Daily Mashriq


خیبر پختون خوا میں سود کاکاروبار عروج پر

خیبر پختون خوا میں سود کاکاروبار عروج پر

خیبر پختون خوا میں صوبائی حکومت کی طرف سے سود کے خلاف بل پاس ہونے کے باوجود بھی سود کا کاروبار پورے عروج پر ہے۔ لوگ گا ڑیاں، مو ٹر سائیکل اور دوسرے املاک تین یا چار گنا سود پر دیتے ہیں اور اس سودی کاروبار کے ذریعے غریبوں اور لاچاروں پر ظلم کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے خیبر پختون خوا میں قانون نہ ہونے کی وجہ سے سودئے غریب لوگوں پر انتہائی ظلم ڈھاتے تھے۔ بد قسمتی سے سود کے کاروبار میں ملوث لوگ اتنے طاقت ور ہوتے ہیںکہ کوئی سائل اس کے خلاف بات کرنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا تھا اور یہ سودئے غریب مقروض لوگوں سے عرصے میں ٤ یا ٥ گناسود لیتے تھے۔ اللہ نے کاروبار کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔قرآن مجید کی4 آیتوں اور40 احادیث میں سود کی ممانعت کا ذکر ہے۔سورة آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰ ہے! اے ایمان والو دگنا چوگنا سود نہ کھائو اور دوزخ کی آگ سے بچو۔ سورة البقرة میں ارشاد ہے! اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑو، اگر تم ایمان والے ہو۔ پھر اگر تم عمل نہ کرو تو اللہ اور اس کے رسولۖ سے اعلان جنگ سن لو۔ حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ حضور ۖ نے سود کھانے والے، سود لینے والے اور سود تحریر کرنے یا حساب لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا یہ گناہ کبیرہ ہے۔ حضور ۖ نے فرمایا سود کے ستر گناہ ہیں ان میں ادنی ایساہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔ فاروق اعظم حضرت عمر کا ارشاد ہے کہ سود کو بھی چھوڑو اور جس میں سود کا شُبہ ہے انکو بھی چھوڑو۔حضرت علی کا ارشاد ہے کہ حضور ۖ نے فرمایا جو قرض کوئی منافع پیدا کرے وہ ربا یعنی سود ہے۔اگر حالات کا تجزیہ کیا جائے تو اسلام کا کوئی عمل ایسا نہیں جو انسانوںکے فلاح کے لئے نہ ہو۔ اور دوسرے مذاہب کی طر ح دین اسلام میں سودکو حرام قرار دیا گیا ہے۔ سود سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے جاتے ہیں۔غُربت جوکہ سماجی بیماری ہے اس سے معاشرے کا ایک عزت دار انسان رسوائی کا شکار ہوجاتا ہے اور اُس کی اخلاقی قدریں تباہ وبر باد ہوجاتی ہیں۔ جہاں دولت چند ہاتھوں میں ہوتی ہے معاشرے میں لالچ ،کرپشن، چو ری ، اقدام قتل اور قتل جیسے واقعات میں اضا فہ ہوجا ہے نتیجتاً معاشرے کا توازن بگڑ جاتا ہے ، ملک افراتفری اور سول وار کا شکار ہوجاتا ہے ۔تجارت میں برابری اور توازن ہے جبکہ اسکے بر عکس سود میں برابری اور توازن نہیں۔ سودی نظام میں کسی کی جائز ضرورت اور تکلیف سے فائدہ اُٹھا کر ناجائز پیسے کمائے جاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سود سے مختلف اشیاء کی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کی وجہ سے بے روز گاری میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس پیسہ جب گر دش میں ہوتا ہے تو اس سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے سود سے دولت کی گر دش رُک جاتی ہے اور معاشرے کے زیادہ لوگوں کی بجائے چندلوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں۔سودی نظام میں سودخوردوسروں کی تکالیف سے فائدہ اُٹھا کر دولت کو اکٹھا کرکے اسکو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ سو دی نظام سے خود غرضی ،لالچ، نفاق ، نفرت اور اللہ پر توکل اور اچھائی کا جذبہ ختم ہو جاتا ہے اورا نسان پیسوں کے اکٹھا کرنے اور اسکو نتھ نئے طریقوں سے حا صل کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہے۔سود خور کے آگے رشتے اور تعلق کی کوئی حیثیت نہیںہوتی بلکہ اُسکا محور پیسہ اورصرف پیسہ ہوتا ہے۔ سود جوکہ ظالمانہ اور دولت کا غیر مساویانہ نظام ہے اس کا اصل مقصد دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ہوتا ہے جس سے معاشرے میںغریبوں کوامیروں سے نفرت ہوجاتی ہے اور معاشرہ افرا تفری کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسلام نے سود کے خلاف جو نظام تشکیل دیا ہے وہ دولت کا مساویانہ طور پر خرچ کرنا، زکواة کی ادائیگی، صدقات ، وراثت اور اللہ کی راہ میں خرچنا شامل ہے، جس سے معاشرے میں محبت اور اخوت میں اضافہ ہوتا ہے۔۔جا وید احمد غاصدی کہتے ہیں جتنا لیاجائے اتنا دیا جائے اگر زیادہ کا مطالبہ کیا جائے تو یہ سود ہے ۔ کسی کو اجارے ٹھیکے پر زمیں دینا سود نہیں مگر Mortgage کرنا سود ہے۔ ۔ اگر پاکستان کے60 سالہ اقتصادی تا ریح کو دیکھا جائے تو پاکستان کے قرضے 9 فی صد، جبکہ پاکستان کی اقتصادی شرح نمو 5 فی صد ہے۔ اورپاکستان کی اقتصادی شر ح نمو کبھی بھی 9فی صد تک نہیںپہنچ سکتی۔ پاکستان اپنی قومی آمدنی کا ٦٥ فی صد سود کی ادائیگی پر دے رہا ہے۔اتنی بھاری رقم عالمی سود خوروں کو دینے کے بعد غریبوں کے لئے کیا بچتا ہے امریکہ کے جان بر گر جنہوں نے اپنی پو ری عمر آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور ڈبلیو ٹی او کے ساتھ گزاری اور اُنکے روابط امریکہ بر طانیہ کے صدور اور وزرائے اعظم کے ساتھ بھی رہے ۔ایڈ وائزر آف فنانس منسٹر اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندہ بھی رہے، اسکی سوئی ہوئی ضمیر عمر کے آخری حصے میںجاگی اورانہوں نے اپنی کتاب Confession of economic hit man میں وہ سب کچھ بتا دیا جو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف غریب ممالک کے ساتھ کرتے ہیں۔اُنہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ان دو اداروں کے ممبر ممالک ہو تے ہیں جو ان اداروں کو فنڈنگ کرتے ہیں۔ امریکہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا سب سے بڑاعطیہ دینے والا ملک ہے اور عطیہ دینے کی بنیاد پر ان دو اداروں میں امریکہ کا سب سے زیادہ اثر رسوخ ہے اور امریکہ دنیا میں اپنی مرضی کی خا رجہ پالیسی عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے ذریعے مسلط کرتی ہے۔جان بر گر کہتے ہیں کہ امریکہ ان دو عالمی اداروںکے ذریعے اُن ممالک کوٹارگٹ کرتا ہے جہاں پر معدنی وسائل ہوں یا انکی جغرافیائی سٹڑیٹیجک لوکیشن ہو، جسکے ذریعے وہ اپنی سیا سی لیوریج کو بر قرار رکھ سکے۔

متعلقہ خبریں