خاموش تماشائی

خاموش تماشائی

اہمیت کاحامل شہر اپنے اندرکئی تاریخیں چھپائے ہوئے ہے۔ اس شہر کو تاریخ نے کئی نام دیے کبھی اسے پھولوں کا شہر کہا گیا تو کبھی پشاور کوبرصغیر پاک و ہندمیں داخل ہونے کا ( گیٹ وے) یعنی باب قرار دیا گیا، تاریخ نے کہیںاس شہر کے مسافر خانوں اور سرائوں کا ذکر کیا تو کبھی اسے مختلف تہذیبوں کا مسکن کہا گیا تاریخ پشاور کے قہوہ خانوں اور بالا خانوں کے ذکر سے بھی خالی نہیں۔ کبھی اس شہر سے گزرنے والے جنگی لشکروں اور جنگجو قبیلوں کا ذکر ہواتو کبھی اس شہر سے ماخوذ کسی محبت کی داستان کا ذکر کیا گیا،کبھی ذکر بہاراںتو کبھی چیخیں اور آہیں، اس شہر کی تاریخ میں شہیدوں، غازیوںا ولیاء کے قصے بھی ہیں اور محبت کی داستانیں بھی،اس کی تاریخ سبق آموز بھی ہے اور ڈرامائی تبدیلیوں سے بھی بھری پڑی ہے ،تاریخ سے دلچسپی اور پشاور کی گلی کوچوں میں پروان چڑھنے کی وجہ سے کئی بار پشاور کی تاریخ پڑھی اور آہستہ اہسة خود زندگی کے اس حصے میں آگیا جہاں اپنی ہی زندگی کے کچھ واقعات وحادثات تاریخ کا حصہ لگنے لگتے ہیں ہم اپنے بزرگوںسے محبت اور عقیدت رکھتے رہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کی تاریخ پڑھی ان پر کیا گزری انہوںنے کیا کیا صعوبتیں برداشت کیں سب کچھ تاریخ کا حصہ ہیں لیکن میری پیڑھی نے جو دیکھا شاید ہم اس کو تاریخ کاحصہ بنانا بھول گئے یا شاید ہمیںتاریخ کے الفاظ کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا اس لئے ہم نے کوشش ہی نہیں کی کہ اپنی تاریخ کو الفاظ کی شکل دے کر نوجوان اور اس کے بعد آنے والی نسل کو اپنے قریب لا سکیں ، ہمارے بزرگوں نے تو الفاظ کے سہارے ہمیں اپنے نزدیک کر لیا لیکن شاید ہمارے پاس اپنی نوجوان نسل کو اپنے پاس لانے کا ہنر ہی نہیں تھاجس کی وجہ سے نوجوان نسل کو ہم نے خود سے دور کر دیا اور پھر شکوہ بھی کیا کہ ہماری نئی نسل بد مزاج بدتمیز اور بد تہذیب اور نہ جانے کون کون سے القابات سے ان کو نواز رہے ہیں،اصل میں اس خاموشی کے ذریعے ہم نے اپنی اس غلطی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جو ہمیں دھوکے میں رکھ کر ہم سے کرائی گئی جی ہاں ہمارے ساتھ دھوکہ کیا گیا اور ہم اس فریب میں پھنس بھی گئے اور اسی وجہ سے ہم نے چپ سادھ لی اور خاموشی سے سب کچھ سہتے گئے، خطوط کا سلسلہ کبوتروں سے ڈاکخانے میںکب بدلا اس کی تو تاریخ موجود ہے لیکن ڈاکخانے سے (ای میل) کا سفر طے کرنے میں شہر پشاور اور ہم نے کیا کچھ دیکھا نوجوان نسل اس سے بالکل بے خبر ہے، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تو میرا شہر پشاور ایسا نہیں تھا، شہر پشاور میں جتنا غصہ اور نفرت اب ہے ،اتنی پہلے نہیںتھی اس غصے اور نفرت کی وجہ ہماری وہی غلطی ہے جس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوںاور جس نے ہمیں خاموش رہنے پر مجبور کردیا ہمارے بزرگوں نے ہمیں جو پشاور دیا تھاوہ محبت اور بھائی چارے کا شہر تھا اس میں تعصب نام کی کوئی چیز نہیں تھی ،فقہ کے نام پر دوری تو دور ہم تو مذہب کی دوری سے بھی ناواقف تھے ، شیعہ کا سنی سے جھگڑا تو دور میں نے بچپن میں کسی کو مذہب کے نام پر کسی سے جھگڑتے ہوئے نہیں دیکھا ، شہر پشاور میں اس وقت خیرات اور نیاز میں کوئی فرق نہیں تھا عید ، شب برات ، نوروز ، رمضان، ، محرم، بارہ وفات ، کرسمس، ایسٹر، بسنت،سب کے سب تہوار عقیدت و حترام، جوش و جذبے سے منائے جاتے تھے، ایک ہی کلاس اور سکول میں پڑھنے والے مسلمانوں اور غیر مسلم طلباء کو کبھی کسی نہ دکھائی دینے والی دیوار نے ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا کبھی کسی تہوار سے اجنبیت یا نفرت کا احساس نہیں ہوا لیکن دھیرے دھیرے (سلو پوائیزننگ) کے ذریعے نہ جانے کب اور کیسے ہم ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے اور نہ جانے کب ہم مسلمان اور غیر مسلم میں تقسیم ہوئے او ر پھر دھیرے دھیرے سنی ، شیعہ ، بریلوی، دیوبند، اہلحدیث، پنج پیری اور نہ جانے کیا کیا بن گئے ، پہلے ایک وقت دنگے اورفساد کا آیا جب ہم سکول میںہوا کرتے تھے اوراچانک سکول انتظامیہ کو سکول کی چھٹی کرنی پڑ جاتی کہ حالات خراب ہیں ،پہلے تو ہم ان اسباب سے ناآشنا تھے لیکن جب ہم ان اسباب سے آشنا ہوئے توبہت دیر ہوچکی تھی اور چاہتے نہ چاہتے ہمیں ان ہی رنگوں میں اپنے آپ کو رنگنا پڑاکیونکہ اگرکوئی اس صورتحال کیخلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتا تو اسے ایسے ایسے بہتاں ، الزامات ، اور فتووںکا سامنا کرنا پڑتا جنہیں سوچ کر ہی روح کانپ جاتی تھی غرض ہم نے خاموش رہنے میں جان کی امان پائی اور خود کو اسی روپ میں ڈھال لیا کیا کرتے شعوری طور پر کمزور تھے ۔

