آرمی چیف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا نوجوانوں کو ایک نصیحت

آرمی چیف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا نوجوانوں کو ایک نصیحت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک کا بلوچستان کے طالب علموں سے الگ الگ ملاقاتوں میں ایک ہی نصیحت اور مشورہ کہ تعلیم ہی ترقی اور آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ بری فوج کے سربراہ اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کا مشورہ اور نصیحت صرف بلوچستان کے نوجوان طلبہ ہی کیلئے درست سمت رہنمائی اور مشعل راہ نہیں بلکہ اس حقیقت پر مبنی نصیحت کو ملک کے ہر نوجوان کو اچھی طرح ذہن نشین کر کے اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ طالبات کو بھی اس مشورے اور رہنمائی کو پلو میں باندھ لینا چاہیئے ۔ ہمارے ملک کی اکثریتی آبادی کم آمدنی اور اوسط درجے کی آمدنی پر مشتمل ہے کم آمدنی کی حامل پست متوسط طبقہ اور متوسطہ دونوں کے پاس سوائے تعلیم کے ذریعے آگے بڑھنے کا کوئی موقع اور طریقہ نہیں جہاں بالکل ہی غربت ولا چارگی ہو وہاں تعلیم کا حصول ہی ممکن نہیں اور نہ ہی اس طبقے کو تعلیم کی سہولیات میسر ہوتے ہیں اگر کہیں اتفاق سے کوئی سہولت مل گئی اور اس سے فائدہ اٹھایا گیا تو یہ ایک استشنائی صورت ہوگی وگر نہ تھر ہو یا پنجاب و بلوچستان کے دور دراز کے دیہات یا خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے دور افتادہ علاقے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے دیہاتی سرحدی علاقے یہاں کے مکینوں کا ایک الگ سے طرز معاشرت اور بودوباش ہے جس میں حصول تعلیم کے مواقع اور وسائل کم ہی میسر آتے ہیں لیکن یہ ہمارے معاشرے کے وہ طبقات اور دفاع وطن کے سپاہی ہیں جن کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں یہ عناصر قومی سطح پر خراج تحسین کے مستحق اس لئے ہیں کہ وہ بغیر کسی حکومتی مدد اور سہولیات کے نہ صرف اپنی گزر بسر کر لیتے ہیں بلکہ خدمات و مصنوعات اور عسکری خدمات کی صورت میں وطن عزیز کی ترقی اور روز مرہ زندگی کو رواں دواں رکھنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہیں۔ بلوچستان اور سندھ کے بعض علاقوں کا خاص طور پر تذکرہ مناسب ہوگا ۔ اس طرح کے محروم اور سادہ لوح عناصر کو دشمنوں کی طرف سے بہلا نے اور اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی سعی بھی پوشیدہ امر نہیں خاص طور پر بلوچستان میں ان کی محرومیوں کو جس کے ذمہ دار ہم سب ہیں اجا گر کر کے ان کو اس امر کا احساس دلا کر ملک وقوم کے خلاف سازش کرنے والے عناصر ان کو گمراہ کرنے میں واجبی طور پر کامیاب ہوتے ہیں ۔ گوکہ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر سہی لیکن ہمارے ہی نوجوانوں کو ہمارے ہی خلاف اکسائے جانے کا عمل اسی لئے سخت مشکلات کا سبب بن رہا ہے کہ اگر یہ دشمنوں کی صفوں کے ہوتے تو ان کے خلاف کارروائی کھل کر ممکن ہوتی لیکن چونکہ یہ ہماری ہی صفوں سے ہے اور ہمارے ہی بھٹکے ہوئے بھائی اور بیٹے ہیں اس لئے ان کو راہ راست پر لانے کیلئے خاص طور پر احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ہمارے تئیں اس طرح کے عناصر خواہ وہ بلوچستان میں ہوں یا وزیر ستان میں خصوصی توجہ کے حامل ہیں۔ اس ضمن میں پاک فوج کا کردار جہاں فوجی طریقے سے ان عناصر سے نمٹنے کا ہے وہاں پاک فوج ایک سویلین حکومت کا بھی کردار ادا کرتے ہوئے بلوچستان اور فاٹا میں آرمی پبلک سکولوں، کیڈٹ کالجز ، صحت کی سہولیات سڑکوں کی تعمیر روزگار اور فن تربیت کی شعبوں میں اپنے وسائل خرچ کرکے نمایاں کردار اد ا کر رہی ہے ۔