Daily Mashriq


جنگی جنون بمقابلہ امن پسندی

جنگی جنون بمقابلہ امن پسندی

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو دی جانے والی دھمکیاں انتہائی مایوس کُن ہیں کیونکہ اقوامِ متحدہ وہ ادارہ ہے جس کا مقصد پوری دنیا میں امن قائم کرنا ہے۔ امریکی صدرکی مذکورہ تقریر ان لوگوں کی توہین کے مترادف ہیں جنہوں نے دنیا میں امن وآتشی قائم کرنے کے لئے اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔ یہ تقریر ان امن پسند روحوں کے لئے ایک تازیانہ ہوگی جنہوں نے دو جنگِ عظیموں کے دوران اپنی تمام تر توانائیاں لوگوں کو اقوامِ متحدہ جیسا بین الاقوامی ادارہ قائم کرنے کی ترغیب دینے پر خرچ کردیں تاکہ مستقبل میں جنگ وجدل اور خون خرابے سے بچا جاسکے اور دنیا سے جنگ کے نام کا وجود ختم کیا جاسکے ۔ یہاں پر یہ بات باعثِ حیرت ہوگی کہ اقوامِ متحدہ بے وہ دانت شیر ہے جو ٹرمپ کی طرف سے کی جانے والی شعلہ فشانی کی مذمت کرنے کی ہمت بھی نہیں رکھتا۔ اگر ایسی کوئی دھمکی زمبابوے کے رابرٹ موگابے یا کیوبا کے رائول کاسترو کی طرف سے دی جاتی تو پوری دنیا پنجے جھاڑ کر ان کے پیچھے پڑجاتی اور پوری دنیا کا بکائو میڈیا زمبابوے اور کیوبا کو خطرناک ترین ریاستیں قرار دے چکا ہوتا اور یہ بھی ہوسکتا تھا کہ اس وقت تک دونوں ممالک کے کئی شہروں اور قصبوں کو صفحہ ِ ہستی سے مٹایا جاچکا ہوتا ۔اگر ایسی کوئی تقریر کسی ایرانی لیڈر کی جانب سے کی جاتی تو واشنگٹن، تل ابیب اور لندن اس وقت سرجوڑ کر ایران پر بموں کی برسات کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہوتے۔ اگر وینزویلاکے صدر نکولس مدورو نے امریکہ کو ایسی کوئی دھمکی دی ہوتی تو اس وقت تک وینزویلا پر قبضہ ہوچکاہوتا۔لیکن شمالی کوریا کے خلاف یہ شعلہ فشانی اس ملک کے صدر کی جانب سے کی گئی تھی جو کہ اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور ہے ۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف اقوام متحدہ میں بیٹھے ہوئے پوری دنیا کے سربراہان کو سانپ سونگھ گیا بلکہ سیکورٹی کونسل نے بھی ٹرمپ کی تقریر اور دھمکیوں کو ان سنا کردیا۔اس حوالے سے دنیا کے کسی کونے سے بھی مذمت کی ایک آواز تک نہیں آئی۔ ایسی شعلہ فشانی کے خلاف کوئی بھی قرارداد منظور نہیں ہوئی اور نہ ہی اس وقت دنیا کے سب سے طاقت ور ملک پر کوئی پابندی عائد کی گئی۔ اگر ذرائع ابلاغ کی بات کی جائے تو پوری دنیا کا میڈیا ٹرمپ کی اس تقریر پر ایسے خاموش رہا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور ٹرمپ نے دھمکیاں دینے کی بجائے گل افشانی کی ہے۔ دنیا کے کسی ملک یا ادارے کی جانب سے امریکی کمپنیوں پر پابندیاں عائد نہیں کی گئیں۔ سب سے زیادہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ دنیا کی دوسری بڑی جمہوریت کہلوانے والے ملک میں ان دھمکیوں کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عراق جنگ کے خلاف پوری دنیا میں لاکھوں مظاہرین کو جمع کرنے والا امن پسند طبقہ بھی دنیا کے جنگی جنون سے سمجھوتہ کرچکا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پوری دنیا کی زبانیں امریکہ کے سامنے گنگ ہوچکی ہیں اور امریکہ کے لئے ڈھائی کروڑ شمالی کورین باشندوں اور ان لاکھوں جنوبی کورین باشندوں کی زندگیاں کوئی معنی نہیں رکھتیں جو شمالی کوریا پر امریکی حملے کی صورت میں متاثر ہوسکتے ہیں۔ دنیا کے لئے ان کروڑوں لوگوں کا خون کوئی اہمیت نہیں رکھتا ، ان کا زندہ ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے اور ان ملکوں کے شہر، قصبے اور دیہات کسی خون آشام درندے کی پیاس بجھانے کے لئے اپنی آبادی میں اضافہ کررہے ہیں۔اگر ٹرمپ کی دھمکیوں پر دنیا کے کسی بھی کونے سے کوئی مذمت یا احتجاج سامنے نہیں آیا تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا چاہتی ہے کہ ان کروڑوں لوگوں کو دنیا کے نقشے سے مٹا دیا جائے ؟ دنیا کی یہ خاموشی ایک ایسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوگی جوکہ نہ صرف جزیرہ نما کوریا بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر چین، روس اور یورپی یونین کی جانب سے ایسی شعلہ بیانیوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب واشنگٹن اور لندن میں بیٹھے ہوئے جنگی جنونی ایک ایسی جنگ کا آغاز کردیں جو انسانیت کے وجود کو ختم کرکے ہی دم لے۔ ماضی میں یورپ اور شمالی امریکہ سے شروع ہونے والی جنگ مخالف تحریک کو پوری دنیا تک اپنا دائرہ کار پھیلانے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے امن پسندوں کو اس وقت متحد ہو کر کام کرنے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ اس وقت سڑکوں پر آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جب دنیا کے ایک یا ایک سے زائد ممالک کو نیست و نابود کیا جاچکا ہوگا۔ ٹرمپ اس وقت ان تمام امریکیوں کی نمائندگی کررہے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کے افق پر جنگ کے بادل ہمیشہ منڈلاتے رہیں۔

