قبائلی اضلاع کے عملی انضمام پر توجہ کی ضرورت

31 اگست 2018

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورے کے دوران وانا میں جنوبی اور شمالی وزیرستان کے عمائدین کے مشترکہ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا کہ قیام امن کے لیے قبائلی عمائدین کا سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون قابل تعریف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی مسئلہ صرف فوجی آپریشنز کے ذریعے ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔پاک افغان سرحد پر دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد کے علاقوں میں آپریشنز جاری رہیں گے جبکہ سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور ترقیاتی کام ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، ہمیں بدامنی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانا ہوگا۔آرمی چیف نے کہا کہ مقامی آبادی اس حوالے سے اپنی توجہ مرکوز رکھے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے دورے کے دوران ترقیاتی کام کی رفتار اور معیار پر اطمینان کا اظہارکیا۔ آرمی چیف کی قبائلی عمائدین سے اکثر ملاقاتیں رسمی ہوتی ہیں بلکہ دیکھا جائے تو قبائلی عمائدین سے دیگر متعلقہ حکام کی ملاقاتیں بھی رسمی ہی ہوتی تھیں ۔ ان ملاقاتوں یا جرگوں میں قبائلی عمائدین ناطق نہیں ہوتے بلکہ یا تو سامعین ہوتے ہیں یا پھر وہ ایسا کوئی موضوع نہیں چھیڑتے جو مہمان گرامی کے طبع نازک پر گراں گزرے اس روایت کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے انتظامات کی غلطی پہلے پولیٹیکل ایجنٹس کیا کرتے تھے اب ڈپٹی کمشنرز یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ نئی بوتل میں وہی پرانی شراب بیجی جا رہی ہے۔ قبائلی عوام اب فاٹا کی بجائے بندوبستی علاقے میں ضرور رہنے لگے ہیں لیکن ان کی حالت زار اور معاملات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اسی پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں اب ڈپٹی کمشنر بیٹھتا ہے چونکہ فاٹا کے انضمام میں سب سے اہم کردار پاک فوج کے سربراہ نے واضح طور پر ادا کیا تھا اور یہ انضمام ان کی احسن مساعی ہی کے باعث ممکن ہوا اس لئے اس ضمن میں اب اگر وہ اس عمل کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کریں تو ناموزوں نہ ہوگا۔ جہاں تک آرمی چیف کے بیان کی روشنی میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کی صورتحال اور خصوصاً دہشت گردی کے خاتمے کا تعلق ہے اس بارے دوسری رائے نہیں کہ ایک جانب حملہ آور مسلح دہشت گردوں کا صفایا کیا جا چکا ہے اور ان کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے۔ کبھی کبھار ٹارگٹ کلنگ کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔ اس سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی وزیرستان میں بے چینی اور عدم اعتماد کی کیفیت نہ صرف واضح طور پر موجود ہے بلکہ اس کا سڑکوں پرواضح اظہار بھی ہوتا ہے۔ اس دوران ناخوشگوار واقعات بھی پیش آتے ہیں جن کو اچھال کر مہمیز صورتحال کو ہوا دی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب اس صورتحال کو حکومت اور پاک فوج دونوں مشترکہ طور پر اور اپنی اپنی سطح پر دونوں طرف سے کوششیں کرکے نمٹانے پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ وجوہات اور معاملات جو بھی ہوں اور مقاصد جو بھی ہوں لیکن بہر حال یہ عناصر اسی وطن کے شہری ہیں جن کے تحفظات پر توجہ نہ ہونے کے باعث ان کی جانب سے مختلف فورمز پر ردعمل سامنے آتا ہے۔ اس کو اچھالنے کے لئے ہر وقت آمادہ عناصر کی بھی کمی نہیں اور چونکہ ذرائع اب انگلیوں کی پوروں پر آگئے ہیں اس لئے ان کے موقف کا پھیلائو اور غلط فہمیوں کا پھیل جانا فطری امر بن گیا ہے۔ یہ صورتحال دردمندان وطن کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یقینا ہمارے اداروں کی صورتحال پر نظر ہوگی لیکن اس کے باوجود غلط فہمیوں میں کمی لانے کے کوئی ٹھوس اقدامات منظر عام پر نہیں آتے۔ چونکہ اس قسم کے عناصر کو چنداں معاشرتی حمایت اور اہمیت حاصل نہیں اس لئے وہ ایشو کے منتظر ہوتے ہیں۔ جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنی موجودگی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال کوئی نیک شگون نہیں ان کے تحفظات سنے جائیں اور ان کو دور کرکے قبائلی علاقوں میں فتنہ پروری کے اسباب کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے ذریعے مقامی قیادت کا انتخاب اور عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کی سعی کی ابتداء کرکے شہریوں کو احساس معاشرت دلایا جاسکتا ہے جبکہ حکومت سازی کی تکمیل کے بعد اب نئی حکومت کو قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کی تیاری شروع کردینی چاہئے تاکہ صوبے میں ان کو نمائندگی ملے اور وہ صوبائی حکومت میں پوری طرح شریک ہو کر اپنے معاملات کو ایوان اور حکومت کے سامنے رکھ سکیں۔توقع کی جانی چاہئے کہ قبائلی عوام اور قبائلی اضلاع کے معاملات اور مسائل کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور کوئی ایسا خلا باقی نہیں رہنے دیا جائے گا جسے پر کرنے کے لئے ایسے موقع پرست عناصر آگے آئیں جس سے قبائلی معاشرے میں تقسیم اور انتشار کی کیفیت پیدا ہو۔ بہتر ہوگا کہ جملہ ارباب اقتدار اپنی ترجیحات میں اس معاملے کو مقدم رکھیں۔

مزیدخبریں