Daily Mashriq

گمراہ کن پروپیگنڈے کا فوری سد باب کیا جائے

گمراہ کن پروپیگنڈے کا فوری سد باب کیا جائے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز خطاب کے بعد امریکی ذرائع ابلاغ میں اور خاص طور پر اردو اور پشتو کی نشریات میںہونے والے پروپیگنڈے کا نوٹس لینے اور اس کا توڑ کرنے کی ضرورت ہے۔ لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب پاکستان کے خلاف ابلاغی جنگ کا افتتاح تھا۔ امریکی ذر ائع ابلاغ کی اردو اور پشتو نشریات میں ٹرمپ پالیسی کی حمایت' ڈیورنڈ لائن سے متعلق پروپیگنڈے پر مبنی خلاف حقیقت تبصرے اور مواد نشر کرنے کے علاوہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حوالے سے، بلو چستان میں تخریب کاری کی حمایت کرنے' ٹرمپ کے خلاف مظاہرے کرنے والے فاٹا کے لوگوں کو جاہل قرار دینے کے علاوہ' بلوچستان اور سندھ کے حوالے سے زہریلا پروپیگنڈہ جیسے مواد پر مبنی نشریات قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہیں۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ فورتھ جنریشن وار ایک نہایت خطرناک جنگی حکمت عملی ہے جس کے تحت مختلف طریقوں سے دوریاں پیدا کی جاتی ہیں اور عوام کو گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے متاثر کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ مرکزی حکومتوں کو کمزورکیاجاتا ہے ' صوبائیت کو ہوا دی جاتی ہے' لسانی اور مسلکی فسادات کروائے جاتے ہیں اور عوام میں مختلف طریقوں سے مایوسی اور ذہنی خلفشار پھیلایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے ذریعے کسی ملک کا میڈیا تک خریداجاتاہے اور اس کے ذریعے ملک میں خلفشار' انارکی اور بے یقینی کی کیفیت پیدا کی جاتی ہے۔ فورتھ جنریشن وار کی مدد سے امریکہ نے پہلے ہی یوگوسلاویا'عراق اور لیبیا کا حشر کردیا' اب اس جنگی حکمت عملی کو پاکستان پر آزمایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے خلاف اس طرح کی حکمت عملی میں بھارت اور اسرائیل بھی ان کا اتحادی ہونا فطری امر ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ سابق امریکی صدر باراک اوبامہ نے از خود اس امر کااعلان کیا تھا کہ وہ پاکستانی میڈیا میں پچاس ملین ڈالر سالانہ خرچ کریں گے۔ انہوں نے ایسا کیا یا نہیں اس بارے میں وثوق سے کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن بعض اوقات اس امر کا شائبہ ہونے لگتا ہے کہ شاید ایسا کیاجارہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے پروپیگنڈے کاتوڑ کرنے کے لئے ملکی ذرائع ابلاغ' قلم کاراور وطن سے محبت کرنے والے ہر شعبے کے افراد آگے آئیں اور اس پروپیگنڈے کے اثرات کو زائل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر محب وطن پاکستانی کو اس جنگ میں عملی طور پر ہوش مندی اور بصیرت کے ساتھ حصہ لینا چاہیئے۔ عوام کو ہر اس چیز کو رد کردینا چاہئے جو پاکستان اور نظریہ پاکستان' دفاع پاکستان یا قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف ہوں۔ نہ صرف پروپیگنڈے ہی کو مسترد کردینا چاہئے بلکہ ملفوف پروپیگنڈے سے بھی پوری طرح خبردار اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

اس تکلف کی کیا ضرورت تھی؟

زرعی اراضی پر تعمیرات روکنے کے لئے قانون سازی کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا جا رہا ہے جب اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں ''کھیت'' والی صورتحال بن چکی ہے۔ ہمارے تئیں قانون سازی جب تک ہو تب تک ہو لیکن اگر حکام چاہیں تو کھیتوں میں بننے والے مکانات کا نقشہ منظور نہ کرکے' پانی بجلی اور گیس کی سہولتوں کی فراہمی کی قطعی ممانعت کرکے بھی زرعی اراضی پر تعمیرات کی روک تھام کرسکتے ہیں۔ زرعی اراضی پر اکا دکا مکانات کی تعمیر لوگ اپنی ضرورت کے مطابق کرتے ہیں جو عموماً ان کی اپنی ملکیت ہوتی ہے اور اگر دوسرے سے خرید کر کی جانی ہو تو اس کی بھی روک تھام کے لئے حکومت کے پاس پورا پورا موقع اس طرح ہے کہ دو دو چار چار اور پانچ دس مرلہ زرعی اراضی انتقال اس یقین دہانی کے حصول کی بعد کیا جائے کہ گاہک اس پر خریداری کے بعد مکان یا تجارتی مرکز تعمیر نہیں کرے گا۔ حکومت کے پاس اور بھی کئی ذرائع ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پر آج تک کس دور حکومت میں سنجیدگی کے ساتھ توجہ دی گئی ہے اور کب موجود قوانین کا سہارا لے کر اس کی روک تھام کی سعی کی گئی ہے۔ اس ضمن میں پہلے ہی اتنی تاخیر ہوچکی ہے کہ قیمتی زرعی اراضی پر عمارتیں کھڑ ی ہوچکی ہیں۔ انفرادی' اجتماعی تعمیرات ہو چکی ہیں۔ بہر حال مزید زرعی اراضی اور باغات کو تعمیرات کی زد میں لانے سے بچانے کیلئے جتنا جلد ممکن ہوسکے قانون سازی ہونی چاہئے اور نفاذ قانون میں روایتی سستی اور کاہلی نہیں ہونی چاہئے۔ جب تک قانون سازی نہیں ہوتی تب تک مروجہ قوانین اور طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جائے تو بھی تعمیرات کی روک تھام نا ممکن نہیں۔ اس ضمن میں انتظامی قوانین کا بھی سہارا لیاجاسکتا ہے شرط یہ ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ زرعی اراضی اور باغات کی تباہی کی روک تھام کا قصد کیا جائے اور اس ضمن میں کسی مصلحت اور دبائو کو خاطر میں نہ لایا جائے۔

متعلقہ خبریں