اس طریقہ کار سے جہاں غلط فہمیوں اور محرومیوں کا ازالہ ممکن ہونا فطر ی امر ہے وہاں ملک کے ایک ایسے نوجوان قیادت کو تیاری و تربیت کا موقع ہاتھ آتا ہے جو دشمنوں اور اغیار کے ہاتھوں میں کھیلنا تو درکنار ان کی سازشوں کوجان کر ایک مضبوط دفاعی حصار کے قیام کا سبب بنتے ہیں یہ نوجوان پاک فوج میں شمولیت اختیار کرکے اپنے خون سے اس دھرتی کو گلنا ر کر کے اس کے تحفظ کا فریضہ بھی نبھاتے ہیں یہ ایک طویل اورصبر آزما عمل ہے جس میں شارٹ کٹ کی کوئی گنجائش نہیں بہر حال یہ سفر جاری ہے اور تیزی سے جاری رہنا چاہیئے ۔ پاک فوج کے سربراہ سے بلوچستان کی جامعات کے طلبہ کی ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں تبادلہ خیال اور ملاقات و مشاہدات کے ذریعے ایک دوسرے کے موقف کو زیادہ بہتر طور پر سمجھنے اور سمجھانے کی یقینا بہتر مواقع میسر آئے ہوں گے ۔ طلبہ کو ان کے بہت سے سوالات کے جوابات مل چکے ہوں گے اور ان کو اپنا ذہنی مغالطہ دور کرنے کا موقع ملنے کے ساتھ ان کوان اقدامات سے تفصیلی اور عملی طور پر آگاہی ہوگی جس کے وہ متلا شی ہوں گے ۔ اس میںکوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان کے ذہین ترین اور متحرک نوجوانوں سے مالا مال خطہ ہے جہاں ہمیں اس امر کا اعتراف ہے وہاں اس امر کا اعتراف بھی خلاف حقیقت نہ ہوگا کہ بلوچستان کے عوام وہاں کے سرداروں اور اسلام آباد کے حکمرانوں کے ہاتھوں استحصال اور غربت کا شکار رہے ہیں اور بد ستور اسی کیفیت سے گزر رہے ہیں جس پر توجہ کی ضرورت ہے ۔ بلوچستان اور فاٹا میں عوام کی حالت زار میں بہتری لانا فوج کی نہیں حکومت کی ذمہ داریاں ہیں سول حکومتوں کو یہ ذمہ داری نبھانی چاہیئے جہاں جہاں عسکری ادارے او ر سویلین اداروں کے درمیان روابط اور مشاورت کی ضرورت ہو اس میں قباحت نہیں بلکہ یہ احسن اقدام ہوگا۔ پاک فوج اور سول حکومت کو الگ الگ دیکھنے کی جو روایت بد چلی آرہی ہے اس کا خاتمہ کرنا ہوگا پاک فوج ہمارا ہی ملکی و قومی ادارہ اور حکومت کا حصہ ہے بہرحال اداروں کے درمیان جتنی مفاہمت مشاورت و ہم آہنگی ہوگی اس کے مثبت اثرات اسی نسبت سے سامنے آئیں گے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بلوچستان کے جامعات کے طلبہ سے خطاب و گفتگو پورے ملک کے نوجوانوں پر منطبق ہوتا ہے خاص طور پر عام نوجوا نوں نیم متوسطہ و متوسطہ طبقے کے نوجوانوں پر کہ ان کے پاس سوائے تعلیم حاصل کر کے اچھی ملازمت اور اچھے روزگار کے حصول کے علاوہ کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں۔ مقام اطمینان یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو بجا طور پر اس کا احساس بھی ہے اور اس کا عملی مظہر یہ ہے عسکری وسول اداروں میں ذہانت و قابلیت پر آگے آنے والوں کی اکثریت دیہی اور پسماندہ علاقوں سے آتی ہے انہی کے ہاتھوں ملک و قوم کی باگ ڈور ہے۔ اگر ہمارے سیاسی نظام کی اصلاح ہوجائے اور عوام شعور کا مظاہرہ کر یں تو ملکی سیاسی قیادت بھی اسی طبقے کے ہاتھ آسکتی ہے اور آنی بھی چاہیئے اس کی ضرورت بھی ہے اور اہمیت بھی ۔ اسی طبقے سے امید یں وابستہ کی جا سکتی ہیں جس پر ہمارے نوجوانوں کو پورا اتر نے کی پوری پوری سعی کرنے کی ضرورت ہے ہمارے نوجوان ملکی قیادت و حکومت کی باگ ڈور اسی وقت ہی بہتر طو ر پر سنبھا لنے کے قابل ہو سکیں گے جب وہ دور طالب علمی کا لمحہ لمحہ قیمتی سمجھ کر محنت سے کام لیں اور معیاری تعلیم حاصل کر کے بہتر نتائج دیں ۔

اداریہ