Daily Mashriq

اجل آکے کہتی ہے خاموش!خاموش!

اجل آکے کہتی ہے خاموش!خاموش!

میں سوچتی ہوں اس دنیا کے جھمیلوں میں اُلجھ کر ہم کس قدر بے سمت ہوتے چلے جارہے ہیں کبھی سوچا نہیں کہ اپنی زیست کے معاملات کے حوالے سے ایسی بے رُخی ہمیں کس اندھے کنویں کی جانب دھکیلتی جاتی ہے ۔ کبھی رہنمائی تلاش کرنے کی جستجوکے کھلونے ہاتھوں سے رکھ کر ، اچھلتے کو دتے ، وقت کے پانی کی اپنے پائوں سے چھینٹے اڑاتے ہمیں یہ احساس تک نہیںہوتا کہ یہی زندگی توبس مٹھی میں بند جگنو کی مانند ہے ۔ وقت کی اور مہلت کی مٹھی جیسے ہی کھلے گی ، یہ ہماری گرفت سے فرار ہوجائے گی ۔ ہمیں احساس تک نہ ہوگا کہ ہم جس بے فکری سے اپنی جستجو کی کرید کو تسلی دینے کے لیے مٹھی کھولیں گے ، وہی ہمیں اس زندگی کی لذتوں سے محروم کر دے گا۔ زندگی کی اس بے ثباتی میں ہر لمحہ دل کو کیسا دھڑکا لگا رہتا ہے اور پھر بھی کمال ہے کہ ہم ایسے بے فکر رہتے ہیں جیسے اس کی نا پائیداری کا ہمیں چنداں علم نہ ہو ۔ اور پھر میں سوچتی ہوں کہ یہ دُکھ مجھ اکیلی کا تو نہیں ۔ میرے سے کہیں بہتر سوچنے سمجھنے والے اس پریشانی اس کشمکش کا مسلسل شکار رہے ہیں ، انہی بھول بھلیوں میں اپنا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ کب صبح کے سورج کی ہلکی دھوپ ، تیز ہوجاتی ہے اورکب کس پہر اچانک ہی واپسی کی تیاری کا آغاز کر دیتی ہے ۔ شام ہوتی ہے اور وہ اپنے پائوں سمٹنے شروع کردیتی ہے ۔ سائے بڑھنے لگتے ہیں اور امیدوں کی روشنی میں تجربے کاٹھہرائوصاف دکھائی دینے لگتا ہے ۔ پھر کب سیاسی آسمان سے دھل کر اس روشنی کاہاتھ تھام کر اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیتی ہے ۔ خاموش کردیتی ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا۔ یہ روز کا کھیل ہے ، ہر زندگی کا کھیل ہے اور ہمیں پھر بھی کبھی احساس نہیں ہوتا اور کبھی پرواہ نہیں ہوتی ۔

کبھی کبھار یونہی شعور بے وجہ ہی لمحہ بھر کو جاگتا ہے اور پھر اس بے ثباتی سے گھبرا کر دوبارہ آنکھیں موند لیتا ہے ۔ یہ جو نہ سمجھ میں آنے والی باتیں ہیں ،حقیقت انہی میں کہیں پنہماں ہے اور سوچتی ہوں کہ جو ڈھونڈ لیتے ہیں ان کے لیے شاید زیادہ ملول کر دینے والی ہے ۔ جو جستجو نہیں کرتے ، وہ بھی کسمساتے تو رہتے ہیں کیونکہ روح کے اندر کا خلا بڑھتا جاتا ہے اور سناٹے کے شور سے ان کی بصیرت کے کان پھٹنے لگتے ہیں ۔ مگر یہ خوف جو ان جانے کاخوف ہے یہ دل کو جکڑ لینے والا ہے ۔ زندگی میں شام در آنے لگے تو یہ خوف ہمہ وقت سامنے ایک چھوٹی سی پیڑھی پکڑ کر آبیٹھتا ہے بالکل ایسے جیسے کوئی بچہ توجہ پانے کے لیے کمرے کے کونے میں اس ماں کے سامنے آبیٹھے جو اپنے گھر کے کاموں میں اُلجھ رہی ہو۔ وہ جب نظر بڑھا کر اس کی جانب دیکھتی ہے ، دل میں خلش بڑھتی ہے کہ سب سے اہم تو یہی تھا جسے میں نظر انداز کررہی ہوں لیکن زندگی کے خوف اسے باندھے رکھتے ہیں ، آگے بڑھ کر اسے گود میں اٹھانے نہیں دیتے ، اور پھر مجھے مجید امجد کی وہ نظم یاد آتی ہے

میں سینے میں داغوں کے دیپک جلائے

میں اشکوں کے تاروں کا بربط اٹھائے

خیالوں میں نغموں کی دنیا بسائے

رہ زیست پر بے خطر جارہاہوں

کہاں جارہا ہوں ، کدھر جارہاہوں

نہیں جانتا ہوں مگر جارہاہوں

یہ دنیا یہ بے ربط سی ایک زنجیر

یہ دنیا یہ اک نا مکمل سی تصویر

یہ دنیا نہیں میرے خوابوں کی تعبیر

میں جب سوچتا ہوں کہ انساں کا انجام

ہے مٹی کے اک گھر کی آغوش آرام

تو سینے میں اٹھتا ہے اک درد بے نام

میں جب دیکھتا ہوں کہ یہ بزم مانی

غم جاودانی کی ہے اک کہانی

تو چیخ اٹھتی ہے میری باغی جوانی

یہ محلوں ، یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا

گناہوں میں لتھڑے رواجوں کی دنیا

محبت کے دشمن سماجوں کی دنیا

یہاںپر کلی دل کی کھلتی نہیں ہے

کوئی حق دریچوں کی ہلتی نہیں ہے

مرے عشق کو بھیک ملتی نہیں ہے

مری عمر بیتی چلی جارہی ہے

دوگھڑیوں کی چھائوں ڈھلی جارہی ہے

ذرا سی یہ بتی جلی جارہی ہے

جونہی چاہتی ہے مری روح مدہوش

کہ رائے ذرالب پر فریاد پرجوش

اجل آکے کہتی ہے خاموش! خاموش!

اور بس یہی حقیقت ہے کہ ان دوگھڑیوں کی چھائوں کب ڈھل جائے کون جانے ، کب اجل آکے کہے خاموش اور پھر وہی سکوت بیکراں جس میں سے کل ابھرے تھے اور پھر ڈوب جانا ہے ۔

متعلقہ خبریں