Daily Mashriq


حقیقی رہنما کا انتخاب

حقیقی رہنما کا انتخاب

زندگی سے محبت اس کی آسائشوں سے محبت کبھی کم نہیں ہوتی خواہشات کے بحر بیکراں میں ڈبکیاں لگاتا انسان اپنے آپ کو بھلائے رکھتا ہے وہ بہت کچھ تو جان لیتا ہے لیکن اسے اپنی آگہی نہیں ہوتی وہ اپنے آپ کو نہیں جان پاتا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اسے اپنے اندر جھانکنے کا وقت ہی نہیں ملتا وہ اپنے ساتھ کبھی مکالمہ ہی نہیں کرتا وہ کتابیں تو بہت پڑھتا ہے لیکن زندگی کی کتاب پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا انسان کا سب سے بڑا مطالعہ انسان ہے وہ اس مطالعے سے دور رہتا ہے جو انسانی رویوں کے طالب علم ہوتے ہیں انہیں انسانی خصائل کا زیادہ علم ہوتا ہے لیکن وہ بھی یہی کہتے دکھائی دیتے ہیںکہ انسان تو سمندر ہے کوئی بھی اس کے بارے میں حتمی رائے نہیں دے سکتا انسان کو سمجھنے جاننے کا دعویٰ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہوا اتنی جلدی اپنا رخ نہیں بدلتی جتنا جلد انسان بدل جاتا ہے حضرت علی کا قول مبارک ہے کہ جس پر احسان کرو اس کے شر سے ڈرویہ ہمارا روزمرہ کا عام مشاہدہ ہے کہ کتنے ایسے انسان ہیں جو محسن کش ہیں جنہوں نے ان پر احسانات کیے بعدمیں انہوں نے ان احسان کرنے والے اپنے محسنوں کو ہی نقصان پہنچا یا۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے والی بات ہے ۔انسان کو کمزور کہا گیا اسے عجلت پسند یا جلد باز کہا گیا یہ جلد بازی میں ایسے بہت سے کام کرجاتا ہے جو بعد میں اس کے لیے پشیمانی کا سبب بن جایا کرتے ہیںیہ اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتا یہ غلطیوں پر غلطیاں کرتا چلا جاتا ہے جو بالآخر اسے زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن کردیتی ہیں پھر اس کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہوتا اس دنیا کا عروج بھی جھوٹا اور لوگوں کی محبت بھی جھوٹی ہوتی ہے جب دن بدلتے ہیں تو لوگوں کے دل بھی بدل جایا کرتے ہیں اس وقت دل کے نہاں خانے پر ایک مشہور نظم (محب وطن)دستک دے رہی ہے جس میں انسانی رویوں کی بڑ ی عمدہ عکاسی کی گئی ہے نظم کا ہیرو کہتا ہے کہ جب ایک سال پہلے میں اس راستے سے گزرا تھا تو میرے راستے میں پھول ہی پھول تھے میرا استقبال پھولوں کی لاتعداد پتیوں سے کیا گیا تھا مجھ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئی تھیں میرا استقبال کرنے والے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر مجھے خوش آمدید کہہ رہے تھے بڑے پرجوش نعرے لگائے جارہے تھے ہر طرف جھنڈے لہرا رہے تھے اور یہ زیادہ عرصہ نہیں ہو ا یہ صرف ایک برس پہلے کی بات ہے میری آمد پر استقبالی گھنٹیاں بجائی جارہی تھیںپرانی دیواریں لوگوں کے بوجھ تلے دبی جارہی تھیںمیر ی ایک آواز پر لوگوں کا ایسا شورو غل سنائی دیتا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی میں نے اپنے لوگوں کے لیے بڑی قربانیاں دیں بڑے بڑے کام کیے لیکن اب آپ میری بوئی ہوئی فصل صرف ایک سال کے بعددیکھ رہے ہیںآج میری آمد پر گھروں کی چھتوں پر میرا استقبال کرنے والے نہیں ہیں مجھے تیز برستی بارش میں لے جایا جارہا ہے رسی میری پشت پر بندھی ہوئی کلائیوںکو بری طرح سے کاٹ رہی ہے میری پیشانی سے خون بہہ رہا ہے کیونکہ لوگ مجھے پتھر مار رہے ہیںمیں آیا اور پھر رخصت بھی ہوگیا دنیا کی حکمرانی اور مقبولیت کا بڑا واضح نقشہ اس نظم میں کھینچا گیا ہے زندگی کی کتاب کے ورق الٹتے جائیے اور اس طرح کی ہزاروں کہانیاں آپ کو ملتی چلی جائیں گی وہ جو کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے لیکن پھر بھی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا سب اپنی اپنی خواہشوں کے جزیرے آباد کیے ان جزیروں کو ہی جنت سمجھ لیتے ہیں لیکن جب وقت گزر جاتا ہے اور ناکامی دروازے پر دستک دینے لگتی ہے تو سار ی حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے پھر انسان کو اپنی غلطیاں یا د آتی ہیں پشیمانیاں اسے بری طرح گھیر لیتی ہیں سارے مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے روشن ہوجاتے ہیں لیکن اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو زندگی دوسروں کے لیے جیتے ہیں ان کی ہروقت یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کو سکھ دیں ہمیشہ لوگوں کے درمیان خوشیاں بانٹتے رہیںوہ جب اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو ان کامادی اثاثہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ ساری زندگی بانٹتے ہی رہتے ہیں ان کی نظر آخرت پر ہوتی ہے اپنے سے پہلے اس دنیا کو چھوڑ جانے والوں سے عبرت حاصل کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک انہوں نے بھی رخصت ہونا ہے۔ وعدے تو ہمارے عوام کے ساتھ بھی بہت کیے جاتے ہیں لیکن جب حکمران اپنی کرسیاں سنبھالتے ہیں تو پھر انہیں عوام کے ساتھ کیے گئے سارے وعدے بھول جاتے ہیں سب جانتے ہیں سب کو معلوم ہے کہ تعلیم ہماری اہم ضرورت ہے اور اس کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے لیکن وطن عزیز کی آزادی کو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی ہمارے کسی حکمران نے اس بہت ہی اہم مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی تعلیم کی روشنی غریب کے گھر میں داخل نہیں ہوسکی بلکہ تعلیم کو اتنا مہنگا کردیا گیا ہے کہ اس کا حصول اب غریب عوام کے لیے ممکن ہی نہیں رہا۔ ملائشیاء کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی سب سے پہلا کام جو کیا وہ تعلیم کے حوالے سے تھا انہوں نے اپنے کل بجٹ کا 25فیصد تعلیم کے لیے مختص کردیا اس سے ظاہر ہے بہت فرق پڑا اور ملائشیا ء میں تعلیمی انقلاب برپا ہوگیا تعلیم کا حصول عام آدمی کے لیے بھی ممکن ہوگیا ہمارے یہاں عام آدمی کے لیے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنا بہت بڑا خواب ہے (بقیہ صفحہ 7پر ملاحظہ فرمائیں)

متعلقہ خبریں