Daily Mashriq


اعتزاز ، اعتزاز بس اعتزاز ؟

اعتزاز ، اعتزاز بس اعتزاز ؟

مرحوم پیر مردان شاہ پگار ا کشف کا بہت ملکہ رکھتے تھے اور جی ایچ کیو سے غیر متزلزل وابستگی کا اظہا رکر نے کے ساتھ ہی وہ پا کستانی سیا ست اور اس کے مد وجزر کے بارے میںاہم اکتشافات بھی فرما یا کرتے تھے ، ان کی رحلت کے بعد پاکستانی سیا ست میں ایسا کوئی پیشن گوئی کرنے والا نہیںرہا البتہ شیخ جی رشید احمد لا ل حویلی نے پر ویز مشرف کے دور سے یہ گدی زبردستی ہتھیانے کی سعی کی مگر ان کو اس جیسی پذیر ائی نہ حاصل ہو سکی البتہ سند ھ سے منظور وسان نے بھی یہ فریضہ انجام دینا شروع کر دیا ہے ۔ لیکن اب پی پی کے مرکزی رہنما خورشید شاہ نے جو انکشاف کیا ہے وہ سب کو ورطہ حیرت میں ڈالے ہوئے ہے ۔شاہ صاحب کا فرمان ہے کہ وفاقی وزیر اطلا عات چودھری فواد ان کے پا س تشریف لائے۔اورانہوں نے تجو یز دی کہ تحریک انصاف اور پی پی مشترکہ صدارتی امید وار میدان میں لے کر آئے۔ یہ تجو یز قبول کر لی گئی اورپی ٹی آئی سے صدارتی امید وار کانا م مانگا گیا تو انہو ں نے اعتزاز احسن کا نا م پیش کیا جس پر پی پی نے آمنّا صدقنّا کر لیا ، اب خورشید شاہ نے بدھ کے روز فرمایا کہ نہ جا نے پی ٹی آئی نے یو ٹرن کیوں لے لیا ، جبکہ اعتزاز احسن کا نا م پی ٹی آئی کا تجو یز کر دہ ہے ۔ اعتزازاحسن کا نا م پی ٹی آئی کا تجو یز کر دہ ہے یہ بہت بڑا انکشا ف ہے۔ اس سے بھی بڑا انکشا ف یہ ہے کہ پی پی جو متحد ہ اپو زیشن کا حصہ ہے وہ حکمر ان جما عت کے ساتھ صدارتی امید وار کے لیے کس بنیا د پر معاہد ہ کر بیٹھی ۔خو رشید شا ہ جیسے سنجید ہ سیا ستدان کی جانب سے ایسا انکشا ف یہ کہتا ہے کہ دونو ں جما عتوں میں ضرور ژرفائے دل پا یا جا تا ہے ، ویسے یہ بات تو وزیر اعظم کے انتخاب کے مو قعہ پر کھل گئی تھی کہ پی پی نے شہباز شریف کا نا م پیش کر کے یو ٹرن لے لیا تھا اور اس طرح وہ پی ٹی آئی کے لیے بہترین سہو لت کا ر بن گئی تھی۔ اس وقت بھی پی پی کا وہی کر دار تھا جو سینٹ کے چیئر مین کے انتخاب کے موقع پر زرداری نے ادا کیا تھا ۔وزیر اعظم کے انتخاب کے مو قع پر متحد ہ حزب اختلا ف کی پو زیشن ڈھیلی ڈھالی سی تھی مگر صدارت کے انتخاب کے لیے وہ کا فی مضبوط پو زیشن لیے ہوئے تھی ، جب پی پی کے چیئر مین بلا ول نے دو ٹوک کہہ دیا کہ اعتزاز احسن ، اعتزازاحسن بس اعتزاز احسن تو بات مصفاء ہوگئی کہ پی ٹی آئی کے لیے ایک مر تبہ پھرپی پی سہولت کا ر کا کر دار ادا کر رہی ہے کیوںکہ یہ با ت عام سمجھ کی ہے کہ اگر اپو زیشن متفقہ صدارتی امیدوار میدان میں لا نے میںکا میا ب ہو جاتی تو پی ٹی آئی کو یہ الیکشن بغیر جتن کے جیتنا ممکن نہ ہوتا اب مید ان صاف ہے کیو ں کہ پی پی کے فیصلے سے اپو زیشن ووٹ تقسیم ہو گیا ہے اور پی ٹی آئی کے امید وار عارف علوی کے لیے میدان تقریباًصاف ہوچکا ہے ۔ میدان صاف ہو نے کے بارے میں مولانا فضل الر ّحمان ذکر کر چکے ہیں ، لیکن بات کا الجھاؤ یہ ہے کہ آخر پی پی اعتزازاحسن پر کیو ں اڑ گئی ہے ، نظر تو یہ ہی آرہا ہے کہ اپو زیشن کے ووٹ تقسیم کر نا مقصود ہے اور عارف علوی کا راستہ صاف کرنا ہے مگر پی پی تو متحد ہ اپو زیشن کا حصہ ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اعتزاز احسن کو متحدہ اپو زیشن نا مزد کر تی جیسا کہ انہو ں نے مولانا فضل الرّحمان کو نا مزد کیا اب مولا نا فضل الرّحمان ہی حزب اختلا ف کے مشترکہ امید وار قرا ر پا تے ہیں ، جب کہ اعتزاز احسن صرف پی پی کے امید وار ہیں جس کے ووٹ بہر حال مسلم لیگ ن اور متحد ہ اپو ز یشن کے ووٹو ں سے کہیں کم ہیں ، پھر کسی آس پر ڈور ڈالی ہے ۔ چلیں مسلم لیگ ن اور پی پی جنم جنم کی سیا سی حریف ہیں مولانا فضل الرّحمان نے جنرل ضیا ء الحق کے دور سے ہمیشہ پی پی کا زبردست ساتھ دیا ہے خود مرحومہ بے نظیر بھٹو بھی مولانا کی وفاداری کی قائل تھیں مگر یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ شہباز شریف کو جو چوٹ وزیر اعظم کے انتخاب کے مو قع پر پڑی تھی اس مر تبہ انہو ں نے اپنے پتے خوب دانشمند ی سے کھیلے ہیں اورپی پی کو مخمصے میں ڈال دیا ہے ۔ اب جب کہ ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا فضل الرّحمان یا اعتزاز احسن میں سے کوئی دستبردار نہیں ہو ا تو عارف علوی کے نا م لا ٹری نکل آئے گی۔ شہباز شریف نے یو سف رضا گیلا نی کا نام تجو یز کیا تھا جو پی پی نے مستردکر دیا ، سوال یہ ہے کہ اعتزازاحسن میں ایسی کونسی خوبی ہے کہ آصف زرداری اپو زیشن کے بکھر نے کا بھی غم نہیں کر رہے ہیںاو ر صدارتی الیکشن میںکا میا بی نظر بھی نہیں آرہی ہے اس کی بھی فکر نہیں۔ اگر وہ یو سف رضا گیلا نی پر حا می بھرلیتے تو صورتحال پی پی کے حق میں جا تی ، جبکہ اعتزازاحسن کا طر ز عمل گزشتہ آٹھ نو سا ل سے ایسا رہا ہے کہ وہ اپنی پا رٹی سے اکھڑ ے اکھڑے رہے ہیں جبکہ ان کو ما ضی میں پاکستان کے لیے سیکو رٹی رسک بھی قرار دیا جا تا رہا ہے ، اہل پاکستان ابھی یہ بات نہیں بھولے کہ جب 1988ء میں محترمہ بینظیر بھٹو پہلی مرتبہ برسراقتدار آئیں تو اعتزاز احسن کو وفاقی وزیر داخلہ کا قلمدان سونپا گیا تھا ان کے بارے میں مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس وقت خالصتان تحریک کے حوالے سے معلومات کی فائل بھارتی حکومت کو حوالے کی تھی اگرچہ ما ضی میں اعتزاز احسن ایسا کر دار ادا کرنے کی تردید کر چکے ہیں مگر آفیشل طو رپر کوئی تردید سامنے نہیں آئی ۔ نو از شریف سے اس بارے میں کوئی توقع عبث تھی کیو ں کہ عمر ان خان ان کو مودی کا یا ر کہتے ہیں مگر عمر ان خان آج خود عہد ہ جلیلہ پر فائز ہیں اور پا کستان کو مستحکم کر نا چاہتے ہیں چنا نچہ ان کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں فائل نکلوائیں اور اس امر کی تحقیق کر ائیں کہ کس کس نے بھارت سے یا رانہ کیا ہے ۔

متعلقہ خبریں