Daily Mashriq

مگر اس دودھ میں پانی بہت ہے

مگر اس دودھ میں پانی بہت ہے

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی نائب وزیر برائے جنوبی اور وسط ایشیائی امور ایلس ویلز نے پاک افغان تعلقات ،طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دیگر امور کے حوالے سے جو گفتگو کی ہے اس میں موصوفہ نے بھارت افغان تجارت پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی اقتصادی ترقی اور استحکام کی حمایت کرنی ہے خاص طور پر افغانستان سے آنے والی اشیاء کو انڈیا پہنچانے کی اجازت دینا ہے ، امریکی نائب وزیر کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر مینجمنٹ کا ہونا ضروری ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر تجارت کے کچھ اصول ہیں جن کا تعین اقوام متحدہ کے چارٹر میں کیا گیا ہے ان میں ایک اصول یہ ہے کہ جو ممالک اپنی بندرگاہیں نہیں رکھتے انہیں ان ہمسایہ ممالک کی بندر گاہوں کے ذریعے عالمی تجارت تک رسائی دی جائے گی جو متعلقہ ملکوں کے قریب واقع ہوں ، افغانستان چونکہ چارجانب سے خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے جبکہ اس کی رسائی ایک جانب پاکستان میں کراچی تو دوسری جانب ایران کی بندر گاہ خصوصاً چاہبہار تک ہی ہے ، ان میں بھی چونکہ قریب پاکستان کی بندر گاہ پڑتی ہے اس لئے وہ ایک طویل عرصے تک نہ صرف کراچی کی بندر گاہ کے راستے دنیا بھر سے تجارت کرتا رہا بھارت سے تجارت کیلئے ریلوے جبکہ افغانستان سے ٹرکوں کے ذریعے درآمد برآمد کاایک نظام قائم تھا ۔ جس پر دوبار پابندی لگی، تاہم حالات معمول پر آنے سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع کردیا گیا تھا ۔ آج کل یہ تجارت پاک بھارت تعلقات میں گزشتہ چند برسوں سے کشیدگی در آنے سے پھر متاثر ہے ، اس کی وجہ ایک تو مبینہ طور پر بھارت کی جانب سے تجارت کی آڑ میں بعض''ممنوعہ ''ساز وسامان کی افغانستان منتقلی ہے جو پاکستان کی سا لمیت کیلئے ''مضر '' ہو سکتا ہے تودوسری جانب افغانستان سے تازہ پھلوں اور خشک میوہ جات کی بھارت منتقلی کے حوالے سے پاک افغان بارڈر پربعض اوقات ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگنا ہیں، اس کا واحد علاج دونوں ملکوں کے مابین بارڈر مینجمنٹ کو درست کرتے ہوئے کسی باقاعدگی کے اندر لانا ہے اوراسی جانب امریکی نائب وزیر نے بھی اشارہ کیا ہے۔ گویا بقول حبیب جالب

کہیں سے زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہوگا

جو پھیلتا ہی چلا جارہا ہے سینوں میں

اگرچہ اس صورتحال کا ''آسان''حل یوں ڈھونڈا گیا کہ بھارت اور افغانستان نے باہمی تجارت کیلئے متبادل راستہ ایران کا ڈھونڈا ، اور بھارت نے اپنی بنیاخصلت سے مجبور ہو کر ایران کے ساتھ ایک معاہدہ کر کے چاہ بہار کی بندر گاہ کو ترقی دینے کیلئے کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شروع کردی جبکہ اس دوران نیٹو،افواج کیلئے سامان کی ترسیل کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے پابندیاں لگنے کے باعث امریکہ نے بھی متبادل راستے تلاش کرنے کی کوشش کی اور اس''آسان''راستے کی حوصلہ افزائی کی مگر یہ راستہ اتنا بھی آسان نہیں تھا ۔ نہ صرف فاصلہ طویل تھا بلکہ اخراجات بھی کئی گنا ہوگئے اوپر سے ایران کی جانب سے کڑی نگرانی نے ان کے حوصلے پست کردیئے اور یہ سب آنے والی تھاں پر مراجعت کیلئے بے چین ہوگئے ۔ تاہم اس میں مزید کئی ضمنی سوال بھی ابھرتے ہیں ، اور وہ یہ کہ اب تو دنیا بھر میں سامان کی ترسیل بڑے بڑے کنٹینرز کے ذریعے کی جاتی ہے جس سے سڑکیں ادھڑ کر برباد ہو جاتی ہیں اور ان کی دوبارہ تعمیر پر اربوں کے اخراجات اٹھتے ہیں ، ان کی ادائیگی کون کرے گا؟ دوسرے یہ کہ معاملہ صرف افغانستان سے برآمدات اور انڈیا کیلئے درآمدات کے ضمن میں فریش ڈرائی فروٹ تک ہی محدود نہیںرہے گا ، جس پر گفت وشنید بھی ہوسکتی ہے تاہم اس کے ساتھ افغانستان بھارت سے دوطرفہ تجارت کا خواہاں ہے ، یعنی صرف بھارت کیلئے برآمدات تک معاملہ محدود نہیں رہے گا بلکہ وہاں سے درآمدات کی اجازت بھی چاہے گا ۔ اب یہاں مزید سوال اٹھتے ہیں اور وہ یہ کہ پاکستان نے جہاں تک ہمیں یاد ہے یہ کڑی شرط رکھی تھی کہ بھارت سے سامان غالباً لاہور میں خشک گودی پہنچا یا جائے گا جہاں اسے چیک کر کے ٹرکوں یا کنٹینرز کے ذریعے افغانستان منتقل کیا جا سکتا ہے مگر بھارت اس شرط کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہے جبکہ خدشہ ہے کہ تجارت کی آڑمیں کہیں خدا نخواستہ ''غیر قانونی اور نازک نوعیت کا سازوسامان'' تو منتقل نہیں کیا جائے گا جو آگے جا کر ممکنہ طور پر پاکستان کی سا لمیت کیلئے خطرے کا باعث بنے ۔ اس کے علاوہ ماضی میں یوں بھی ہوتا تھا کہ افغانستان کیلئے ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت جو سامان لے جایا جاتا تھا چونکہ اس پر اس زمانے میں افغان حکومت کی جانب سے بھاری محصول عاید ہوتا تھا اس لیئے ملی بھگت سے طورخم تک لیجائے ہوئے آدھا سامان لنڈی کوتل میں اتار لیاجاتا اور آدھاآگے روانہ کردیا جاتا ۔ اس سے ایک جانب افغانستان میں محصول کے لاکھوں بچا لیئے جاتے تو دوسری جانب یہ سامان پاکستان کو کسٹم اور ایکسائز ڈیوٹی ادا کئے بغیر لنڈی کوتل اور باڑہ مارکیٹوں میں پھیلا دیا جاتا ، یوں سمگلنگ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ۔ اس صورتحال کی تفصیل میں جانے سے کئی کالم کم پڑ سکتے ہیں ، تاہم ان حالات میں جو بھی فیصلہ ہو سوچ سمجھ کر کیا جائے تاکہ پاکستان کے مفادات کو نقصان نہ پہنچ سکے ۔ بقول ازہر درانی

گوالا لاکھ کھاتے جائے قسمیں

مگر اس دودھ میں پانی بہت ہے

متعلقہ خبریں