اب آتے ہیںنتائج کی طرف جو اس غلطی کی وجہ سے سامنے آئے حالات واقعات سے مجبور مگر بحیثیت انسان فطرت تو بدلی نہیں جا سکتی دستیاب وسائل میں ہی اپنی فطری ضروریات کو پورا بھی کرنا تھاسو ضرورت کو پورا کرنے کیلئے سائنس کا سہارا لیا گیا وہ سائنس جس کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں تھا محبت کوبھی سائنس کا سہارا لینا پڑا اور خط و کتابت کی بجائے پہلے(ٹیلیفونک ) گفتگو کا سہارا لیا گیا اور دھیرے دھیرے ٹیلیفون کی جگہ موبائل فون اور انٹر نیٹ نے لے لی اب چونکہ معاملہ جذبات اور محبت کا تھا اور عمل دخل سائنس کا تو چیزیں کچھ بگڑ سی گئیں محبت اور محبوب کے معیار اور انداز بھی بدل اور بگڑ گئے،اور بات محبت کو چھوڑ کر بے راہ ر وی کی طرف چل نکلی اورمعاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا اور حالات کسی اورڈگرپر چل پڑے، اب کیا کیا جائے حالات کو کیسے سنبھالا جائے تو مجھ نا چیزکی رائے میں جب تک ہم اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے اور انا کے بت توڑ کر اپنی غلطی مان نہیں لیتے کہ ہم نا سمجھی میں دھوکہ کھا گئے اور اب اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہیں، گو کہ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن کسی سیانے نے کہا کہ اگر کوئی چیز الجھ جائے تو اسے سلجھانے کا صرف ایک راستہ کہ اس جگہ سے سلجھانا شروع کرو جہاں سے الجھن شروع ہوئی تھی درمیان سے کسی بھی غلطی کو سدھارا نہیں جا سکتا ، سب سے پہلے ہمیں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہو گا اور پھر تقسیم کے اس عمل کو ختم کرتے ہوئے اتحاد اور بھائی چارے کی راستے پر چلنے کی کوشش کرنا ہوگی، ورنہ تقسیم ہوتے ہوتے ہم اتنے کمزور اور لاچار ہو جائیں گے کہ کسی سازش کی ہوا بھی ہمیں بکھیرنے کیلئے کافی ہوگی ، اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنی غلطی سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر خاموش تماشائی بن کرخاموش تماشا دیکھتے ہیں۔

اداریہ