Daily Mashriq


کس کی جیت کس کی ہار

کس کی جیت کس کی ہار

این اے 4کے ضمنی انتخابات میںجیت کس کی ہوتی ہے اور ہار کن کے حصے میں آتی ہے اس کا فیصلہ تو حلقے کے عوام کریں گے لیکن کپتان کے کھلاڑیوں نے کرکٹ کی تیز پچ پر آنے والے ہیوی ویٹ ریسلروں کی وکٹ اڑا کر میچ کا پانسہ بڑی حد تک اپنی طرف کر لیا ہے مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنماکی اپنی جماعت کی قیادت سے اصولی اختلاف کے باعث مستعفی ہو کر تحریک انصاف میںشامل ہونا کھلاڑیوں کیلئے باعث تقویت اور حلقے کے عوام کیلئے ایک پیغام کا باعث امر ہے جس سے حلقے کی سیاست پر اثرات فطری امر ہوں گے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ حلقے میں ترقیاتی منصوبوں اور ترقیاتی کاموں پر کسی بھی جانب سے اعتراض نہیں کیا جانا چاہیئے اور الیکشن کمیشن و ریٹرنگ افسر کو اس جانب اس لئے متوجہ نہیں کیا جانا چاہیئے کیونکہ شاذو نادرہی کسی پسماندہ حلقے میں ضمنی انتخابات کا موقع آتا ہے جب عوام کی ہمدردیاں حاصل کر نے کیلئے سچے جھوٹے وعدے کئے جاتے ہیں اور ترقیاتی کاموں کا اعلان کیا جاتا ہے اس حلقے میں کامیابی لیگ ن کے مقابلے میں پی ٹی آئی کیلئے اس لئے زیادہ اہم ہے کہ اول یہ تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی کی وفات سے خالی شدہ حلقہ ہے دوم یہ کہ اس حلقے میں کامیابی آئندہ انتخابات کیلئے پی ٹی آئی کیلئے خاص طور پر ایک مثل باد نما ہے ہے ۔جس کے نتائج سے نہ صرف اس حلقے کے عوام کی رائے سامنے آئے گی بلکہ عام انتخابات میں بھی ہوا کے رخ اندازہ ہو سکے گا۔

سرکاری ملازمین کی سنگین وارداتوں میںملوث ہونے کا افسوسناک عمل

ملاگوری سے کار لفٹر وں کے سر غنہ کا سرکاری ملازم نکلنا اور حیات آباد میں خواتین سے پرس چھیننے اور لوگوں کو لوٹنے والے ایک اچھے محکمے میں معقول عہدے پر فائز شخص کا ہونا اس بناء پر زیادہ تشویش اور پریشانی کا باعث ہے کہ جب اس طرح کے لوگ سرکاری ملازمت پر ما مور ہونے کے باوجود جب لوگوں کو لوٹنے اور گاڑیاں چھیننے سے گریز نہیں کرتے تو اپنے اختیارات کے غلط استعمال میں ان کا کیا عالم ہوگا ۔ چوی رہزنی اور کاریں چھیننے کی وارداتیں جرم کے زمرے میں آتے ہیں خواہ ان کا ارتکاب کوئی بھی کرے لیکن اگر سرکار سے تنخواہ وصول کرنے والے اس طرح کی وارداتوں میں ملوث نکلنے لگیں تو یہ دوہری برائی ہے ۔ کسی بیروزگار شخص کی رہزنی اور کسی سرکاری ملازم کی رہزنی قانون کی نظرمیں تو یکساں جرم ہو سکتا ہے مگر معاشرے کی نظر میںموخرالذکر کے جرم کی نوعیت کہیںسنگین ہے کہ اس کی آمدنی کا ایک معقول ذریعہ ہونے کے باوجود اس نے لوگوں کو لوٹا ۔ اس طرح کے افراد کا دیگر محکموں میں بھی ہونا خارج از امکان نہیں ۔ سرکاری ملازمین میں اس طرح کے عناصر کی موجودگی کی نشاندہی اس محکمے کے عملے اور افسران کی بھی ذمہ داری ہے تاکہ ان کی محکمے کی بدنامی کا باعث بننے والوں کو جلد سے جلد قانون اپنی گرفت میں لے ۔ محولہ ملازمین کے خلاف تحقیقات کی تکمیل کے بعد قصور وار پانے کی صورت میں قانونی سزا کے ساتھ ساتھ سخت محکمانہ کارروائی اور سزا میں ذرا بھی تامل نہیں کیا جانا چاہیئے اور گندے انڈوں سے محکموں کو پاک کرنے میں کسی اور رعایت کا مظاہر ہ نہیں ہونا چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں