Daily Mashriq

درپیش مالیاتی چیلنجز

درپیش مالیاتی چیلنجز

یہ امر باعث تشویش ہے کہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 18 ارب ڈالر اور پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 1400 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ قرضوں اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی کا مسئلہ ایسا ہر گز نہیں کہ ان کی طرف سے آنکھیں بند کرلی جائیں۔ عالمی بانڈز کے ذریعے وسائل حاصل کرنے کا مشورہ دینے والوں سے یہ پوچھا جانا چاہئے کہ 2013ء سے 2018ء کے درمیان عالمی بانڈز کی فروخت کس شرح پر ہوئی اور کتنی سرمایہ کاری ہوئی۔ اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بنک نے پاکستانی معیشت کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی ہے وہ تشویشناک ہے۔ موجودہ حکومت کے بر سر اقتدار آنے کے دن سے اس امر کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے کہ ماضی میں اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے عوام کو جس طرح بے وقوف بنایاگیا اس کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔ ہمارا المیہ یہی ہے کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کے طور پر لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی پالیسیوں سے تباہ حال معیشت پر افسوس ہی ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ ان کی نالائقی پر گرفت سے سیاسی انتقام کے نعرے بند ہونے لگیں گے۔ نون کے پچھلے دور حکومت میں تباہ حال معیشت کو رنگین اشتہارات اور بلند و بانگ دعوئوں کے ذریعے جنوبی ایشیاء کی بہترین معیشت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ بد قسمتی سے قوم کو حقیقت حال سے با خبر رکھنے کے ذمہ دار بعض میڈیا ہائوسز نے محض اشتہارات کے لالچ میں تصویر کا صرف ایک رخ پیش کیا اس طرح گوئبلز کے فلسفے پر عمل ہوا کہ جھوٹ اتنا بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ نئی حکومت نے مہینہ بھر گزر جانے پر بھی اس حوالے سے مناسب اقدامات میں پہل نہیں کی۔ اس پر ستم یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے جو رہنما پچھلے دور میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو اعتدال میں لاکر عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کرتے تھے اب کہہ رہے ہیں کہ سابق حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھا کر ملکی خزانے پر اربوں روپے کا بوجھ ڈالا۔ دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ ابتر صورتحال کا اندازہ وزیر اعظم کے چند دن قبل کے اس بیان سے لگایا جاسکتا ہے کہ اربوں روزانہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لئے چاہئیں۔ ہمارے خیال میں حکومت کو بر سر اقتدار آتے ہی ماہرین اور پارلیمنٹ کے ارکان پر مشتمل ایک کمیشن قائم کرنا چاہئے تھا جو اس امر کی تحقیقات کرتا کہ پچھلے دور میں لئے گئے ملکی و غیر ملکی قرضے کتنے شفاف انداز میں استعمال ہوئے۔ پاور سیکٹر کو 2013ء میں 500ارب روپے کی ادائیگی شفاف تھی اگلے برسوں میں اس سیکٹر کو کتنی رقم ادا کی گئی۔ افسوس ایسا نہیں ہوا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بالا دست طبقات کی مراعات کم کی جائیں۔ پارلیمان میں عوام کی نمائندگی کرنے والے اپنے رائے دہندگان سے عملی محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قربانی دیں۔ غیر ترقیاتی اخراجات کے ساتھ چند دیگر امور کے بجٹس میں کٹوتی کی جائے۔ ان سے بڑھ کر اہم امر یہ ہے کہ ایسی حکمت عملی وضع کی جائے جس سے کرنٹ اکائونٹ اور بجٹ خسارے پر قابو پایا جاسکے۔ ہماری دانست میں کرنٹ اکائونٹ و بجٹ خسارے اور دوسرے مسائل کا کھلے دل سے اعتراف کرکے ایسی پالیسیاں بنانا ہوں گی جن سے اولاً مسائل میں کمی ہو اور معیشت کو سنبھالا ملے ثانیاً عام آدمی کو سانس لینے میں دشواری نہ ہو۔ حکومتی ماہرین کو ایشیائی ترقیاتی بنک کی حالیہ رپورٹ کے ساتھ ساتھ اپنے ماہرین کی آراء کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ثالثاً یہ کہ اس مالیاتی ابتری کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا درست سمت سفر کا آغاز ممکن نہیں۔

درست سمت کی طرف سفر کے آغاز پر ٹیکسوں کے حجم میں ضمنی بجٹ میں جو اضافہ تجویز کیاگیا یا پچھلے ایک ماہ کے دوران بجلی و پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اس سے براہ راست عام آدمی متاثر ہوا ہے۔پی ٹی آئی کے دوستوں کو اب یہ حقیقت بھی قبول کرلینی چاہئے کہ وہ ڈی چوک کے دھرنے میں نہیں بیٹھے بلکہ اقتدار میں آچکے ہیں۔ ایک حکومتی جماعت اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں سے پہلو تہی نہیں کرسکتی۔ لاریب معاشی ابتری ہے۔ مسائل اور قرضوں کا بوجھ بھی اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ نون لیگ جونیئر بیوروکریٹس کے ذریعے نظام اس لئے چلاتی رہی کہ نچلے گریڈ والا دو درجہ اوپر کے گریڈ کی کرسی پر بیٹھ کر قاعدے قانون دیکھنے سے زیادہ وفاداری کے اظہار کو اولیت دیتا ہے۔ جاتی امراء کے منہ چڑھے بیورو کریٹ نے ملکی خزانے اور وسائل کے ساتھ کیا کیا اس کی زندہ مثال احد چیمہ اور فواد حسن فواد کی صورت میں موجود ہے۔ اس طرح ہماری دانست میں تحریک انصاف کو اولین دنوں میں ہی بلا امتیاز احتساب کے لئے قانون سازی کے لئے کام کرنے کے ساتھ ملکی خزانے پر ڈاکہ ڈال کر بیرون ملک بھاگ جانے والوں کی واپسی کے لئے ضروری اقدامات کرنے چاہئے تھے۔ بد قسمتی سے قاعدہ قوانین کی روشنی میں معاملات کرنے کی بجائے اپوزیشن کے دنوں والی زبان استعمال کی جارہی ہے جس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ حکومت سیاسی انتقام کے راستے پر چل نکلی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تاثر کو فوری ختم کیا جائے اور درپیش مسائل کا سنجیدگی کے ساتھ حل بھی تلاش کیا جائے تاکہ درپیش معاشی چیلنجز سے عہدہ برآ ہوا جاسکے۔

متعلقہ خبریں