Daily Mashriq

مردم شماری' اعتراضات' شکایات اور الزامات

مردم شماری' اعتراضات' شکایات اور الزامات

قوم پرستوں کے مختلف حلقوں کی جانب سے مردم شماری کے نتائج پر اعتراضات کے بعد سندھ حکومت نے باضابطہ طور پر مردم شماری کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے جو موقف اختیار کیاہے اس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ سوا پچیس ارب روپے میں پاکستانی تاریخ کی مہنگی ترین مردم شماری پر اعتراضات تو اس وقت ہی شروع ہوگئے تھے جب یہ جاری تھی۔ سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ مردم شماری کرنے والے اہلکاروں کے ہمراہ موجود فوجی جوانوں نے کسی قانون کے بغیر سادہ کاغذ پر گھریلو خواتین سے کوائف حاصل کئے۔ کہیں اگر کسی نے فارم کے بغیر سادے کاغذ پر کچی پنسل سے کوائف لکھے جانے پر اعتراض کیا تو اسے کار سرکار میں مداخلت کی دھمکی دی گئی۔ بلوچستان' سندھ' کراچی' جنوبی پنجاب میں سادہ کاغذوں پر مردم شماری کی شکایات عام تھیں۔ اس بارے میں ان اہلکاروں سے دریافت کیاگیا کہ ایسا کس قانون کے تحت کیا جا رہا ہے تو ان کا اولاً تو جواب یہ ہوتا'' خاموشی سے سوالات کا جواب دیں' فوجی اہلکار بسا اوقات کسی بھی سوال پر ہھتے سے اکھڑ جاتے یا پھر یہ جواب کہ ایک فارم بھرنے میں تقریباً 45 منٹ لگتے ہیں۔ عملہ کم ہے اور کام زیادہ افسروں نے اجازت دی ہے کہ سادہ کاغذوں پر کوائف لکھ لئے جائیں فارم بعد میں بھرلئے جائیں گے۔ ان فارموں پر سیاسی و سماجی حلقوں کا اعتراض تھا کہ دو باتوں کو نظر انداز کیاگیا اولاٰ تو یہ کہ فارم کی ایک نقل متعلقہ خاندان کو دی جانی چاہئے تھی جس پر مردم شماری کرنے الے اہلکار کے ساتھ متعلقہ خاندان کے سربراہ کے دستخط ہوتے۔ فارم کی نقل نہ بھی دی جاتی تو بھی فارم کے اندراج مکمل ہونے پر خاندان کے سربراہ سے اس پر دستخط لئے جاتے تاکہ اسے اطمینان ہوتا کہ اس کے بتائے ہو ئے کوائف ہی درج ہوئے ہیں۔افسوس کہ دونوں طریقے نہ اپنائے گئے الٹا یہ شکایت زبان زد عام ہوئی کہ سادہ کاغذوں پر کچی پنسل سے کوائف لکھنے پر اعتراض کرنے والوں پر دھونس جمائی گئی۔ اب سندھ حکومت نے جو باضابطہ اعتراضات کئے ہیں ان میں کہا گیا ہے کہ مردم شماری کے دوران جو خدشات ظاہر کئے گئے ان کا کسی نے نوٹس نہیں لیا۔ ثانیاً نتائج لمبے عرصے تک راز میں رکھے گئے (حالانکہ مرحلہ وار مردم شماری ہوئی تھی تو اس امر کو یقینی بنایا جانا چاہئے تھا کہ ایک مرحلہ مکمل ہونے پر اس کے نتائج کا اعلان ہوتا اور اگلے مرحلہ پر کام شروع) سندھ حکومت نے اپنے صوبے کے خلاف سازش کا عندیہ دیا ہے۔ کراچی میں 1998ء کی مردم شماری کے دوران 93 لاکھ 39 ہزار افراد شمار ہوئے تھے اس وقت بھی یہ اعتراض اٹھا تھا کہ کیسے سوا ڈیڑھ کروڑ کی آبادی والے شہر کی آبادی 93 لاکھ39ہزار شمار کی گئی۔ اب اگر کراچی والے یہ کہتے ہیں کہ حالیہ مردم شماری میں کراچی کی جو آبادی ظاہر کی گئی وہ در اصل 1998ء والی مردم شماری کے مطابق ہے تو ان کے موقف کو یکسر مسترد کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے تحفظات دور کئے جانے چاہئیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ لاہور کی آبادی 1998ء میں 51لاکھ 43ہزار تھی حالیہ مردم شماری میں یہ ایک کروڑ 12لاکھ 26ہزار ظاہر کی گئی یعنی 59لاکھ 82ہزار افراد کا اضافہ۔ جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ لاہور چونکہ میئر پولٹین قرار پا چکا ہے اس لئے یہ ضلع لاہور کی آبادی ہے جو کارپوریشن کی حدود میں رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پھر یہ اصول کراچی کے لئے کیوں نہیں۔ کچھ اس نوعیت کی شکایات جنوبی پنجاب کے سرائیکی بولنے والے شہروں ملتان' بہاولپور' مظفر گڑھ' ڈیرہ غازی خان' میانوالی اور جھنگ سے سامنے آئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1998ء سے 2017ء کے درمیان 20 سالوں کے دوران پنجاب کی مجموعی آبادی میں تو چار کروڑ سے زیادہ اضافہ ہوا اور وہ بھی 85 فیصد وسطی و بالائی پنجاب کے حصوں میں جبکہ جنوبی پنجاب میں مشکل سے 15 فیصد اضافہ ہوا۔ آبادی میں اضافے کا یہ تناسب بذات خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ادھر بلوچ قوم پرست رہنما یہ کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان کے صوبے میں بلوچوں کی اصل آبادی کو 50 لاکھ کم کرکے دکھایاگیا۔ چلیں 50لاکھ والی بات سیاسی الزام ہی مان لیتے ہیں پھر اس بات کو کہاں دفن کریں کہ بلوچ علاقوں میں سے اکثر علاقوں میں تو مردم شماری والے اہلکار گئے ہی نہیں اور انہوں نے اپنے ریکارڈ کا پیٹ نادرا کے ریکارڈ سے بھر لیا؟ صا ف سیدھی بات یہ ہے کہ حالیہ مردم شماری پر پشتونوں' بلوچوں' سرائیکیوں' سندھیوں اور کراچی کے اردو بولنے والوں کے ساتھ کراچی میں مقیم دوسری زبانیں بولنے والوں کے سنگین اعتراضات سامنے آرہے ہیں۔ یہ اعتراضات ایسے ہر گز نہیں کہ سوالات اٹھانے والوں کی حب ولوطنی پر شک کیا جائے یا یہ کہا جائے کہ مردم شماری کے عمل میں چونکہ فوج شریک تھی اس لئے اعتراضات کا مقصد فوج کو متنازعہ بنانا ہے۔ حضور فوجی اہلکاروں کا کام مردم شماری کے فارم بھرنا ہرگز نہیں تھا وہ متعلقہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اس عمل کے وقت موجود تھے۔ ان اہلکاروں نے اپنی مرضی سے یا کسی کے حکم پر سادہ کاغذوں پر کوائف لکھے اور دھونس جمائی تو یہ صریحاً قانون کی خلاف ورزی تھی۔ اب جو شکایات اعتراضات اور الزامات سامنے آرہے ہیں ان پر رونے پیٹنے کی بجائے حقیقت پسندی کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔ اس کا ایک طریقہ تویہ ہے کہ پارلیمان میں اس پر بحث ہو یاپھر وفاق اس مسئلہ پر آل پارٹیز کانفرنس بلائے یا چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈروں کا مشترکہ اجلاس اور اس میں سیر حاصل بحث کی جائے۔

متعلقہ خبریں