میڈیا کا معاشرے میں کردار

31 اگست 2018

میڈیا پر عوام سے مخاطب ہونے والوں کو اس وقت تک یہ اجازت نہیںہونی چاہیے جب تک انہیں ازالہ حیثیت عرفی سے کماحقہ واقفیت نہ ہو ‘ اس بات سے آگاہی نہ ہو کہ عدالتوں میں زیرِ سماعت معاملات پر رائے زنی ان کے دائرہ کار سے باہر ہے اور اس بات سے آگاہی نہ ہو کہ ملزم ہونے سے کوئی شخص اپنے شخصی احترام سے محروم نہیں ہو جاتا۔ جب تک ملزم کسی عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے وہ اتنا ہی باعزت ہوتا ہے جتنا کوئی اور شہری۔ لیکن ہمارے میڈیا میں کرپشن کے الزامات کو اس طرح اچھالا جاتا ہے کہ جس سے ملزم کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ الزام غلط بھی ثابت ہو سکتا ہے لیکن جو توہین ایک بار ہو جاتی ہے اس کا ازالہ نہیںہوتا۔ اس لیے جن لوگوں کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں ان کے بارے میں ایسے نشریے یا اشاعیے جن میں ملزم کی توہین کا پہلو نکلتا ہو نہ صرف ملزم کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ توہین عدالت بھی ہے۔ ہمارے ٹی وی چینلز پر اکثر زیرِ سماعت مقدمات کے بارے میں تبصرے نشر کیے جاتے ہیں جب کہ قوانین کے مطابق زیرِ سماعت مقدمات پر رائے زنی نہیں کی جا سکتی۔ زیرِ سماعت مقدمات کے بارے میں میڈیا کے تبصرے ناظرین کے تعصبات کی تشکیل کرتے ہیں ۔ عدالتیں ملزم کے حق میں اور اس کے خلاف دلائل و شواہد سے آگاہی کے بعد قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہیں جب کہ میڈیا کے تبصرے اور ان کے زیرِ اثر تعصبات کی کوئی قانونی حیثیت نہیںہوتی۔ اس طرح ایک طرف عدالت میں مقدمہ زیرِ سماعت ہوتا ہے دوسری طرف میڈیا میں اپنی طرف سے رائے زنی کی جاتی ہے جو متوازی عدالتی کارروائی کے مترادف ہے۔ یہ نہ صرف توہینِ عدالت ہے بلکہ توہینِ آئین بھی ہے جو ہر شہری کے جان ‘ مال‘ عزت اور آبرو کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر کی سرزنش کی اور کہا کہ آپ ایک زیرِ سماعت مقدمے کے بارے میں رائے زنی کیسے کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے تو نیب کو بھی لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے سے منع کیا ہے ‘ میڈیا کیسے پگڑیاں اچھال سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کے ان ریمارکس کے بعد پیمرا نے اس اینکر کے ٹی وی چینل کو نوٹس جاری کر دیا کہ کیوں نہ اس کے خلاف انضباطی کارروائی کی جائے۔ یہ انضباطی کارروائی تیس دن کے لیے چینل کی بندش بھی ہو سکتی ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ پیمرا نے یہ نوٹس سپریم کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران متذکرہ چینل کے اینکر کی سرزنش کے بعد جاری کیا۔ پیمرا پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا مخفف ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس انضباطی ادارہ کے نوٹس میں یہ بات پہلے کیوں نہیں آئی جب کہ اس کا نام ہی انضباطی اتھارٹی ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ پیمرا کا الیکٹرانک میڈیا کی نشریات کی مانیٹرنگ کا کیا طریقہ کار ہے؟ اس کارروائی سے لگتا ہے کہ پیمرانے فوری طور پر ایسی ہی سرزنش سے بچنے کے لیے چینل کو نوٹس بھیج دیا ہے۔ لیکن زیرِ سماعت مقدمات کے بارے میں نشریات صرف ایک چینل کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ اور بھی چینل ایسے ہیں جو یہی کام کرتے ہیں۔ ایک طرف یہ وتیرہ ہے دوسری طرف سوشل میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ میڈیا نے خود سنسر لگایا ہوا ہے۔میڈیا کے معاشرے میں کردار کے بارے میں خود میڈیا کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

