Daily Mashriq

ٹرمپ کی دھمکی اور ہماری وزارت خارجہ

ٹرمپ کی دھمکی اور ہماری وزارت خارجہ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار پر تنقید پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے حال ہی میں مقرر ہونے والے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف اور ان کے ساتھ حکومت کے دیگر ذمہ داران نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا ہے۔ پاکستان میں یہ بیان ہر کسی نے نہایت دلچسپی سے پڑھا اور سنا ۔ یہ بات پاکستانی میڈیا کی بجائے بین الاقوامی میڈیا کو بتانے ، شواہد اور دلائل کے ساتھ سمجھانے والی ہے اور شواہد و دلائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان تقریباً ایک ہفتے پہلے دیا تھا اب تک پاکستان میں اس کا جواب تیار کرنے کے لیے اجلاس ہو رہے ہیں۔ ایک اجلاس قومی سلامتی کی کمیٹی کا ہو چکا ہے اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے زیرِ صدارت ایک اور اجلاس ہونے والا ہے ۔ سینیٹ نے ٹرمپ کے بیان پر توجہ دی۔ چھ رکنی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد سارے ایوان کو ایک کمیٹی میں تبدیل کرکے ان کیمرہ اجلاس کیا جس کی تجاویز یا قرارداد توقع ہے کہ آج میڈیا میں آ جائے گی۔ ذرائع کے مطابق سینٹ میں کہاگیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور تنقیدکے بارے میں پاکستان کا موقف علاقائی ممالک اور امریکہ کے اتحادیوں پر واضح کیا جائے اور افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے حال ہی میں قائم ہونے والا پاکستان افغانستان تاجکستان اور چین کے چار رکنی انتظام کو تقویت دی جائے اور اسے آگے بڑھایا جائے۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو بین الاقوامی کمیونٹی پرواضح کرنا ، بھارت کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردی کو عدم استحکام کے طور پرریاستی ہتھیار کے طور پراستعمال کرنا ، افغانستان میں قیام امن میں پاکستان کا کردار بین الاقوامی کمیونٹی پر واضح کرنا ، پاکستان کی وزارت خارجہ کے کام ہیں۔ لیکن گزشت ایک عرصہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی بے سمت اور کم کوش نظر آتی رہی ہے۔ گزشتہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نوازشریف نے کشمیرکے مسئلہ کی طرف توجہ دلائی تھی ۔ اس تقریر میں انہوں نے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا تو ذکر کیا لیکن بھارت پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے ذریعے جو عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس پرتوجہ نہیں دی۔ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی جو کارروائیاں کر رہا ہے ۔ اور امریکہ افغانستان اور بھارت کے پاکستان پر الزامات کی جس طرح حمایت اور سرپرستی کر رہا ہے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ حالانکہ ان کے دور وزارت عظمیٰ میں پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ نہ ہونے کی صورت میں وزارت خارجہ کا قلمدان بھی ان کے پاس تھا۔ اس میں سابق وزیر اعظم کی کیا حکمت تھی اس کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ ایک سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے حکمران وزارت خارجہ یا سفارتی چینلز کی بجائے خود غیر ملکی حکمرانوں سے مخاطب ہونے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ تاہم نواز شریف اب قصہ ماضی بن چکے ہیں اور ان کی پارٹی کے نئے وزیر اعظم نے اپنے ہم کار خواجہ آصف کو وزیر خارجہ تعینات کر دیا ہے۔ لیکن اس عرصہ میں وزارت خارجہ بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک مبصر کے مطابق وزارت خارجہ میں کئی گروپ بن چکے ہیں ۔ 

ایک سینئر سفارت کار نے جو حال ہی میں نئی دلی میں پاکستان کے اہم ترین سفارت کے سربراہ تھے قبل از ریٹائرمنٹ استعفیٰ دے دیا ہے۔ اور سوشل میڈیا میں سابق سیکرٹری خارجہ اور حال سفیر واشنگٹن اعزاز چوہدری کے نام ان کا ایک خط نظر آ رہا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اعزاز چوہدری بدترین سیکرٹری خارجہ رہے ہیں اور واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے بھی ان کی کارکردگی ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق یہ خط جعلی نہیں ہے۔سینیٹ کی تجاویز ، جیسا کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ آج منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔ قوم اسمبلی میں دم تحریر ٹرمپ کی افغان پالیسی اور پاکستان کو دھمکیوں پر بحث جاری ہے تاکہ ہماری حکومت قومی اسمبلی اور سینیٹ کے فیصلوں کی روشنی میں پاکستان کی کوئی مربوط امریکہ پالیسی مرتب کرنے میں کامیاب ہو جائے اور ہماری وزارت خارجہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں کوئی واضح سٹینڈ لے سکے۔ اس حوالے سے ایک بات کہنے کی یہ ہے کہ جو بھی پالیسی مرتب کی جائے گی اس پر عمل درآمد کے لیے ایک ذمہ دار کمیٹی ضرور بنائی جائے جو اس پر عملدرآمد کو نہ صرف یقینی بنانے کے لیے نگرانی کرے بلکہ عوام کو اس پر عمل درآمد سے آگاہ رکھنے کی ذمہ دار بھی ہو ۔ اس پالیسی کا انجام نیشنل ایکشن پلان ایسا نہیں ہونے دیا جانا چاہیے جو متفقہ طور پر منظور تو کیاگیا لیکن اس پر مکمل عمل درآمد آج تک ممکن نہ ہو سکا۔ اس حوالے سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کا موقف بین الاقوامی کمیونٹی کے سامنے واضح کرنا وزارت خارجہ کی ذمہ داری ہو گی اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ وزارت خارجہ کو ایک متحد اور فعال شعبہ بنانے کے لیے قیادت اور سمت مہیا کی جائے۔ ایسی سمت جو سارے پاکستان کے موقف کی آئینہ دار ہو۔ وزارت خارجہ اور ہماری سفارتیں آج جس حال میں ہیں ان کے لیے مشکلات ہوں گی۔ تاہم انہیں یہ ہدایت کی جانی چاہیے کہ وہ حکومتی اور اپوزیشن لیڈروں سے رابطے کے ساتھ ساتھ رائے عامہ کے دیگر لیڈروں سے بھی رابطے کریں۔ ایک بیلنس شیٹ تیار کی جا سکتی ہے جس میں امریکی امداد کے اعداد و شمار ہوں ، اخراجات کی وہ رقوم بھی ہوں جو اس میں سے امریکی اہل کاروں کے اخراجات کے نام سے واپس امریکہ چلی گئی اور کتنی پاکستان میں خرچ ہوئی اور اس کے مقابلے میں وہ اعداد و شمار بھی ہونے چاہئیں جن میں یہ ظاہر کیاگیا ہو کہ اس امداد کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت کو کتنا نقصان ہوا۔

متعلقہ خبریں