کس کو قاتل میں کہوں کس کو مسیحا سمجھوں

کس کو قاتل میں کہوں کس کو مسیحا سمجھوں

نوشہرہ کے علاقے پبی میں پرائیویٹ ہسپتال میں انسانی اعضاء کی خریدوفروخت کا جو گھنائونا کھیل جاری تھا اور جسے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ٹیم نے بے نقاب کیا یہ کھیل کوئی ان پڑھ، جاہل ، گوار یا آج کے دور کی اصطلاح میں کوئی تربیت یافتہ دہشت گرد نہیں کھیل رہا تھا ۔ بلکہ جنہیں معاشرے کا '' کریم '' کہا جاتا ہے جن کو ڈاکٹر بنانے کیلئے والدین کیا کیا جتن کرتے رہیں اور اس مقام تک پہنچانے کے بعد وہ معاشرے میں خاندان میں اور حلقہ احباب میں احساس تفاخر کے ساتھ ذکر کرتے ہیں کہ ان کا بیٹا ''ڈاکٹر '' بن گیا ہے ۔ وہ ڈاکٹر جسے مسیحا کہتے ہیں ۔ جو میڈیکل کالج سے فراغت کے بعد پیشہ ورانہ زندگی میں آنے سے قبل حلف اٹھاتے ہیں کہ وہ انسانیت کی بلا امتیاز خدمت کرینگے ۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹروں کی لوٹ مار ، مریض کے ساتھ نا روا رویئے اور سرکاری ہسپتال اور پرائیویٹ کلینک میں امتیازی سلوک کے قصے تو اکثرسامنے آتے رہتے ہیں ۔ یہ بات بھی اپنی جگہ کہ معاشرے میں اچھے با اخلاق اور بلند کردار کے مالک ڈاکٹروں کی بھی کمی نہیں ۔ لیکن صد افسوس قصائی نما ڈاکٹر اب اپنی کمیونٹی پر حاوی ہوتے جارہے ہیں اور اسکی تازہ مثال پبی ضلع نوشہرہ میں مین جی ٹی روڈ کے ساتھ قائم پرائیویٹ ہسپتال میں جاری دھندہ ہے ۔یہ واقعہ ہمہ پہلو ہے سب سے پہلے یہ کہ ایک ہسپتال جہاں لوگ مریض لے کر آتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ مریض کا علاج ہوگا اور اس کی صحت یابی کی سعی کی جائے گی ۔ لیکن یہاں تو دکان لگی ہوئی تھی ۔ جہاں انسانی گردوں کی خرید وفروخت کابیو پار جاری تھا ۔ ضرورت مندنوجوانوں کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر انہیں گردہ بیچنے پر آمادہ کیا جاتا اور پھر معمولی رقم دے کر مطمئن کردیا جاتا اور اس کے جسم سے نکالا گیا گردہ خطیر معاوضے کے بدلے دوسرے ضرورت مند یعنی ناکارہ گردوں کے حامل مریض کو لگایا جاتا ۔ جو بجائے خود ایک جرم ہے ۔

