Daily Mashriq

انسانی معاشروں کی تقسیم کے اسباب

انسانی معاشروں کی تقسیم کے اسباب

بنی اسرائیل نے تورات شریف اور انجیل وغیرہ میں تحریفات کر کے اپنے انبیاء کی تعلیمات سے انحراف کر کے گمراہی اختیار کر لی ۔ ان کو راہ ہدایت پر لانے کے لئے حضرت عیسیٰ اور آخری اتمام محبت اور قیامت تک بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لے خاتم النبین ۖ کی بعشت ہوئی۔یہود و نصاریٰ ، نبی ۖ کی نبوت و رسالت کے بارے میں ایسے جانتے تھے جیسے کوئی اپنی اولاد کو جانتا ہے ، لیکن حب ، مال ، حب جاہ اور عناد و ضد ، ہٹ دھرمی نے سوائے چند نفوس قدسیہ کے قرآن کریم کی روشن تعلیمات کو قبول کرنے نہیں دیا ۔ وہ دن اور آج کا دن ، خیر و شر کی وہی کشمکش جو قابیل و ہابیل کے زمانے سے شروع ہوئی تھی ، جاری ہے ۔ اُس زمانے میں جب قرآن کریم نازل ہورہا تھا اور یہود و نصاریٰ کے غلط عقائد اور توریت و انجیل میں کئے گئے تحریفات کی اصلاح کے بارے میں تعلیمات نازل ہورہی تھیں ، یہود ونصاریٰ کو بہت برُا لگنے لگا ۔ یہی بات مکی دور میں کفار کے ساتھ بھی تھی لیکن اُن کا معاملہ الگ تھا ، کیونکہ وہ اہل کتاب نہیں تھے اور ایک ہی قبیلہ قریش کے لوگ تھے ۔ لیکن مدینہ طیبہ میں جب خاتم النبیین ۖ کی مبارک قیادت میں ایک اسلامی فلاحی ریاست قائم ہوئی اور قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اُس کا دستور مدون ہوا تو اس ریاست کے خلاف یہود ، نصاریٰ اور مشرکین مکہ نے مل کر جو مخالفانہ اور معاندانہ سرگرمیاں اور لڑائیاں شروع کیں وہ تاریخ کا حصہ بن گئیں اور اللہ پاک کا فضل وکرم اور خاتم النبین ۖ اور آپ ۖ کے تربیت یافتہ جماعت صحابہ کی مبنی بر حق جدوجہد کے سبب جنگوں میں فتوحات حاصل ہوئیں اور اسلام تین براعظموں پر حاوی ہوا اور بنی نوع انسان کو زندگی کے اہداف و مقاصد سے باخبر بنانے کا صاف ستھرا اور یقینی ذریعہ بنا ۔ بس یہی بات دنیا میں آج بھی اقوام اور ملل کے درمیان وجہ اختلاف ہے ۔ خیر و شر کی ایک تقسیم عقائد و افکار اور نظام معاشرت کی بنیاد پر ہے ۔ اور دیگر قسم کے اختلافات مادیات یعنی دنیا وی منافع کے سبب ہے ۔ اسلام دین حق ہے اور اس کی تعلیمات اپنے پیروکاروں سے انفرادی زندگی سے لیکر اجتماعی زندگی اور طرز حکمرانی تک اپنے مخصوص طرز و تہذیب کا تقاضا کر تی ہیں ، جس میں غیر اسلامی معاشرت و معیشت کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ جبکہ دنیا میں ٹیکنالوجی اور مسائل پر قابض طاقتور اقوام اپنے مفادات کو یقینی بنانے کے لئے بزور بازو اپنی تہذیب و ثقافت کی ترویج و اشاعت اور نفاذ چاہتی ہیں ۔ اس کے خلاف جب کبھی اسلامی دنیا کے کسی خطے میں مخالفانہ آواز اُٹھتی ہے یا مزاحمت ہوتی ہے تو اس کو ختم کرنے کے لئے دامے ، درمے ، سخنے سے ہوتے ہوئے مسلح طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا جاتا ، خلفائے راشدین اور اُس کے بعد کے زمانوں میں جب کبھی صحیح معنوں میں کوئی اسلامی ریاست وجود میں آئی ، یہود و نصاریٰ نے اُسے کمزور کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زورلگایا اور اگر مسلمان ریاستیں مضبوط اور اسلامی تعلیمات کے مطابق ہوئیں تو اُن کے ساتھ گزارہ کر تیں اور مواقع کے انتظار میں رہتے ۔ سقوط بغداد ، سقوط غرناطہ ، سقوط ڈھاکہ ، سقوط کابل ، سقوط بغداد (دوسری مرتبہ بزمانہ صدام حسین )اور سقوط لیبیا سب یہی ایک ہی تاریخ کا تسلسل ہے ۔ ہاں مسلمانوں کی بات الگ ہے ۔ 

