Daily Mashriq

پولیو مہم اب بھی محفوظ نہیں

پولیو مہم اب بھی محفوظ نہیں

خیبر پختونخوا میں اس کے باوجود کہ جید علمائے کرام نے باقاعدہ فتویٰ دے کر پولیو مہم کی تائید کی ان کا فتویٰ مختلف اخبارات میں تواتر سے شائع ہوا۔ قبل ازیں بھی علمائے کرام نے اسی قسم کا فتویٰ جاری کیا تھا لیکن اس کے باوجود حالیہ پولیو مہم کے دوران لیویز کے ایک صوبیدار کی جان چلی گئی جو اس امر پر دال ہے کہ ان تمام تر مساعی کے باوجود صوبے میں اب بھی پولیو مہم کے مخالفین اور اس مہم کے محافظین اور کارکنان کی جانوں کے درپے لوگ موجود ہیں۔ اسے بدقسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہہمارے معاشرے میں جب کسی چیزکے بارے میں پراسرار طور پر منفی پروپیگنڈہ کرکے لوگوں کے اذہان کو پراگندہ کیا جاتا ہے تو اس کے بعد خواہ جتنی بھی کوشش کی جائے لوگ اپنی رائے بدلنے پر تیار نہیں ہوتے۔ پولیو جیسے موذی اور مستقل معذور کر دینے والے مرض کے بارے میں نامعلوم وجوہات کے باعث جو منفی پروپیگنڈہ کیا گیا جید علمائے کرام کے فتوئوں اور وعظ نصیحت کے باوجود لوگ اسے قبول کرنے سے گریزاں ہیں۔علمائے کرام کا یہ قرار دینا چشم کشا ہے کہ پولیو قطرے پلانے سے انکار بچوں کو قتل کرنے کے مترادف ہے ۔ ہمارے دیگر علمائے کرام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ بھی اس حوالے سے نئی نسل کے تحفظ اور صحت کی خاطر بلاوجہ مخاصمت رکھنے والے عناصر کی رائے میں تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ صوبے میں جو وسائل پولیو مہم کی سیکورٹی ضروریات پوری کرنے کے لئے بروئے کار لائے جارہے ہیں اس کی ضرورت باقی نہ رہے اور یہ وسائل کسی اور نافع جگہ استعمال میں لائے جاسکیں۔پولیو کے خلاف پروپیگنڈے میں کمی ضرور آئی ہے لیکن اس کے باوجود بھی اس کی مخالفت موجود ہے۔ ایسے میں یہ معاشرے کے با شعور طبقے اور خاص طور پر علمائے کرام کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس وقت تک اس ضمن میں اصلاحی بیانات دیں جب تک لوگوں کے دلوں میں موجود خواہ مخواہ کے شکوک و شبہات دور نہیں ہوتے۔

اعلانیہ چرسی اڈہ

یوں تو شہر میں جا بجا نشئی افراد کے اڈے موجود ہیں لیکن گلبہار تھانے کے عین سامنے سے گزرنے والے بی آر ٹی کے پل کے نیچے ایک خاص جگہ کو دیوار پر سرخ روشنائی سے لکھ کر چرسی اڈہ قرار دیا جانا پولیس کے منہ پر طمانچہ ہے ۔اسے چرسی اڈہ قرار دینا اس لئے بھی عین موزوں ہے کہ صبح دوپہر شام جس وقت بھی گزریں ٹھٹھ کے ٹھٹھ نشہ کر رہے ہوتے ہیں ان کو ذرا بھی پرواہ نہیں کہ چار قدم کے فاصلے پر تھانہ ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں نشے کے عادی افراد کو ریلوے کی پٹڑی' مختلف پلوں' سڑکوں کے کنارے اور پبلک پارکس میں نہ صرف سرعام دیکھاجاسکتا ہے بلکہ ان کونشے کی اشیاء فراہم کرنے والوں کوبھی سودا فروخت کرتے ہوئے بہ آسانی دیکھنا کوئی مشکل کام نہیں۔ شہریوں کا یہ عام مشاہدہ ہے اگر کسی کو نظر نہیں آتا تو یہ مقامی پولیس اور انسداد منشیات فورس کے اہلکار ہی ہوں گے۔ نشے کے عادی یہ افراد بلا کے حق گو ہوتے ہیں ان سے اسی لت میں مبتلا ہونے کی ابتداء سے لے کر حصول نشہ تک کی کہانی کوئی بھی سن سکتا ہے۔ البتہ آغاز کلام قدرے مشکل ہوتا ہے پولیس اہلکار کھڑے دیکھ رہے ہوتے ہیں مگر ان کو کوئی پرواہ اس لئے نہیں ہوتی کہ علاقے کا تھا نیدار پہلے ہی اپنا حصہ وصول کر چکا ہوتا ہے۔ اسے مضحکہ خیز امر ہی قرار دیا جائے گاکہ جب بھی خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس ہوتا ہے ریلوے کی پٹڑی پر پولیس کی بھاری تعداد میں نفری تعینات کر دی جاتی ہے اس کے باوجود نشہ کے عادی افراد ریلوے کی پٹڑی پر سبزہ زار میں دیکھے جاتے ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ کے صدر دروازے کے سامنے ایک پولیس پک اپ ہمہ وقت موجودہوتی ہے مگر سامنے پٹڑیوں پر ہیروئن کے عادی افراد کو اس کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار ان سے تعرض کرتے ہیں۔ پشاور ہائیکورٹ کے معزز جسٹس صاحبان کی نظر بھی ان پر پڑتی ہوگی۔عام آدمی تو جگ سارا جانے ہے کے مصداق ہر بات سے واقف ہے۔ آخر اس کے باوجود کسی متعلقہ وغیر متعلقہ فورم سے کبھی اس مسئلے پر آواز کیوں نہیں اٹھتی ۔کیا ان افراد کا روپ دھار کر معلومات اکٹھی کرنا اور ریکی کرنا ناممکن ہے ۔فہمارے تئیں تو سب سے آسان طریقہ ان افراد کا روپ دھارنا ہے جو محفوظ بھی ہے اور کوئی تعرض بھی نہیں کرتامحکمہ داخلہ منشیات کے عادی افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف کیا ہوا میںاقدامات اٹھا رہا ہے۔ شہر کے مرکزی علاقے اور سیکرٹریٹ کے قریب علاقوں میں جومنظر ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں پھر اس طرح کے دعوئوں پر کیسے اعتبار کیاجائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ محکمہ داخلہ پولیس حکام اور اینٹی نارکاٹکس فورس جہاں فراہمی منشیات کی روک تھام کی ذمہ داری نبھائیں گے وہاں فلاحی ادارے ان ستم رسیدہ اور معاشرے کے دھتکارے ہوئے افراد کی بحالی کے لئے ان کا علاج کر کے دوبارہ معاشرے کا کارآمد فرد بنانے کی ذمہ داری نبھائیں گے۔

متعلقہ خبریں