مستزاد یہ کہ نہ تو گردے اور انسانی اعضاء کی پیوند کاری کیلئے مناسب مطلوبہ ماحول ، آلات جراحی ، صفائی ستھرائی میسرہے اور نہ ٹرانسپلانٹ سرجن موجود ہیں بلکہ ایک زیر تربیت ڈاکٹر کے ذریعے یہ پیوند کاری ہوتی رہی ۔ اس شعبے کے ماہرین کہتے ہیں کہ گردے کی پیوند کاری سے قبل دونوں یعنی گردہ دینے والے اور لینے والے کے مختلف ٹسٹ کیے جاتے ہیں ۔ خون کے نمونوں کے علاوہ ٹشو کی کراس میچنگ کی جاتی ہے اور اگر وہ باہم ملاپ قبول کرتے ہیں تبھی فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ٹرانسپلانٹ ہونا چاہیئے ۔ کچھ اخلاقی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں طبی عملے پر لیکن یہاں تو اس کا تذکرہ ہی فضول ہے لیکن مروحہ قوانین کی بھی دھجیاں اڑائی گئی ہیں ۔ خیبرپختونخوا میں 2014ء میں ٹرانسپلانٹ سرجری کے حوالے سے قانون اسمبلی سے منظور ہو کر ایکٹ بن گیا ہے جس کے تحت صوبائی حکومت ٹرانسپلانٹیشن ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر ے گی ۔ جنرل ڈاکٹر اور مریضوں پر بھی کچھ ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں اور مختلف قسم کی پابندیاں بھی عائد ہیں گردہ قریبی رشتہ دار بلکہ خونی رشتہ دار ہی دے سکے گا اور قریبی رشتہ دار کی عدم موجودگی یا عدم دستیابی کی صورت میں ایک کمیٹی معاملہ دیکھے گی اور وہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ گردہ عطیہ''رضا کارانہ'' ہے ۔ اس طرح اور بھی کئی قوانین اور ضابطے ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے مگر ان تمام ضابطوں قوانین اور اخلاقی ذمہ داریوں کو با لائے طاق رکھ کر انسانی اعضاء کی پیوند کاری کو دھندہ بنایا گیا ۔ اس سفاکانہ عمل میں صرف اس پر اکتفا ء نہیں کیا گیا بلکہ جعلی ادویات کی فیکٹری بھی بنائی گئی جسے اپنے ہسپتال میں استعمال کرنے کے علاوہ عام مارکیٹ میں سپلائی کیا جاتا رہا ۔ حد یہ ہے کہ محکمہ صحت اور دیگر کئی قانون نافذ کر نے والے اداروں کی ناک کے نیچے یہ دھندہ کافی عرصے سے جاری رہا ۔ پنجاب سے گردے کے ڈونر تلاش کر کے یہاں لائے جاتے اور یہاں کسی کو بھی پتہ نہ چلا ۔ ملتان سے ایف آئی اے کی ٹیم نے باقاعدہ منصوبہ بندی کی اپنے ایک کارندے کو دو ہفتے سے زائد عرصے تک مریض بنا کر ہسپتال میں رکھا اور پھر اس کی نشاندہی پر کارروائی ہوئی۔ نوشہرہ کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر کا کہنا ہے کہ ہسپتال کی ملکیت بھی ایک سیف اللہ آفریدی نامی ڈاکٹر کی ہے جو اس ضلع کے بنیادی مرکز صحت میں تعینات ہے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ دھندہ باقاعدہ ایک نیٹ ورک کے ذریعے جاری تھا ۔ جو پنجاب کے دور افتادہ اور پسماندہ دیہات تک پھیلا ہوا ہے ۔ موقع پر گرفتار سرجن ڈاکٹر عبدالعزیز بھی حیات آباد کے امراض گردہ کے مرکز میں ٹر ینی میڈیکل آفیسر ہے ۔ دیگر عملہ کے ارکان بھی سرکاری اہلکارہیں ۔ جعلی ادویات کا کاروبار ایک ڈرگ انسپکٹر کی معاونت سے چل رہا تھا ۔ اب یہ تمام کردار زیر حراست ہیں ۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ انہیں کیفر کردار تک پہنچا ئیں ۔ مگر محکمہ صحت کے حکام بھی محض قوانین پاس کرنے پر مونچھوں کو تائو نہ دیں ۔ بلکہ ریگولیٹری اتھارٹی اور ہیلتھ کیئر کمیشن کو مضبوط بنائیں ۔ انہیں مطلوبہ افرادی قوت بھی فراہم کرے اور دونوں اداروں میں متعلقہ شعبوں کے ماہرین کو رکنیت دی جائے ۔ تاکہ آئندہ اس قسم کے کھلواڑ کا راستہ روکا جا سکے ۔ اسی طرح صوبے کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں اور بالخصوص پشاور کے تمام نجی اداروں کی نہ صرف چھا نٹی کی جائے بلکہ کڑی نگرانی کی بھی ضرورت ہے ۔

اداریہ