یوں لگتا ہے کہ ہمارے میڈیا نے ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کا آسان طریقہ اختیار کر لیا ہے کہ کوئی تنازع مبحث تلاش کر لیا جائے جس میں کسی پر الزام آتے ہوں اور جوابدہی کے کٹہرے میں کھڑا ہو‘ اور کوئی الزام لگا رہا ہو۔ اسے مقابلہ کی شکل دے کر کسی کی ہار او رکسی کی جیت کے امکان کا پہلو نمایاں کیا جائے۔ کھیلوں کے مقابلوں میں تو یہ ہوتا ہے لیکن جہاں شہریوں کی عزت و وقار کا معاملہ ہو وہاں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس کے لیے ازالہ حیثیت عرفی کے قانون موجود ہیں اور زیرِ سماعت مقدمات پر رائے زنی کے قانون بھی موجود ہیں جن کی پاسداری میڈیا پر لازم ہے۔ کہتے ہیں کہ میڈیا میں ایک غلطی ایک شمار نہیں ہوتی بلکہ ان لاکھوں ناظرین اور سامعین کی تعداد جتنی ہو جاتی ہے جن کے سامنے یہ آتی ہے اور ان کی رائے کو متاثر کرتی ہے۔

میڈیا کی اس محاذ آرائی میں دلچسپی کے باعث خود میڈیا کا معیار متاثر ہو رہا ہے۔ میڈیا کا منصب عوام الناس کی رہنمائی ہے ۔ ہمارا میڈیا بالعموم سنجیدہ قومی ایشوز پر اتنا متوجہ نظر نہیں آتا جتنا ’’محاذ آرائی‘‘ یا تنازعات پر متوجہ نظر آتا ہے۔ سنجیدہ قومی مسائل پر بھی بحث ہو سکتی ہے ‘ اختلافی آراء بھی آ سکتی ہے جو آنی چاہئیں۔ ہمارے ملک کا مسئلہ اس وقت معاشی ہے۔ ہم اس صورت حال کی ذمہ داری ڈالنے پر زیادہ متوجہ ہیں بہ نسبت اس مسئلہ کے حل دریافت کرنے کے۔ میڈیا ماہرین کو متوجہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح پانی کا مسئلہ ہے ۔ دیگر اہم قومی مسائل ہیں جن پر آگہی اور بحث کی ضرورت ہے تاکہ قومی رائے تشکیل پا سکے۔ لیکن مسائل پر گفتگو آگے بڑھانے کے لیے ان پر گہری نظرکی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ماہرین کی گفتگو کو عوام کے لیے عام فہم بنایا جا سکے۔ اس لیے خود میڈیا کو تنازعات پر عوام کو متوجہ کرنے سے اوپر اٹھنے کی ضرورت ہے۔ تنازعات کو اچھالنے میں ایک قسم کی تفریح کا پہلو نکلتا ہے جو کسی کے آزار پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ دیر تک باعث توجہ نہیں رہ سکتی۔ قومی ایشوز اور انسانی مسائل پر توجہ سنجیدہ فہم کی بنیاد بنتی ہے جس کی آج سارے معاشرے کو سخت ضرورت ہے۔ اس لیے میڈیا کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ اپنے سٹاف میں بھی تحقیق اور مطالعہ کو فروغ دیں جس کی ضرورت مختلف چینلز پر بعض الفاظ کے غلط سلط تلفظ کی صورت میں نظرآتی ہے۔ اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ریگولیٹری اتھارٹی کی بجائے میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی قائم کرے اور میڈیا کے معیار کی بلندی پر توجہ دے۔

مزیدخبریں