اس سے پہلے جارج بش اور ٹونی بلیئرنے انہی حلقوں کی آواز پرعراق اور افغانستان پر بم برسابرسا کر پتھروں کے زمانے میں دھکیلنے کی کوشش کی تھی اور یہ دونوں ممالک آج بھی جنگ کے شعلوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ مغربی دنیا کے دارالحکومتوں میں بیٹھے ہوئے جنگی جنونیوں کے ہاتھ معصوم لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور اپنی عوام کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کے نام پر یہ خون آشام بلائیں مزید خون بہانے کے لئے آج بھی تیار بیٹھی ہیں۔ اگرچہ یورپ میںآج بھی وہ لوگ موجود ہیں جو جنگ ِ عظیموں اور دیگر ممالک پر یورپی ممالک کے قبضے کے دوران ہلاک ہونے والے تین کروڑ انسانوں کا افسو س کرتے ہیں لیکن یہ لوگ بھی فرانس، امریکہ اور برطانیہ کو دنیا میں مزید خون خرابہ کرنے سے نہیں روک سکے جس کی مثالیں کورین جنگ، ویت نام پر فرانس اور امریکہ کی جانب سے حملہ اور نڈونیشیا میں مغربی طاقتوں کے حمایت یافتہ جنرل سہارتو کی خونی کاروائیاںہیں ۔ مغربی دنیا کے باشندوں کو اب اپنی سیکورٹی یا فری ورلڈ جیسے ڈھکوسلوں پر کان دھرنے کی بجائے ان جنگی جنونیوں کو روکنا ہوگا تاکہ کرہِ ارض پر انسان اور انسانیت کی بقاء کو یقینی بنایا جاسکے۔

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں