Daily Mashriq


درس حریت فکر

درس حریت فکر

کربلا معرکہ حق و باطل تو ہے ہی مگر اس معرکہ حق و باطل کے حق کی ادائیگی کے لئے لازم ہے کہ فکری استقامت کے ساتھ اپنے عہد کی کربلا میں اُتر کر مظلوموں کی حمایت کی جائے ۔ امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں ۔ میں نے رسول معظم ۖکا یہ ارشاد گرامی سنا ''جب مظلوم کی حمایت کرنے والا کوئی نہ ہو اس سے اللہ سبحان تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ مظلوم کے ساتھ ملکر ظالم سے بدلہ لے گا '' دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہم اپنے عصر کے ظالموں کے خلاف مظلوموں کے حمایتی ہیں یا غیر جانبداری کے اسیر ؟ ۔ سمجھنے والی بات فقط اتنی ہے کہ دنیا میں دو ہی طبقات ہیں اولاً ظالموں اور دوسر ا مظلوموں کا ۔ مظلوموں کی تائید ان کی ذات پات مذہب و عقیدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ مظلومیت کی بدولت کرنا ہوگی ۔ حریت فکر کادرس یہی ہے کہ شرف انسانیت ، آزادی ، انصاف اور مساوات کے ابدی اصولوں کی سر بلندی کا حق اپنے وقت پر ادا کیا جائے ۔ انسان تاریخ کا واحد معرکہ حق و باطل کربلا جہاں خون نے تلواروں پر فتح مبین حاصل کی ۔ درس کر بلا یہ ہے کہ انسانی سماج عادلانہ نظام اور مساوات کے اصولوں پر قائم رہتا ہے ۔ ارتقا کے سفر کوجاری و ساری رکھنے کے لئے جن بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھنا لازم ہے ان میں پہلا اصول ایک ایسی حکومت کا قیام ہے جو جبر و ستم کے ساتھ تعصبات و جہل کو بھی زہر قاتل سمجھے ۔ کربلا کا حق محض رسومات کی ادائیگی سے ادا نہیں ہو جاتا ۔فرات کنارے اُترے محبوبان خداکے قافلے کے سالار سبطہ حضرت احمد مرسل ۖ امام حسین فرماتے ہیں '' جو لوگ اپنے حقوق کے حصول اور علم کے خلاف اُٹھنے میں دیر کر دیتے ہیں انہیں تاخیر کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے ''۔ ہم آج جن مسائل سے دوچار ہیں ان مسائل کے گھمبیر ہونے کی وجہ یہی ہے کہ اجتماعی مفادات اور مساوات کے درخشاں اصولوں کو مد نظر رکھنے کی بجائے انفرادی ثروہی ہی پسند و ناپسند کا شکار ہیں ۔ اصولی طور پر ہمیں یہ بات بطور خاص مد نظر رکھنا ہوگی کہ انقلاب محمد ۖ کا بنیادی مقصد سماج کے زیر دست طبقات کو ان کے جائز حقوق دلوانا اور ایسا نظام حکومت تشکیل دینا ہے جو طبقاتی اونچ نیچ سے ہمہ وقت محفوظ ہو اور ریاست اپنے تمام شہریوں کے حقوق کا بلا امتیاز تحفظ کرے ۔ 

