Daily Mashriq

سطحی فیصلوں سے عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں

سطحی فیصلوں سے عوامی مسائل کا حل ممکن نہیں

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں خیبر پختونخوا کابینہ کے اجلاس میں تاریخی قلعہ بالاحصار کو سیر و تفریح کا مقام قرار دینے اور گورنر ہائوس کو عوام کیلئے کھولنے کا فیصلہ احسن ضرور ہے لیکن وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس میں اس قسم کے سطحی فیصلوں کی بجائے اگر عوام کو سہولتیں دینے ' مشکلات کا ازالہ کرنے اور صوبے کے وسائل کو ان کے حوالے کرنے کے بارے میں اعلانات ہوتے تو زیادہ بہتر تھا جس کا عوام کو شدت سے انتظار ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے صوبائی کابینہ کی مشاورت سے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے ضلع کونسل کو مکمل طور پر ختم کرنے اور تحصیل و ٹائون کونسل کے مئیر کے براہ راست انتخاب کا فیصلہ بیورو کریسی کی جیت کے مترادف ہے جو ضلع کی سطح پر با اختیار مئیر یا ناظم دیکھنے کی خواہاں نہیں تھی۔ ایک ایسا عوامی نمائندہ جو لاکھوں لوگوں کے ووٹوں سے براہ راست منتخب ہو کر بیورو کریسی کو لگام دینے کے قابل ہوتا اس کی بجائے خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے ضلع کونسل مکمل طور پر ختم کرنے اور تحصیل و ٹائون مئیرکاانتخاب براہ راست کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ہم سمجھتے ہیں کہ ضلع کونسل کو مکمل طور پر ختم کرکے تحصیل اور ٹائون مئیر کا براہ راست انتخاب کا طریقہ تو مثبت اقدام ہے پست سطح پر اختیارات کی منتقلی اور اس سطح پر عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب مئیرکا عوامی مسائل کے ادراک اور حل میں دلچسپی فطری امر ہوگا جبکہ علاقے کے عوام قرب مکانی کے باعث ان سے باآسانی رابطہ بھی کرسکیں گے۔ ان تمام مثبت امورکے برعکس اس کا جو سب سے زیادہ منفی پہلو سامنے آنے کا امکان ہے وہ یہ کہ اس طرح کے عوامی نمائندے ضلع کی سطح پر ڈپٹی کمشنر ' اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی پی او پر اثر انداز نہیں ہو سکیں گے جس کے باعث بیورو کریسی کو من مانی کا کھل کر مواقع میسر آئیں گے۔ اگر دیکھا جائے تو اس وقت جبکہ ضلع ناظمین موجود ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ضلعی بیورو کریسی پر حاوی تو درکنار ان کے مرہون منت ہونا ان عوامی نمائندوں کی مجبوری ہے۔ سابق صدر جنرل مشرف کے دور میں ڈپٹی کمشنرکا عہدہ ختم کرکے ڈی سی اوز اور ضلع ناظمین کو اعتماد دے کر کافی حد تک بیورو کریسی کی من مانیوں کاخاتمہ کردیاگیا تھا جبکہ ضلعی ناظمین کے پاس اختیارات کے علاوہ ضلعی سطح کے افسران کے اے سی آرز لکھنے کے ترپ کا پتا ضلعی ناظمین کے ہاتھ میں دیاگیا تھا۔ یہی وجہ تھی مختلف اضلاع میں ڈی سی اوز اور ضلعی بیورو کریسی میں اختیارات کی جنگ اور اختلافات سامنے آتے رہے۔ لیکن جب سے اس کی ہیئت تبدیل ہوئی اس کے بعد صورتحال مختلف رہی لیکن اس کے باوجود بھی ضلع ناظمین کی موجودگی بیورو کریسی کو گوارا نہیں۔ ان امور پر از سر نو غور کرکے اگر کوئی درمیانی راہ تلاش کی جائے تو بہتر ہوگا وگرنہ بلدیاتی نظام کو جس طرح لنگڑالو لابنا کر اس سے عوام کی خدمت کی امید وابستہ کی جا رہی ہے اس میں ناکامی تقریباً یقینی ہے۔اجلاس میں تاریخی قلعہ بالا حصار کو سیر و تفریح کا مقام قرار دینے اور عوام کیلئے کھولنے کی منظوری دیتے ہوئے وزارت داخلہ کو ہدایات جاری کی گئیںکہ قلعہ بالا حصار کو عوام کیلئے کھولنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ کابینہ اجلاس میں گورنر ہائوس کو ہر اتوار کو عوام کیلئے کھولنے کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں خیبر پختونخوا میں سیاحت کے مزید فروغ کیلئے اقدامات اٹھانے کی بھی ہدایت کی گئی۔اجلاس میں وزیر اعظم نے صوبائی حکومت کو تجاوزات کے خاتمے کیلئے کارروائی کی بھی ہدایت کی۔تاریخی قلعہ بالا حصار اور گورنر ہائوس کے حوالے سے احکامات مثبت ضرور ہیں اس پر عملدرآمد کی صورتحال اگر یقینی بھی بنا دی جائے تب بھی یہ عام آدمی کی دلچسپی کی چیز نہیں اور نہ ہی اس سے کسی مثبت تبدیلی کی توقع ہے البتہ سیاحت کے فروغ کے حوالے سے فیصلہ اس بناء پر اور بھی حوصلہ افزاء ہے کہ اولاً اس کے صوبائی وزیر' وزیر اعظم کا پورا اعتماد حاصل ہونے کے باعث زیادہ موثر طریقے سے سیاحت کے فروغ کے اقدامات کو آگے بڑھا سکیں گے۔ صوبے میں سیاحت کے بہتیرے مواقع ہونے کے باعث اس شعبے میں تھوڑی سی توجہ اور اقدامات سے بڑے نتائج کاحصول ممکن ہوگا جس سے صوبے کی آمدنی میں اضافہ اور عوام کو مختلف نوعیت کے کاروبار اور خدمات کی فراہمی کے سنہری مواقع میسر آئیں گے۔ وزیر اعظم کی جانب سے تجاوزات ہٹانے کی ہدایت اس ٹوٹے سلسلے کی کڑی سے کڑی ملانے کا عمل ہوگا جو بوجوہ تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت سرگرمی اور سنجیدگی کے ساتھ شروع کرنے کے باوجود انجام نہیں دے سکی تھی۔ اس ضمن میں صوبائی حکومت کو سیاسی اور عوامی دبائو کا یقینی طور پر سامنا ہوگا لیکن صوبے کو تجاوزات سے پاک کرنے کے عمل کی ہر قیمت پر تکمیل احسن ہوگی۔توقع کی جانی چاہئے کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی نظام کی تکمیل پر از سر نو غورکیا جائے گا اور ان شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جائے گا جن کا اظہار سامنے آرہا ہے۔ علاوہ ازیں ایسے اقدامات یقینی بنائے جائیں گے جو عوامی مسائل کے حل کے ضمن میں ٹھوس اور مثبت ثابت ہوسکیں۔

متعلقہ خبریں