Daily Mashriq

اکرم خان درانی صاحب ، اک نظر ادھر بھی

اکرم خان درانی صاحب ، اک نظر ادھر بھی

اخباری اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں آڈٹ حکام نے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہائوسنگ فائونڈیشن کی جانب سے وزیر اعظم کی پالیسی گائیڈ لائنیز کی خلاف ورزی میں مختلف کو ٹوں کی تخلیق اور ایک کھرب 74ارب 77کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 6ہزار پلاٹوں کی الاٹمنٹ کیلئے آفرلیٹر ز کے اجرا ء پر اعتراضات اٹھا دیئے ، آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ذمہ دار ان کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے وزیر اعظم کی پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے ۔ وزیر اعظم آفس سے 6فروری 2016ء کو جاری ہونے والی پالیسی DS(E-1)u.o no.4(28)/2015میں ہائوسنگ فائونڈیشن کو واضح طور پر ہدایت دی گئی تھی کہ ایسی وزارتوں اور اداروں جن کی اپنی ہائوسنگ سکیمیں موجود ہوں کے ملازمین کو پلاٹوں کے الاٹمنٹ سے متعلق قواعد کا از سر نو جائزہ لے ، تاہم فائونڈیشن نے 16جون 2016کو پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے مختلف کو ٹوں کے پلاٹوں کی منظوری دی جس پر یکم ستمبر 2016ء کو فائونڈیشن کو ہائوسنگ سکیم ایکٹ 2013ء کی خلاف ورزی سے احتراز کرنے کی ہدایت کی ، وزیر اعظم نے ایف 14اور 15میں پلاٹوں کی منظوری دیتے ہوئے فائونڈیشن کو ایک بار پھر ہدایت دی تھیں کہ الاٹمنٹ کیلئے کسی خاص گروپ ، سروس یا ادارے کو ترجیح نہ دی جائے تاہم ہائوسنگ فائونڈیشن نے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے دوران کیٹیگری کی درجہ بندی بندی کا لحاظ رکھتے ہوئے وزیر اعظم کی ہدایت کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ، دستیاب امید واروں کو متعلقہ کیٹیگریز میں الاٹمنٹ نہیں کی گئی ،کیٹگری ون میں 80فیصد پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی گئی ، کیٹیگری 2کیلئے 22فیصد کو ٹہ مختص کیا گیا ، تھری کیلئے دس فیصد پلاٹس مختص کئے گئے جو صریحاًوزیر اعظم کی پالیسی کی خلاف ورزی تھی ۔ اس کے علاوہ بھی کئی مزید خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں جو شائع ہونے والی خبر میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں ۔ اس صورتحال نے پلاٹوں کی الاٹمنٹ میںنا انصافی کی نشاندہی کی ہے ، قابل افسوس امر یہ ہے کہ ان بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں کو محکمانہ اکائونٹس کمیٹی میں بھی زیر بحث نہیں لایا گیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں فائونڈیشن کے اندر موجود طاقتور مافیا شامل ہے ، جبکہ آڈٹ حکام نے اکتوبر 2016ء کو ان بے قاعدگیوں کی نشاند ہی کی لیکن فائونڈیشن حکام نے ان کا بھی کوئی جواب نہیں دیا، اب آڈٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے وزیر اعظم کی پالیسی پر عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے ۔ 

بہت باتیں ہیں کہنے کی جنہیں ہم سن نہیں سکتے

وہی باتیں ہیں کہنے کی ، وہی باتیں ہیں سننے کی

جن بے قاعدگیوں کی نشاندہی اسلام آباد کے ایک اہم قومی اخبار نے تین چار روز پہلے کی ہے اس حوالے سے روزنامہ مشرق پشاور نے 8اگست 2016ء کی اشاعت میںاپنے ایک شذرے بہ عنوان ''وفاقی ملازمین کے ساتھ زیادتی '' میں اسی مسئلے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہائو سنگ جناب اکرم خان درانی سے گزارش کی تھی کہ پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے وفاقی ملازمین کے ساتھ صریح نا انصافی کی جارہی ہے جس کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے، اس کے بعد 14اگست 2016کی اشاعت میں راقم نے اپنے کالم میں ایک بار پھر جناب اکرم درانی کی توجہ دلاتے ہوئے ان حقائق سے آگاہ کیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ریٹائرڈ وفاقی ملازمین کے نام تو اس لسٹ میں شامل ہو چکے ہیں جنہیں پلاٹ اپنی اپنی کیٹیگری کے مطابق الاٹ کئے جانے ہیں تاہم تب بھی اور اب جبکہ محولہ کالم کو شائع ہوئے ایک سال اور دم تحریر ایک سال 15دن ہو چکے ہیں (یہ کالم 29اگست 2017ء کو تحریر کیا جارہا ہے ) ان لوگوں کو سیکٹر 14اور15میں ابھی تک پلاٹ الاٹ نہیں کئے گئے ، حالانکہ اسلام آباد کے لاتعدادپراپرٹی ڈیلرز کی جانب سے ان لوگوں کو ہر چوتھے ، پانچویں یا آٹھویں دسویں روز ایس ایم پیغامات کے ذریعے ان کے ''پلاٹوں '' کی بہترین آفرز کی پیشکش باقاعد گی کے ساتھ موصول ہو رہی ہیں ، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے نام الاٹیوںمیں شامل تو ہیں لیکن ہائوسنگ فائونڈیشن کی جانب سے الاٹمنٹ لیٹرز جاری نہیں کئے جارہے ہیں ۔ اس پر توحبیب جالب کا یہ شعر درست تبصرہ دکھائی دیتا ہے کہ

دم توڑتی نہیں ہے جہاں پر کسی کی آس

وہ زندگی کی راہ گزر کتنی دور ہے ؟

اپنے محولہ کالم میں راقم نے جناب اکرم درانی کی توجہ ایک بار پھر اس مسئلے کی جانب مبذول کراتے ہوئے لکھا تھا '' جناب اکرم درانی جو وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کے انچارج وزیر ہیں اور جن کا تعلق بھی خیبر پختونخوا سے ہے وہ یقینا اس صریح زیادتی کا نوٹس لیں گے ، ابھی حال ہی میں جناب وزیر اعظم ( سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب اشارہ تھا ) نے اسی وزارت کے تحت اسلام آباد ہی میں بعض اطلاعات پر کچھ تعمیر شدہ فلیٹس وغیرہ کی الاٹمنٹ میں بے قاعدگیوں کا نوٹس لیکر انہیں منسوخ کر دیا تھا ، اس لئے جناب اکرم خان درانی سے گزارش ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے وفاقی ملازمین کے ساتھ روا رکھی جانے والی اس زیادتی کا نوٹس لیکر انہیں الاٹمنٹ لیٹرز جاری کروانے ، الا ٹیوں کے نام فائونڈیشن کی ویب سائیٹ پر فوری طور پر دلوانے اور یہ نام اخبارات کے ذریعے مشتہر کروانے کے احکامات جاری کروائیں ۔

متعلقہ خبریں