیوں سے بھونا نہیں۔ یوں تو ہر روز تمام کے تمام اخبارات قتل اور خون ریزی سے بھرے ہوتے ہیں اور ان میں اگر غور کیا جائے تو ابتداء ہمیشہ چھوٹی سی بات سے ہوتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ بات بڑھتی جاتی ہے۔ تلخی بڑھتی جاتی ہے اور آخر بات خون خرابے پر پہنچ جاتی ہے لیکن اگر اسے ابتداء ہی میں سنبھال لیں تو ہر طرف امن ہی امن رہے، ہمارے وطن کی ہر گلی ہر کوچہ ہر گاؤں ہر شہر امن کا گہوارہ بن جائے۔

غصہ کو برداشت نہ کرنے کی کئی خبریں ہمارے نظروں کے سامنے آتی ہیں۔ آپ بھی میری طرح اخبار تو ہر روز صبح پڑھتے ہیں اور ہر روز نظر ان خبروں پر پڑتی ہے کہ ''مقروض نے رقم کے تقاضہ کرنے والے دوست نے دوست پر فائر کھول دیا''۔ یہاں اگر اسلام کے شاندار قوانین پر عمل کیا جاتا تو لڑائی جھگڑے کی نوبت ہی نہ آئے کہ جب آپس میں لین دین کریں تو لکھ لیا کریں، اس لکھی ہوئی دستاویز کو سنبھال کر رکھیں اور جب ضرورت پڑے یا بحث وتکرار ہو بھی جائے تب بھی کوئی پروا نہیں چند لمحے لگیں گے اور تحریری دستاویز دیکھنے پر فیصلہ کر دیا جائیگا،لیکن ہمارے ہاں ایک بہت ہی غلط رسم موجود ہے، ایک دوست یا کاروباری دوسرے کو کہتا کہ ٹھیک ہے جی لکھتے نہیں ہمیں آپ پر اعتبار ہے،لیکن پھر یہی جگری دوست پھر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں اور رقم کے تقاضے پر ایک دوسرے کو مار دیا جاتا ہے۔ پھر ایک معمولی سی رقم کی خاطر ایک قیمتی جان چلی جاتی ہے، ایک دوست تو قتل ہوجاتا ہے اور دوسرا دوست ساری عمر جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی کاٹتا ہے، یہاں ایک اور ننگا سچ بتاتے چلیں گے کہ اس ایک چھوٹی سی رقم کے جھگڑے کے بعد تھانہ اور عدالت کے چکر میں اصل رقم کے کئی گنا زیادہ رقم لگ جانے کے بعد بھی اگر صلح ہو جائے تو پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا ہے۔ بات یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتی بلکہ یہ خبر بھی آپ کی نظر سے گزری ہی ہوگی کہ کالے شیشے اتارنے پر مشتعل ڈرائیور نے پولیس اہلکار کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل دیا، وطن عزیز میں ٹریفک کے مسائل تو ہیں ہی اور کسی ایک شہر یا ایک صوبہ کے نہیں بلکہ پورے پاکستان اور سارے کے سارے شہروں میں ہر طرف بے ہنگم ٹریفک موجود ہے۔ کالے شیشے لگانے کے جرم میں پکڑے بھی گئے تو ہمارے ٹریفک کے اہلکار نے انہیں جیل جانے کو تھوڑا ہی کہا بلکہ صرف یہی درخواست کی کہ کالے شیشوں کی قانون اجازت نہیں دیتا مگر اس نے گاڑی ہمارے بے چارے ٹریفک اہلکار پر چڑھا دی۔ ایسے میں اگر ٹریفک اہلکار کچھ کر دیتا تو اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی جاتی اور یوں پورے ملک کی پولیس کو برا بھلا کہا جاتا۔ عام زندگی میں تو کیا اب تو سوشل میڈیا پر بھی بھرپور غصہ نکالا جاتا ہے اور اکثر اوقات سوچے سمجھے بغیر ہی غصہ نکال دیا جاتا ہے اور پھر بعد میں معافی مانگ کر جان چھڑوا لیتے ہیں۔ ہم تو آخر میں صرف یہی کہیں گے، غصہ تو گویا ہر ایک کی ناک پر پڑا ہے اور جب چاہا ناک گمائی اور کسی غریب وبے کس کو ناکوں چنے چبوا دیئے، خدا ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے اور اس کی رضا کے مطابق زندگی بتانے کی ہمت دے، غصہ کو ضبط کرنے کی صلاحیت دے، آمین۔

متعلقہ خبریں