مسلمان جب طاقتور تھے اور غالب تھے تو تاریخ گواہ ہے کہ اُنہوں نے مذہبی ، نسلی اور جغرافیائی و لسانی وغیرہ کی اختلافات کی بنیاد پر بنی نوع انسان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں برتا اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ۔ اسی بنا ء پر اندلس ، ہندوستان اور افریقہ میں سیکڑوں برس پُر امن فلاحی ریاستیں قائم رہیں اور غیر مسلم مئورخین نے اپنی تصانیف میں اس بات کا بر ملا اظہار کیا ہے ۔ یہ سب قرون وسطیٰ اور مابعد کی باتیں ہیں ۔ اٹھارہویں صدی کے بعد جب مسلمانان عالم اپنی بد اعمالیوں کے سبب کمزور ہوگئے اور مختلف قسم کی فرقہ واریت کے سبب ، انتشار اور عدم اتفاق کا شکار ہوئے اور مغرب غالب آگیا تو ایک نئی تاریخ اور نیا زمانہ شروع ہوا ، اس زمانے میں سائنس و ٹیکنالوجی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوئی اور اسی میں مسلمان پیچھے رہ گئے اور آج اُس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ مسلمان ممالک کے پاس اربوں ڈالر خرچ کر کے بھی ایسا اسلحہ موجود نہیں جو ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل کا مقابلہ کر سکے ۔ سوائے پاکستان کے جس کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے سبب ایٹمی طاقت ہونے کا درجہ حاصل ہوا ، لیکن اپنوں کی بے مہا یا کرپشن اور عالمی استعمار کی ریشہ دوانیوں کے سبب معاشی لحاظ سے اس قدر مفلوج ہے کہ ہر پاکستانی ( بائیس کرورڑ عوام ) ایک لاکھ روپے مقروض ہے ۔ قرض سے نبی اکرم ۖ نے پناہ مانگی ہے ۔ کیونکہ مقروض آدمی کی خودی ختم ہو جاتی ہے اور جس فرد و قوم کی خودی ، اعتماد اور وقار ختم ہو جاتا ہے وہ کوئی شایان قوم نہیں بن سکتی ، اور آج اس لئے وطن عزیز کو دھمکیاں مل رہی ہیں ۔ اقتصادی پابندیاں لگوانے کی باتیں ہورہی ہیں یہ صرف اس لئے کہ اس ملک کی بنیادیں خاتم النبیین ۖ کے لائے ہوئے دین متین پر استوار ہوئی تھیں اور اس کے رہنے والے آج بھی خاتم النبیین ۖ کے پیروکار ہیں ۔ آپ ۖ سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں ، اورآ پ ۖ پر سب کچھ ہر وقت نچھاور کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں ۔ عالمی استعمار کو خدشہ ہے کہ کہیں اس عشق و جذبہ اور عقیدت و محبت کو اسلامی ریاست کے قیام کو عملی شکل دینے میں کام میں نہ لایا جائے ۔ اس لئے افغانستان ٹھکانا بنااور پاکستان یہود و نصاریٰ اور ہندو کا نشانہ ہے ۔ آئیں سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں اور سرکار دو عالم ۖ کی شریعت کو نافذ کرکے ملک و قوم کی سلامتی و حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے اپنی آخرت بھی سنواریں ۔

متعلقہ خبریں