Daily Mashriq


گریٹر گیم پلان…امریکہ ' فوج اور عدلیہ

گریٹر گیم پلان…امریکہ ' فوج اور عدلیہ

گاہے ان کی گفتگو سنو تو لگتاہے ان کے اندر کی پاکستانیت جاگ اُٹھی ہے جو وہ یوں آنکھیں نکال کر امریکہ کو جواب دے رہے ہیں۔ پھر یکایک خیال آتا ہے کہ یہ گفتگو نواز شریف اور شہبازشریف کی نہیں بلکہ ان کے حواریوں کی ہے ۔ ان حواریوں کی ترجیح نمبر ایک اپنا اور اپنے آقا کا اقتدار ہے جسے بچانے کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے سے گریزکرنے والے نہیں ہیں۔ گزشتہ روزوزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے ایشیا سوسائٹی فورم میں گفتگو کی اور قرار دیا کہ امریکہ نے پاکستان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیااور پھر اسے پھینک دیا۔ انہوں نے اپنے والد محترم کے باس مرحوم جنرل ضیاء الحق کی افغان جنگ کو ایک بڑی غلطی قرار دیا اور امریکیوں پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سوویت روس کے ساتھ پراکسی جنگ میں پاکستان کو استعمال کیا۔ بظاہر یہ کتنی خوش کن بات ہے مگر میری بدگمانی یہ ہے کہ غیرت مندی کا یہ دور بڑا عارضی ہے چونکہ امریکہ کو آنکھیں دکھانا محض اس لیے ہے کہ امریکہ کو نواز شریف کی اہمیت کااحساس پیدا ہو۔ دو مرتبہ وزیر خارجہ صاحب امریکی ہم منصب کے ساتھ ملاقات سے گریز کر چکے ہیں اور کچھ ایسی ہی دیدہ دلیری کا مظاہرہ ہمارے نئے قومی وزیر دفاع خرم دستگیر بھی کر چکے ہیں۔ جب انہوں نے امریکی جنرل کے ساتھ ملاقات سے انکار کیا تھا۔ چاروں شانے چت ہو کر لیٹی ہوئی مسلم لیگ ن کی حکومت کو اچانک بہادری اور سینہ زوری کا دورہ کیوں کر پڑا ہے۔ میاں نواز شریف کی رخصتی ہوتے ہی کیا وزیر اور کیا مشیر سب رستم زماں بنتے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم کالب و لہجہ بھی تقریباً امریکہ کو آنکھیں دکھانے والاہے۔ نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی پے در پے ہونے والی میٹنگز کو بھی اس کا کریڈٹ دیا جاسکتا ہے اور اس پہلو پر بھی غور کیا جاسکتا ہے کہ نواز شریف کی طرح چونکہ موجودہ وزیر اعظم کے بزنس اور فیملی سٹیکس مغربی ممالک میں نہیں ہیں لہٰذا انہوں نے ٹرمپ کی افغان پالیسی کے جواب میں پاکستان کی جو امریکہ پالیسی ترتیب دی ہے وہ کسی خوف اور لالچ سے ہٹ کر ہے۔ ایک لمحے کے لیے اگر ہم انہی دو حوالوں پر اپنی توجہ ملحوظ رکھیں اور انہی کو موجودہ کھڑاک کی وجہ سمجھ لیں تو پھر وزارت عظمیٰ کی تبدیلی کو پاکستان کے لیے انتہائی خوشگوار تبدیلی تسلیم کرنا پڑے گا۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے بھی پارلیمنٹیرینز کے ساتھ گفتگو میں اس امر کی جانب اشارہ کیا تھا اور نیشنل سیکورٹی کمیٹی کی مسلسل ہونے والی میٹنگز کو نہایت خوش آئند قرار دیا تھا۔ مشاورت یقینی طورپر سیاسی قیادت کے لیے حوصلے کاباعث بنی ہو گی جس کا اظہار ہم آئے روز ہوتا دیکھ رہے ہیں لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب سویلین بالادستی کو کھلے دل سے تسلیم کرنے والے آرمی چیف کی موجودگی میں وزراء اور نواز شریف کی باقی ٹیم فوج کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ عجیب دوغلا پن ہے۔ اس دوغلے پن کو ذہن میں رکھتے ہوئے مجھے احساس ہوتا ہے کہ وزیروں کو امریکہ پر تنقید درحقیقت نواز شریف اور ان کی ٹیم کے گریٹر پلان کا حصہ ہے۔ یہ واضح ہو چکاہے کہ نواز شریف اندر سے اب وہ نہیں ہیں جو اپنے پہلے دورِ ادوار میں نواز شریف ہوتے تھے۔ آج کا نواز شریف ایک منتقم مزاج نواز شریف ہے جو فوج کو معاف کرنے کا قطعاً روادار نہیں ہے حالانکہ فوج کی نرسری میں وہ خود پیدا ہوئے۔ اپنے اداروں کے بارے میں جس نفرت کا اظہار میاں نواز شریف کی پریس کانفرنس میں ہوا اُس کے بعد کیا اس بارے میں دو رائے ہو سکتی ہیں کہ نواز شریف اپنی ذات کی بقا کے لیے تمام عالم کو فنا کر سکتے ہیں۔ آج لاہور ہائی کورٹ بار نے بھی کہہ دیا ہے کہ نواز شریف بیرون ملک اپنے اداروں کو جس طرح بدنام کرتے ہیں اس کی وجہ سے وہ سیکورٹی رسک بنتے جا رہے ہیں۔ نواز شریف پر سیکورٹی رسک کا الزام اُس وقت بھی نہیں لگا جب وہ جلاوطن تھے اور مشرف آمریت کو للکار رہے تھے۔ نواز شریف کو اس دور میں غدار کہاگیا ہے اور وجہ ہندوستان کے ساتھ امن کی خواہش نہیں ہے جیسا کہ وزیر خارجہ نے قرار دیا ہے بلکہ ہندوستان شخصیات کے ساتھ ان کے پراسرار تعلقات ہیں اور پاکستانی مفادات کو یکسر نظر انداز کرنا ہے۔ نواز شریف کے چار سالہ دور حکمرانی کا جائزہ لیں تو ایک بات آپ کوفوری طور پر سمجھ میں آ جائے گی کہ نواز شریف بھارت اور امریکہ کی خواہشات کا احترام اپنے اوپر لازم کر چکے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات بنانے کے لیے انہوں نے جو پاپڑ بیلے وہ اب راز نہیں رہے چنانچہ اپنے اقتدار کی سلامتی اور طوالت کے لیے انہوں نے جو گرہ اپنے پلے سے باندھ رکھی تھی وہ بھارت اور امریکہ کی ہر حال میں خوشنودی تھی۔ ظاہر ہے کہ ماضی کاتجربہ ذہن میں رکھتے ہوئے انہوں نے فوج کو دباؤ میں رکھنے کے لیے ہندوستانی اور امریکی فرمانبرداری کا ہتھیار استعمال کیا لیکن شومئی قسمت کہ اس بار وہ عدلیہ کے بے رحم انصاف کا شکار ہوگئے۔ وہ عدلیہ جس کے ساتھ ان کی گاڑھی چھنتی تھی اور جس کے بارے میں ان کے مخالفین کو اعتراض رہا ہے کہ اُس نے نواز شریف کو ہمیشہ ریلیف دیا ہے۔ آج جب کہ وہ میرٹ پر مبنی انصاف کے شکنجے میں آئے ہیں تو انہیں امریکہ بچا سکا اور نہ مودی کا ہندوستان۔ ہندوستان والے نواز شریف پر اس درجہ مہربان ہیں کہ وہ ان کی حمایت میں کھل کر بولتے ہیں لیکن ان کی ''سرحدوں'' سے آگے چلتی نہیں ہے ۔ دوسری طرف امریکہ پاکستان کے ریاستی معاملات میں اب تک جو مداخلت کرتا رہا ہے وہ فوج اور اہل سیاست تک محدود رہی ہے۔(بقیہ صفحہ 7پر ملاحظہ فرمائیں)

متعلقہ خبریں