Daily Mashriq

احتساب اور انصاف

احتساب اور انصاف

وطن عزیز میں حکمرانوں کے متعلق ایک عام تاثر یہ ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر بد عنوانی کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ قوم ان کو بدعنوان تو سمجھتی ہے لیکن عدالتوں اور نیب سے وہ بری ہو جاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں کہ صرف بدعنوانی کے مقدمات میں حکمرانی کرنے والے افراد بچ نکلتے ہیں بلکہ دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات میں بھی ان کو سزا نہیں ہو پاتی۔ معاملات و مقدمات برسوں عدالتوں میں پڑے رہتے ہیں اور وقت گزرتا رہتا ہے۔ عدالتیں ثبوت اور شواہد پر فیصلہ کرتی ہیں لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ عدالتوں سے شواہد اور دستاویزات بھی غائب ہوجاتی ہیں۔ جیسا کہ آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کا کیس عدالت سے گم ہوچکا۔ خود عدالت کااحتساب کے قومی ادارے بارے تاثرات بڑے دلچسپ ہوتے ہیں پہلے کہا گیا کہ نیب فوت ہوچکا ،اب کہاگیا کہ نیب نے ادارے تباہ کردئیے، اس کے بعض فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ اس قسم کی شکایت اور تاثر سے ان لوگوں کا اپنا دامن بھی صاف نہیں بلکہ ان سے بھی اس نوعیت کی شکایت ہے ایک سیاسی قائد تو اس طرح کے امور کا اعادہ کرتا رہا ہے جبکہ پی پی پی کے قائد آصف علی زرداری نے اپنے طویل مقدمات لڑنے اور ایک کیس میں پانچ پانچ سو پیشیاں بھگتنے کی مثال دے کر کہا ہے کہ وہ عدلیہ سے لڑتے نہیں بلکہ اس کے ساتھ دوڑتے دوڑتے عدالت کو تھکا دیتے ہیں۔ آصف زرداری جتنا طویل عرصہ مقدمات لڑتے رہے ہیں اور قید و بند کاٹی ہے اس کے باوجود ان پر کوئی مقدمہ ثابت نہ ہونا اور آخری ریفرنس سے بھی بری ہونے کے بعد اب اس کے بارے میں منفی تاثر کا جواز باقی نہیں رہ گیا ہے کیونکہ جتنا ان کو بھگتنا پڑا اور ملک بھر میں جس شخص کو بدعنوانی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا جس کی بدعنوانی کی داستانیں زبان زد خاص و عام ہوئیں مگر انجام کار عدالتوں سے ان کو کلین چٹ مل گئی اگر وہ بدعنوان تھے تو پھر کسی نہ کسی مقدمے میں ان کو سزا کیوں نہ ہوئی۔ وہ اگر لاکھ بدعنوان بھی تھے اور بد اچھا بدنام برا والی کیفیت کاشکار رہے مگر اب اخلاقی اور قانونی طور پر وہ ڈرائی کلین ہوچکے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ عدالتوں سے خواہ وہ نیب کی عدالت ہی کیوں نہ ہو لوگ بچ نکلتے ہیں یا پھر کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔ جب تک ملک میں اس طرح کی صورتحال رہے گی اس وقت تک ملک میں شفافیت اور کرپشن سے پاک پاکستان کی ساری مساعی رائیگاں ہی ٹھہریں گی۔ وطن عزیز میں ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ سزا دلوانے والی اگر ایک قوت متحرک ہو جائے تو مقدمہ کچھ اور، سزا کچھ اور لیکن سزا ہر حالت میں ہوتی ہے۔ کیا معروضی صورتحال ایک مذاق سے کم دکھائی دیتی ہے جہاں اولاً کروڑوں اربوں روپے کی کرپشن کے مقدمات بڑے زور و شور سے قائم کردئیے جاتے ہیں۔ ان کا خوب چرچا کیا جاتا ہے اور انجام کار چھوٹنے کی صورت سامنے آئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نظام میں وہ کیا خرابی ہے اور عدلیہ میں وہ کیا کمزوری ہے جس کا کھوج لگا کر اسے دور کیا جائے۔ ہمارے تئیں سیاسی بنیادوں پر مقدمات کا قیام سیاسی اور اقتدار کی مصلحتوں کے مطابق ان کو چلانے اور اسی کے تحت ان کے تمت بالخیر ہونے کی جو کیفیت ہے اس سے ملک میں قانون اور احتساب مذاق بن کر رہ گئے ہیں اور عوام کا عدالتوں اور اداروں پر سے اعتبار اٹھتا جا رہا ہے۔ اگر صورتحال یہی رہی تو عوام بہت جلد ان تکلفات پر قومی خزانے کے ضیاع سے پرہیز کا مشورہ دینے پر مجبور ہوں گے۔ وطن عزیز میں احتساب اور انصاف کا نعرہ تو بہت لگتا ہے مگر عملی طور پر اس حوالے سے مایوسی کوئی انکشاف نہیں بلکہ نوشتہ دیوار ہے۔ یہاں پر اعتراضات اور تنقید اس وقت ہوتی ہے جب اپنے اوپر بن آئے اگر ایسا نہیں تو راوی اداروں سے لے کر حکمرانوں تک اور افراد تک چین ہی چین لکھتا ہے۔ جب تک ہم اس رویے کو نہیں بدلتے سوالات اور انگلیاں اٹھتی رہیں گی۔ مگر پرنالہ وہیں کا وہیں گرے گا۔ گوکہ اس وقت یہ سمجھا جا رہا ہے کہ وطن عزیز میں طاقتور کا احتساب پہلی مرتبہ شروع ہو الاً یہ سوچ ابھی پختہ نہیں ہوئی اور نہ ہی حالات و واقعات نے اسے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ واقعی ایسا ہوا ہے یا ہونے جا رہا ہے۔ طاقتور کا احتساب صرف اس کے طاقتور ہونے کی بناء پر ہی نہیں بلکہ طاقتور کو دولت کے بل بوتے پر ایسے وکلاء کی ٹیم سے اپنادفاع کرواتا ہے کہ عدالت میں اس پر مقدمہ ثابت کرنا نہایت مشکل بن جاتا ہے۔ عدالتوں سے دستاویزات تک گم ہو جاتی ہیں اور جھوٹے گواہ پیش ہوتے ہیں۔ غرض طرح طرح کے حربوں سے طاقتور تقریباً تقریباً انصاف خرید لیتا ہے۔ عدالت کو شواہد اور دستاویزات کے مطابق ہی فیصلہ دینا ہوتا ہے۔ معزز عدالت کے سامنے جو دستاویزات و شواہد اور ریکارڈ پیش ہو فیصلہ ان کی روشنی میں ہی آتا ہے۔ اندریں حالات و واقعات اور مشکلات میں بہتری کی توقع ہی کی جاسکتی ہے۔ اطمینان کے اظہار کے لئے وقت درکار ہے جس کی طرف پیشرفت جاری ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وہ وقت بہت جلد آئے گا جب انصاف سستا بھی ہو گا، بروقت بھی، آسان بھی اور آسانی سے ملے گا بھی۔

متعلقہ خبریں