Daily Mashriq

شاعروں سے فیملی پلاننگ کی اپیل

شاعروں سے فیملی پلاننگ کی اپیل

ہمیں بچپن میں گھر کے ایک تاریک گوشے میں رکھی تونڑئے میں سے ایک کتاب ہاتھ لگی۔ یہ پطرس کے مضامین کا پہلا ایڈیشن تھا۔ اس کتاب نے ہمیں فکاہیہ ادب پڑھنے کا ایسا چسکہ لگادیا کہ شفیق الرحمن' ابن انشائ' کرنل محمد خان اور مشتاق احمد یوسفی کی کتابوں میں ڈوب کر رہ گئے۔ یاتریا ہوکر بھی ہم اردو کے ان عظیم مزاح نگاروں کے سحر سے باہر نہیں نکل سکے ہیں۔ بالخصوص ابن انشاء کی تحریروں کے بے ساختہ پن نے تو ہمیں بے حد متاثر کیا۔ ابن انشاء سنجیدہ مسائل اس قدر شگفتہ انداز میں بیان کرتے ہیں کہ ان کا جواب نہیں ہوتا۔ کثرت آبادی آج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس سے حکومت کے تمام ترقیاتی منصوبے ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ہماری رائے میں اس وقت ملک کی آبادی 25کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ حالیہ مردم شماری میں حکومت نے اس کی شدت کم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور تین کروڑ کم بتائی ہے جسے ملک کی سب بڑی سیاسی جماعتوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے۔ ابن انشاء نے اپنی ایک مزاحیہ تحریر میں بھی اس مسئلے کو پیش کیا ہے۔ یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب بیگم زاہدہ خلیق الزمان صاحبہ مغربی پاکستان میں صحت کی وزیر تھیں۔ ابن انشاء لکھتے ہیں کہ بیگم صاحبہ صحت کی منہ بولتی وزیر ہیں انہوں نے شاعروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فیملی پلاننگ میں مدد دیں۔ فیملی پلاننگ بجائے خود بڑی اچھی چیز ہے۔ لیکن بیگم صاحبہ کا مضمون فی بطن شاعر رہ گیا ہے کیونکہ انہوں نے اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ مگس کو باغ میں جانے نہ دینے سے پروانے کے خون ناحق کو کیسے روکا جاسکتا ہے یعنی شاعر لوگ فیملی پلاننگ میں مدد دیں تو کیسے دیں۔جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم مثنثیات میں سے ہیں یعنی شاعر بھی ہیں اور فیملی پلاننگ پر عامل بھی۔ لوگ ہم سے اس طرح فیملی پلاننگ کے لئے تعویذ لکھوا کر لے جاتے ہیں جس طرح لوگ لعین پہنچتے ہوئے بزرگوں اور پیروں فقیروں سے اولاد کے لئے تعویذ لیتے ہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ جو شخص اس تعویذ کو استعمال کرے گا اس کی اگلی سات پشتوں تک اولاد نہ ہوگی۔ جن بزرگ کا یہ عطیہ ہے وہ خود ننھیال اور دوھیال میں سات پشتوں سے لاولد چلے آرہے ہیں۔ مثنثیات سے قطع نظر ہم نے اپنے تجربے میں شاعروں کو ہمیشہ کثیر الاولاد اور کثیر الاشعار دیکھا ہے۔ ہمارے بزرگ حفیظ جالندھری مصنف کتب کثیرہ کو ابوا لاثر کا لقب تو لوگوں نے دیا ہے لیکن ابو البنات کا منصب اور لقب انہوں نے خود اپنے لئے پسند فرمایا۔ ان کی ساری زندگی چھاپے خانوں اور زچہ خانوں کے چکر کاٹنے میں گزری' ان کو اکثر شکایت کرتے پایا گیا کہ چھاپے خانے اور زچہ خانے ایک دوسرے سے دور الگ کیوں بنائے جاتے ہیں' ملحق کیوں نہیں بایں ہمہ تگ ودو ان کو آدم جی انعام اب تک نہیں ملا حالانکہ بہر طور اس کے مستحق ہیں خوبئی کلام کی وجہ سے بھی اور حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں اضافے کے باعث بھی۔ یہ مشہور شعر انہی کا ہے۔ ابتدائی مشق کے زمانے کا ہے۔

چھ سات بچے اپنے اللہ کے فضل سے ہیں

آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا

بایں ہمہ شاعروں سے فیملی پلاننگ کی جو اپیل کی گئی ہے کچھ سوچ کر ہی کی گئی ہوگی۔ یہ جواز تو ہماری سمجھ میں آتا ہے کہ جو شخص ان کی کثیر العیالی اور خستہ حالی کو دیکھے گا خود بخود اولاد سے توبہ کرے گا۔ اسی کو علاج بالمثل یعنی ہومیو پیتھی بھی کہتے ہیں۔ یاد رہے کہ اب تک ہو میو پیتھیوں کو فقط شکر کے خوردہ فروش یعنی شکر کی گولیاں بیچنے والے تصور کیاجاتا تھا لیکن اب سرکار نے ان کو باقاعدہ تسلیم کرکے خلقت کو مارنے اور جلانے کے وہ تمام حقوق دے دئیے ہیں جو ایلوپیتھ ڈاکٹروں کو حاصل ہیں۔اس بات کے تو ہم بھی حق میں ہیں کہ جو شخص گڑ دینے سے مرتا ہو اُسے زہر کیوں دیا جائے ، دوائیں اور دعائیں ادویات اور دباعیات جو کچھ اس سلسلے میں کار گر ثابت ہو سکنے کا م میں لانا چاہیئے لیکن اگر کسی کا خیال ہے کہ شاعر لوگ نظمیں لکھ کر فیملی پلا ننگ کرا سکتے ہیں تو اس میں ہمیں شبہ ہے کیونکہ اوپر ہم نے جس صاحب کا ذکر کیا ہے وہ فیملی پلاننگ کی نظمیں لکھ کر اُن کے معاوضے ہی سے تو زچہ خانوں کے خرچ پورے کرتے ہیں تاہم امید ہے کہ ایک روز ہم لوگوں کی ذہنی تربیت واقعی ایسی ہو جائے گی کہ یہاں کسی کے بچہ نہ ہو اس نے مٹھائی بانٹی ، عزیزوں نے تار بھیجے کہ بچہ نہ ہونے کی خوشی میں مبارکباد قبول فرمایئے، شاعر لوگ تہمنیت کے قطع ۔۔۔اور اس قسم کی تاریخیں نکالا کرینگے ۔

شکر ہے اب کے کوئی گل نہ کھلا

ہیجڑے بھی گلی کوچوں میںٹوہ لیتے پھر ا کرینگے کہ بچہ کہاں نہیں ہوا ؟ جس گھر کے متعلق خبر ملی بس ڈھول تاشہ کر پہنچ گئے اور انعام لے کر ٹلے ۔ لیکن ہم سوچتے ہیں اس وقت تک اناج کی پیداوار بڑھ گئی تو کیا ہوگا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سرکار نے حالیہ مردم شماری میں 25کروڑ کی آبادی کو 22کروڑ ظاہر کر کے کاغذوں میں بہبود آبادی کی بنیادرکھ دی ہے اور اس سے آئندہ کے ترقیاتی منصوبوں کے تلپٹ ہونے میں خاطر خواہ فائدہ ہوگا بجٹ میں اُسکے لئے کم رقم مختص کر نا پڑے گی ۔

متعلقہ خبریں