Daily Mashriq

معیشت کا بحران اور عوام

معیشت کا بحران اور عوام

اسد عمر گزشتہ مہینے سوا مہینے سے باقاعدہ وزیر خزانہ ہیں لیکن اس عہدے کے لیے ان کی نامزدگی تحریک انصاف کئی مہینے پہلے کر چکی تھی۔ جب یہ سوال اُٹھایا جاتا تھا کہ تحریک انصاف آئندہ حکومت بنانے کے دعوے تو کر رہی ہے لیکن اس کی شیڈو کابینہ (Shadow Cabinet)کہاں ہے' تو تحریک انصاف کے حلقوں سے جواب آتاتھا کہ اسد عمر ملک کی معیشت کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ ایک اعلیٰ سطح کی ٹاسک فورس معیشت سے متعلق بنائی جائے گی اور ملک کی معیشت کے مسائل حل کر لیے جائیں ۔ وہ ٹاسک فورس تو بوجوہ نہیں بن سکی ۔ لیکن اسد عمر تو بطور وزیر خزانہ موجود ہیں اور ان پرکوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ماہرین معیشت سے مشاورت نہ کریں۔ نئی حکومت کے قیام سے پہلے ان کے نامزد وزیر خزانہ ہونے سے یہ تاثر قائم ہوتا تھا کہ حکومت قائم ہو گی تو جیسا کہ ضروری تھا کہ سب سے پہلے معیشت میں بہتری لانے پر توجہ دی جائے گی لیکن ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ تحریک انصاف کی ساری انتخابی مہم ہی ملک کا پیسہ غیر قانونی طور پر باہر لے جانے والوں کے خلاف تھی ' بڑے اعداد و شمار بیان کیے جاتے تھے جو اب بھی بیان کیے جاتے ہیں لیکن یہ پیسہ کس طرح واپس ملک میں لایا جا سکتا ہے اس پر نہ پہلے عوام کو اعتماد میں لیا جاتا تھااور نہ اب اس بارے میں کوئی پیش رفت نظرآتی ہے۔ حکومت کو قائم ہوئے ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے اب کہیں جا کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جو 2700جائیدادوں کے کوائف حاصل ہوئے ہیں ان میں سے تین سے چار سو تک جائیدادوں کے بارے میں بیرون ممالک سے سلسلہ جنبانی کی جائے گی۔ لیکن ان جائیدادوں کی مالیت کتنی ہے ' کیا یہ واقعی ایسے پیسے سے بنی ہیں جو غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا تھا اور غیر قانونی طور پر بیرون ملک لے جایا گیا تھا؟ اس کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں آئی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ آپ کسی ملک کی حکومت سے کہیں کہ ہمارے لوگوں کی غیر قانونی بنائی ہوئی جائیدادیں آپ کے ملک میںہیں' ان کی مالیت آپ ہمیں واپس کر دیں؟ اول تو ایسے معاہدے ان ملکوں کے ساتھ نہیںہیں ۔ دوسرے کسی ایسے مطالبے سے پہلے آپ کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ یہ جائیدادیں غیر قانونی طور پر حاصل کیے ہوئے پیسے سے یا غیر قانونی طور پر منتقل کیے ہوئے پیسے سے بنائی گئی ہیں۔ کسی ملک کی حکومت کو اس پر قائل کرنے سے پہلے آپ کو اپنے ملک کی عدالتوں میںیہ مقدمات لے جانے ہوں گے ' وہاں سے فیصلے حاصل کرنے ہوں گے اور ان فیصلوں کی بنیاد پر متعلقہ ملکوں کی حکومتوںکو قائل کرنے کی کوشش کرنی ہو گی جہاں یہ دلیل پیش کیے جانے کا امکان ہے کہ پاکستان کی حکومت سیاسی انتقام کے طور پر کارروائی کر رہی ہے۔ سرمایہ بہت کام کرتا ہے۔ آپ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ لانے کے لیے ترغیبات دیتے ہیں ' کوئی ملک کیوں آپ کی بات مانے گا جب تک آپ اسے قائل نہ کر سکیں گے کہ یہ سرمایہ آپ کے ملک سے غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا تھا یا منتقل کیا گیا تھا۔ اسد عمر نے اس حوالے سے تیاری کی ہوتی تو جس دن حکومت بنی تھی اس سے اگلے دن درخواستیں عدالتوں میں پہنچ جاتیں۔ لیکن ہوا یہ ہے کہ جس دن سے حکومت بنی ہے اس دن سے میڈیا میں آئی ایم ایف کے پاس مدد کے لیے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں جو آج تک جار ی ہیں۔ ایک طرف دوست ممالک سے مدد کی امیدیں لگائی جا رہی ہیں ' دوسری طرح اپنے ملک میں روز مرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کر کے محاصلات میں اضافہ کرنے کی طرف پیش رفت نظرآتی ہے۔ تازہ ترین یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ کم کر کے چار روپے فی لیٹر کرنے کی سمری تیار کر لی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ حتمی منظوری وزیر اعظم عمران خان دیں گے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا یہ مہنگائی میں اضافے کی خبریں عوام کو مہنگائی کے لیے تیار کرنے کے لیے آ رہی ہیں۔ لیکن اس پالیسی کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عوام مہنگائی کے خلاف احتجاج پر اُتر آئیں۔ تحریک انصاف کی حکومت عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئی ہے اسے عوام کو اعتماد میںلینا چاہیے۔ اپوزیشن کو اس بات سے انکار نہیں کہ معیشت کی یہ زبوں حالی سابقہ حکومتوںکی کارکردگی کا نتیجہ ہے اور تحریک انصاف یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ وہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے گی۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ یہ معاملات پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور جو بھی صورت سامنے آئے اس کی ذمہ داری حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ہو۔ اس گومگو کی کیفیت میں اضافہ کرنے کے لیے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہہ دیا ہے کہ ملک کی معیشت کا بائی پاس ہو رہا ہے ۔ اور آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیا جا رہا۔بائی پاس کا بالعموم یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کی بجائے متبادل ذرائع کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ وہ متبادل ذرائع کون سے ہیں اس کی وضاحت نہیں کی جا رہی۔ وزیر خزانہ نے ایک طرف کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض نہیں لیا جا رہا بلکہ فنڈ کی جو ٹیم آج کل اسلام آباد میں مذاکرات کر رہی ہے وہ گزشتہ پروگرام کی تکمیل کے جائزے کی بات چیت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا تو اسی گفتگو کی بنیاد پر بات آگے بڑھے گی یعنی آئی ایم ایف کا آپشن ابھی ترک نہیں کیا گیا۔ قرضے اتارنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لیا جائے یا قرضے اُتارنے کے لیے گیس ' پیٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے دونوں صورتوں میں نتیجہ عوام ہی کو بھگتنا پڑے گا۔ اس لیے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ کم از کم معیشت کے بحران سے متعلق عوام کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جائے اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے تعاون سے پالیسی بنائی جائے ۔ اپوزیشن والوں کو بھی یہ معلوم ہے کہ موجودہ بحران انہی کی کارکردگی کا نتیجہ ہے اور عوام بھی اس حقیقت کو جانتے ہیں۔ اس لیے پارلیمنٹ میں معاملہ لیجانے اور عوام کو اعتماد میںلینے سے بہتر حل کے لیے امید کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں