Daily Mashriq


سرکاری سکولوں کی ناگفتہ بہ صورتحال

سرکاری سکولوں کی ناگفتہ بہ صورتحال

انقلاب اور ایمرجنسی کے نعرے تلے ایک دور حکومت گزارنے کے بعد دوسری مدت اقتدار میں محکمہ تعلیم کا صوبے کے مختلف اضلاع کے سرکاری سکولوں میں ابتدائی بنیادی سہولیات کی فراہمی سے متعلق سروے کرانے کے فیصلے کی حکمت محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام ہی کے علم میں ہوگی۔ اسے المیہ ہی گردانا جائے گا کہ آئی ایم یو کی سالانہ رپورٹ برائے سال2017 کے مطابق اکثر پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں میں پینے کے صاف پانی، بجلی اور چار دیواری تک موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ جن سرکاری سکولوں میں پانی موجود تھا وہاں بجلی اورلیٹرین کی سہولیات نہیں تھی اور جن سکولوں میں یہ سہولت موجود تھی وہاں چاردیواری کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی گئی تھی۔اس وقت جبکہ محکمہ تعلیم کا قلمدان کسی کو سونپا ہی نہیں گیا ہے۔ سابق وزیرتعلیم نے سینئر وزیر بن کر سیاحت کے محکمے کو ترجیح دی۔ بنا بریں محکمہ تعلیم کا قلمدان اس وقت وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ہی کے پاس بنتا ہے۔ بہرحال تحریک انصاف کی دوسری مدت اقتدار کے ابتدائی دنوں میں محولہ رپورٹ کا حوالہ کوئی مثبت امر تو نہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ سابق حکومت بھی چونکہ برسر اقتدار جماعت کی تھی اس لئے اس صورتحال کی ذمہ داری بھی اس پر عائد ہوتی ہے کہ پانچ سالوں کے دوران دعوؤں کی حد تک تو نجی سکولوں کے ہزاروں طلبہ نے سرکاری سکولوں میں داخلہ لیا مگر صورتحال یہ ہے کہ اب بھی سکولوں میں پینے کا صاف پانی‘ بیت الخلاء‘ چار دیواری اور اس جیسے دیگر مسائل بدستور حل طلب ہیں۔ سرکاری سکولوں کی عمارتوں کی خستہ حالی بھی کوئی راز کی بات نہیں۔ بہرحال گزشتہ دور حکومت میں کیا ہوا کیا نہیں اسے ایک طرف رکھ کر موجودہ مدت اقتدار کے ابتدائی سالوں میں حکومت سکولوں میں کم ازکم بنیادی اور اشد ضروری سہولیات کی فراہمی ممکن بنائے تاکہ پھر سرکار ہی کی چھتری تلے مرتب ہونے والی کوئی اور رپورٹ نوشتہ دیوار اور باعث خجالت نہ ہو۔موجودہ حکومت کو ان تمام امور کا بغور جائزہ لینا چاہئے جن کے باعث وہ اہداف حاصل نہیں ہوسکے جن کا حصول ان کے منشور اور حکومت کا حصہ تھے۔ ماضی کے تجربات اور غلطیوں کا جائزہ بہتر خود احتسابی ہوگی جس کی روشنی میں بہتر کارکردگی کا حصول ممکن ہوگا۔

وزیر صحت کو پہلے دن ہی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا

خیبر پختونخوا کے نئے وزیرصحت کو حلف اُٹھاتے ہی ہیلتھ سیکرٹریٹ میں اپنے دفتر کے دورے کے دوران اس امر کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ان کا پالا کن سے پڑ گیا ہے۔ ہمارے رپورٹر کے مطابق وزیر موصوف دفتری سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے کچھ دیر بعدہی واپس چلے گئے۔ اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ محکمہ صحت کے حکام کو اس امر کا بخوبی علم تھا کہ نو منتخب وزراء حلف اٹھا رہے ہیں شاید ان کو یہ اندازہ نہ تھا کہ وزیر موصوف سیدھا اپنے دفتر پہنچ جائیں گے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صوبے میں دفتروں میں کیا ہو رہا ہے۔ صوبائی وزیر صحت نے ابتدا ہی اپنے دفتر کے حالات سے آگاہی حاصل کرکے کیا جس کی روشنی میں ان کو اپنے محکمے کا قبلہ سیدھا کرنے کی ضرورت کا شدت سے احساس ہونا فطری امر ہے۔ نومنتخب وزراء کو گر بہ کشتن روز اول کی کہانی ایک مرتبہ پھر پڑھ لینی چاہئے تاکہ اس سبق آموز ضرب المثل کی ضرورت کو ذہن میں بخوبی تازہ کرکے اس کی حکمت سمجھ لی جائے اور اس پر عمل کی سعی کی جائے اس کے بغیر متعلقہ محکموں کا قبلہ درست کرنا ممکن نہ ہوگا جس کی محکمہ صحت خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

دائی سے ناف چھپانے کی کوشش

حکومت کی جانب سے سرکاری محکموں کے افسران اورملازمین کو میڈیا کو بغیر اجازت معلومات کی فراہمی سے متعلق پابندی پر سختی سے عملدرآمد کیلئے دوبارہ ہدایت کا اجراء نئی بات نہیں شاید یہ ضرورت خیبر پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں چائے کے بھاری بل کے انکشاف سے ہونے والی خجالت کے باعث ضروری سمجھا گیا وگرنہ صوبائی حکومت کے پاس میڈیا سے چھپانے کی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے والا معاملہ وہاں ہوتا ہے جہاں داڑھی میں تنکا ہو۔ میڈیا کیساتھ حکومت کے اعتماد پر مبنی تعلقات ہی غلط فہمیوں اور ڈس انفارمیشن سے بچنے کا بہتر ذریعہ ہونا چاہئے۔ صوبائی حکومت پاک رہو بے باک رہو کا طرز عمل اپنائے اور میڈیا سے بچنے کی بجائے میڈیا کو آزادی سے کام کرنے دے تاکہ اعتماد کی فضا قائم رہے اور غلط فہمیاں جنم نہ لیں۔توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس قسم کے سطحی اقدامات کی بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنانے ‘ شفافیت اور قواعد و ضوابط پر مکمل طور پر عمل درآمد کے ذریعے کوئی ایسا سقم نہیں چھوڑے گی جسے میڈیا سے پوشیدہ رکھنے کی ضرورت پڑے۔

متعلقہ خبریں