المیہ یہ ہے کہ آج کی مسلم دنیا کی ساری حکومتیں انقلاب محمد ۖکے اس ابدی اصول کی رہنمائی پر قائم نہیں،کہیں ملوکیت ہے اور کہیںجمہوریت کے نام پر طبقاتی اختیارات سے عبارت نظام ۔ ریاست کے وسائل پر کہیں ایک خاندان اور کہیں چند یا چند درجن خاندان قابض ہیں ۔ کربلا بنیادی طور پر درس حریت فکر ہے ۔ ردس حریت فکر اس کے سوا کچھ نہیں کہ علم کے نور سے جہل کے اندھیر وں اور مساوات سے طبقاتی بالا دستی کا خاتمہ کیا جائے ۔ جس طرح انقلاب محمد ۖ کا پیغام ساری انسانیت کے لئے ہے اسی طرح کربلا کا درس حریت فکر بھی انسانیت کا مشترکہ نصاب ہے ۔ بد قسمتی سے مسلمان امت نے اس نصاب کو بھلا کر اپنے اپنے بُت پا ل رکھے ہیں ۔ اسلام شخصیت پر ستی کے بتوں کی بھی اس طرح نفی کرتا ہے جیسے بت پرستی کی ۔ انقلاب محمد ۖ کی دعوت عام عالم انسانیت کے سارے زمانوں کے لئے ہے ۔ ملوکیت اور طبقاتی امتیازات سے عبارت نظاموں کی اسلام میں گنجائش نہیں ۔ یہ البتہ ابدی حقیقت ہے کہ اسلام زیر دستوں کو معیار زندگی تو بلند کرنے کی راہ دکھا تا ہے مگر یہ کہیں نہیں کہتا کہ زیر دست زندگی کے بہتر دور میں داخل ہوتے ہی بالا دست بن جائیں ۔ حقوق اللہ کی ادائیگی کی اہمیت ایک ابدی حقیقت ہے مگر حقوق العباد کی ادائیگی بھی کسی طور کم درجہ کی حامل نہیں اولیت حقوق العباد کوہی حاصل ہے ۔ انقلاب محمد ۖ ایثار کی دعوت دیتا ہے ۔ امام علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ '' ایثار یہ ہے کہ آپ کو ایک روٹی کی بھوک ہے اور دسترخوان پر روٹی بھی ایک ہی موجود ہے ایسے میں آدھی روٹی پر شکر کر کے آدھی روٹی مستحق بھائی کی خدمت میں پیش کر دینا ''۔اپنے حصے کی نعمتوں میں محروم طبقات کو شریک کرنا ایثا ر ہے اور محروم و محکوم طبقات کے حق کے لئے بلا امتیاز آواز بلند کرنا حریت فکر کی پیروی ۔ یہ بہرطور یاد رکھنا ہوگا کہ اصلاح ، تبدیلی ، مساوات ، ایثار ، داد رسی جیسے سارے محبوب عمل محبوب ترین تب بنتے ہیں جب ان کا آغاز اپنی ذات سے ہو اور پھر سلسلہ بتدریج آگے بڑھے یہ نہیں کہ پڑوس میں کوئی چند لقموں کو ترستا رہے اور دور کے دیسوں کے بھوکو ں کی بھوک مٹانے چل پڑیں ۔ اپنی گلی میں کوئی انصاف سے محروم ہو اور ہزاروں میل دور کے کسی فرد یا طبقہ کو انصاف دلوانے کے لئے آواز بلند کی جائے ۔ پڑوسی کا حق مقدم ہے ۔ گلی ، محلے ، گائوں ، شہر اور وطن کے لوگوں کو جو اولیت حاصل ہے وہ ذاتی پسند و نا پسند پر قربان نہیں کی جا سکتی ۔ کربلا کا معرکہ حق و باطل انقلاب محمد ۖ کی تجدید ہی ہے رسول اکرم ۖ کے نواسے سید الشہداء امام حسین کا پیغام حریت یہی ہے کہ '' حقوق کی پاسداری اور دین کی باتوں سے محض دین کا ذائقہ نہ بدلہ جائے بلکہ عملی طور پر ثابت کیا جائے کہ انسان اپنے فرض منصبی سے غافل نہیں ہے ۔ ہمیں (ہم سب کو ) یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے عصر کی کربلا کے مظلوموں کی پسند و نا پسند کی بنیاد پرنہیں بلکہ درس حریت اور انقلاب محمد ۖکے ابدی اصولوںکی روشنی میں حمایت کریں گے اور ایک عاد لانہ نظام کے لئے پر عزم جدوجہد جو ہمارے سماج کو انصاف و مساوات کی برکات سے مستفید کر دے۔

متعلقہ خبریں