Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

سفیان ثوری امراء وسلاطین کے یہاں جانا پسند نہیں کرتے تھے ، ایک مرتبہ آپ خلیفہ مہدی کے دربار میں بلائے گئے تو کسی قسم کا شاہی آداب نہیں برتا، مہدی نے مذاقاً کہا کہ آپ مجھ سے دور دور رہتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ میں آپ کو کوئی نقصان یا تکلیف نہیں پہنچا سکتا ہوں ، اب تو آپ میرے قبضے میں ہیں ، جیسا میں چاہوں ، آپ کے ساتھ معاملہ کروں۔

سفیان ثوری نے جواب دیا جو حکم تم میرے بارے میں دوگے ، وہی حکم قادر مطلق تمہارے بارے میں دے گا۔

سفیان ثوری کا یہ کہنا ہی تھا کہ مہدی کے خادموں نے اس ''بے ادبی'' پر سفیان ثوری کو سزا دینی چاہی ، لیکن مہدی نے کہا نہیں! میں بزرگوں کو قتل کر کے خیر وبرکت سے محروم ہونا نہیں چاہتا اور اسی وقت کوفہ کے عہدہ قضاء کا پروانہ ان کے سپرد کردیا اور ان کو یہ آزادی بھی دی کہ ان کے فیصلوں پر کسی قسم کی بھی کوئی مداخلت نہ کی جائے گی ۔

(مروج الذہب للمسعودی ص،207)

ایک بادشاہ شکار کر نے نکلا اور ایک ہرن کے تعاقب میں بہت دور نکل گیا ، ہرن تیر کھا کر گھنے جنگل میںغائب ہوگیا ، بادشاہ اپنی ضد کی وجہ سے چاہتا تھا کہ تیر خوردہ زخمی ہرن کو شکار ضرورکرے، وہاں پر ایک خدارسیدہ درویش درخت کے سائے میں مصروف عبادت تھا ۔

بادشاہ اپنا گھوڑا لے کر اس کے پاس پہنچا اور گھوڑے سے اتر کر درویش کے پاس گیا اور پوچھا کہ کوئی ہرن ادھر آیا ہے ؟

درویش نے سوچا اگر ہرن کا پتہ دوں تو ہرن کی جان جاتی ہے اوراگر یہ کہوں کہ میں نے ہرن کو نہیں دیکھا تو خواہ مخواہ جھوٹ بولنا پڑے گا جو گناہ کبیرہ ہے ۔ درویش نے کچھ سوچ کر کہا کہ بادشاہ! دیکھنا آنکھ کا کام ہے ، لیکن وہ بول نہیں سکتی ، بولنا زبان کا کام ہے ، لیکن وہ دیکھ نہیں سکتی ،آنکھوں نے ہرن کو دیکھا ہے ، لیکن وہ کیسے بتا سکتی ہے ،بتانا تو زبان کا کام ہے ، مگر زبان نے دیکھانہیں، لہٰذا وہ کیسے بتائے ، بادشاہ درویش کا جواب سن کر لاجواب ہوگیا اور آئندہ شکار کھیلنے سے توبہ کرلی۔

(مخزن ص،354)

مشہور امام ا بن سماک ایک جگہ تقریر کر رہے تھے ، ان کا ایک ''غلام'' بھی ان کی تقریر سن رہا تھا ، وہ تقریر سے فارغ ہو کرگھر آئے اور ''غلام'' سے پوچھا ، میری تقریر کیسی رہی؟۔

انہوں نے جواب دیا تقریر تو بہت اچھی تھی ، مگر ایک بات کو بار بار دہرانا پسند نہ آیا ، ابن سماک نے کہا میں بار بار اس لئے دہرارہا تھا تاکہ جو نہیں سمجھے ، وہ سمجھ جائیں ۔ ''غلام'' نے کہا جب تک آپ سمجھنے والوں کو سمجھاتے رہے ، اس وقت تک سمجھنے والے اکتا تے رہے ۔

(عیون الاخبار،ص،178)

متعلقہ خبریں