Daily Mashriq

عقابوں پر تحقیق، روسی ماہرین کو لینے کے دینے پڑ گئے

عقابوں پر تحقیق، روسی ماہرین کو لینے کے دینے پڑ گئے

ماسکو: چیلوں (عقابوں) کے ذریعے اُن پر  تحقیق کرنا روسی ماہرین کو  مہنگا پڑ گیا کیونکہ انہیں اب رومنگ کا بھاری بل ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی محققین نے عقابوں کے پروں پر انٹرنیٹ ٹرانسمٹرز لگائے تاکہ وہ مختلف پہلوؤں پر تحقیق کرسکیں البتہ یہ منصوبہ اُس وقت مشکلات کا شکار ہوا جب مذکورہ عقاب پاکستان اور ایران کی فضاؤں میں داخل ہوئے۔

روسی ماہرین کے مطابق عقابوں پر لگی انٹرنیٹ ڈیوائسز کی وجہ سے انہیں ڈیٹا رومنگ کے مہنگے بل ادا کرنا پڑ رہے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے وہ ایس ایم ایس مسلسل بھیجے جارہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عقاب موسمی کی تبدیلی کے باعث جنوبی روس اور قازقستان سے اڑھ کر پاکستان اور ایران کی طرف روانہ ہوگئے۔

تحقیق کے لیے استعمال ہونے والا من نامی عقاب جب قازقستان پہنچا تو ڈیوائس نے ایس ایم ایس کرنا شروع کردیے البتہ نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے یہ سینڈ تو نہ ہوئے مگر جیسے ہی سیٹلائٹ سے سگنل ملے تو تمام ایس ایم ایس ماہرین کو موصول ہوئے۔

ماہرین کے مطابق اب انہیں بل ایران اور قازقستان کے حساب سے ادا کرنا پڑے گا جس کی رقم تقریباً دگنی بنتی ہے۔ محققین کہتے ہیں کہ عقابوں کے جانے کی وجہ سے انہیں یہ منصوبہ بہت زیادہ مہنگا پڑ گیا۔

روسی ماہرین سے مطابق انہیں قازقستان اور ایران سے روس موصول ہونے والے ایک ایس ایم ایس کے بالترتیب 15 اور 49 روبل ادا کرنا ہوں گے۔ ٹیم نے اصل میں تمام عقابوں سے موصول ہونے والے الیکٹرانک ڈیٹا کے لیے مخصوص رقم مختص کی ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں