Daily Mashriq

عالمی مفادات کا بلیک ہول

عالمی مفادات کا بلیک ہول

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہایت فاتحانہ انداز میں شام میں ایک فوجی آپریشن کے دوران دولت اسلامیہ عراق اور شام (داعش) کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ شام میں ہونیوالے اس آپریشن کی اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے ایبٹ آباد آپریشن کی طرز پر تشہیر کی گئی۔ اوباما کی طرح ٹرمپ نے بھی اپنے ساتھیوں کیساتھ وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں شام میں ہونیوالے آپریشن کا لمحہ بہ لمحہ نظارہ کیا اور یہ ظاہر ہے کہ یہ اطمینان ہونے کے بعد کہ ابوبکر البغدادی اس آپریشن میں ہلاک ہوگئے ہیں ٹرمپ نے اسامہ آپریشن طرز پر فتح کا نقارہ بجا دیا۔ ٹرمپ کی طرف سے باضابطہ اعلان ہونا تھا کہ عالمی راہنماؤں کی طرف سے اس کامیابی پر مبارکباد کے پیغامات جاری ہونا شروع ہوگئے اور اسے دہشت گردی کیخلاف جنگ کے سفر کا ایک اہم سنگ میل قرار دیا جانے لگا۔ برطانیہ، جاپان، فرانس، اسرائیل، بحرین اور ترکی نے اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جبکہ روس کا تبصرہ روکھا پھیکا تھا یعنی یہ کہ اس خبر کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ سب سے دلچسپ تبصرہ ایران کے وزیراطلاعات نے کیا جنہوں نے صدر ٹرمپ کے فاتحانہ ٹویٹ کو اس تبصرے کیساتھ ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ''البغدادی کی کامیابی کوئی کارنامہ نہیں آپ نے اپنی تخلیق کو خود ہی ختم کیا''۔ ایران ہمیشہ سے یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ امریکہ نے اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے داعش کو بنایا بھی ہے اور اسے استعمال بھی کر رہا ہے۔ یہ محض الزام نہیں بلکہ کئی مواقع اور مقامات پر اس بات کی تصدیق ہوتی رہی کہ داعش کی کارروائیاں مسلمان دنیا کو غیرمستحکم کرنے کیلئے بطور سہارا استعمال ہو رہی ہیں۔ عراق اور شام سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کرنے والی یہ تنظیم اپنی عسکری کارروائیوں میں شدت اور وحشت کی قائل تھی اور تنظیم نے رونگٹھے کھڑے کر دینے والی کارروائیاں کر کے وحشت کو ایک نیا انداز دیا۔ یہ تنظیم اپنے اثرات اب عراق وشام سے باہر مرتب کرنے جا رہی تھی۔ افغانستان، پاکستان اور کشمیر اور بھارت تک اس کے قدموں کی چاپ سنائی دینے لگی تھی۔ بالعموم سرد جنگ کے بعد اور بالخصوص نائن الیون کے بعد دنیا حالات واقعات اور مقاصد اور مفادات کا ایک ''بلیک ہول'' بن کر رہ گئی۔ اس بلیک ہول میں کیا ہورہا ہے؟ کیوں ہورہا ہے؟ کون کر رہا ہے؟ ان سوالوں کا دوٹوک جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ دہشتگردی دہشتگردی کا شور محشر برپا تھا کہ جس میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی یا دہشتگردی کے نام پر گرد وغبار کا ایسا طوفان برپا تھا جس میں اصل کرداروں کے چہرے شناخت کرنا ممکن نہیں تھا۔ تیل کی دولت سے مالامال عرب دنیا کو صدام حسین کے نام پر دوبار ادھیڑ دیا گیا۔ ایک بار صدام حسین کے نام پر تو دوسری بار صدام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلاش کے نام پر اس ملک کے بخئے ادھیڑ دئیے گئے۔ کچھ کام القاعدہ اور اسامہ بن لادن کے نام پر ہوا اور القاعدہ کے خاتمے کا اعلان کیا جارہا تھا کہ اس راکھ سے داعش کا نیا جنم ہو رہا تھا۔ اس طرح سایوں کے تعاقب کا عمل جاری تھا۔ باقی کسر عرب سپرنگ کے نام پر جمہوریت کا سودا بیچنے کی صورت میں پوری کر دی گئی۔ اس سپرنگ میں حسنی مبارک اور معمرقذافی جیسے مضبوط حکمران تنکوں کی صورت بہہ گئے۔ عرب دنیا عدم استحکام کی طرف مزید لڑھکتی چلی گئی۔ عرب سپرنگ کی کوکھ سے شام کے بحران نے جنم لیا اور خانہ جنگی نے اس تاریخی ملک کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ یمن کا بحران بھی اسی گود میں پل کر جوان ہوا۔ داعش کے قدم عرب دنیا سے باہر نکلنے کو تیار تھے، افغانستان کے راستے پاکستان میں داخلے کا مطلب ایک نئی تباہی وبربادی تھا۔ افغانستان میں تو طالبان کے مقابلے کیلئے داعش کا مضبوط کرنے کا عمل شروع ہو چکا تھا اور گھر کے بھیدی حامد کرزئی نے امریکی ہیلی کاپٹروں میں داعش کے ارکان کی ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقلی کا الزام کھلے بندوں عائد کیا تھا۔ کشمیر میں تو داعش کے بینر لہرائے جا رہے تھے اور نوجوانوں کو اس جانب مائل کرنے کی کوششیں زوروں پر تھیں۔ بھارت میں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا تھا۔ اس کا مطلب ان لوگوں پر ایک نئی اُفتاد تھا۔ پاکستان نے اس کھیل کو پہلے ہی سمجھ لیا تھا اسی لئے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کئی بار دوٹوک انداز میں کہا تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر داعش کا سایہ بھی نہیں پڑنے دینگے۔ سرد جنگ کے بعد سوویت یونین کا خطرہ ختم ہوجانے کے بعد مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہتا رہا اور تیل پر عالمی مہربانوں کا تصرف ہوتا رہا جیسا کہ اب عراق میں امریکی فوجیوں پر تیل کی چوری کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ بیتے ہوئے ماہ وسال میں بڑی طاقتوں کا کھیل پوری قوت سے جاری رہا اس کھیل کو دہشتگردی کیخلاف جنگ کا نام دیا گیا۔ دہشتگردی اور اس کے خاتمے کے نام پر پوشیدہ مقاصد اور مفادات کی ایک ایسی کھچڑی پکتی رہی کہ جس کی تہ میں جھانکنا کسی کیلئے ممکن نہ رہا۔ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کو اوباما نے اپنے سیاسی اور انتخابی مقاصد کیلئے استعمال کیا اب لگتا ہے کہ البغدادی کی ہلاکت سے یہی کام ٹرمپ لینے جا رہا ہے۔ بڑی طاقتوں کے کھیل بھی بڑے اور عجیب ہوتے ہیں۔ پوشیدہ مقاصد کیلئے پراسرار کردار تراشے جاتے ہیں اور پھر ان مقاصد کی تکمیل یا تبدیلی کے بعد اپنے ہی تراشیدہ کردار مٹائے جاتے ہیں۔ وینزویلا میں شاویز کیخلاف مدتوں پہلے ناکام بغاوت تو اس لحاظ سے دلچسپ ٹھہری تھی کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے پوچھا گیا کہ امریکی حمایت یافتہ بغاوت ناکام کیوں ہوئی تو جواب تھا کہ پنٹاگون نے بغاوت کو ناکام بنانے کیلئے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے زیادہ سرمایہ لگایا تھا۔

متعلقہ خبریں