Daily Mashriq


تین مسئلے

تین مسئلے

بہت احترام کے ساتھ یہ درخواست ہے کہ جناب عمران خان کو وفاقی اور پنجاب کی کابینائوں کے چند وزراء کے ساتھ اپنی جماعت کے کچھ من چلوں سے کہنا ہوگا کہ زبان و بیان کے مظاہروں سے قبل لمحے بھر کے لئے سوچ لیا کریں کہ ان کے فرمودات سے عوام کیا تاثر لیں گے۔ ہوسکے تو فرزند راولپنڈی کہلانے کے شوقین شیخ رشید احمد کو تو وہ خصوصی طور پر چاند ماریوں کے شوق کو ترک کرنے کا مشورہ دیں۔ چند روز قبل ہی اپنے پروٹوکول کے راستے میں حائل ہونے والی موٹر سائیکلوں کے مالکان بارے جناب شیخ نے جو ارشاد فرمایا وہ نا مناسب ہے۔ موقع پر موجود ٹریفک اہلکار سے انہوں نے اس کے فرائض کے منافی خدمت لی۔ اس ضمن میں یہ بھی عرض ہے کہ ملک بھر کے گنجان آباد شہروں میں پارکنگ کے مسائل گمبھیر تر ہیں۔ گنجان بازاروں میں پلازے تعمیر کرنے والوں نے مقتدر اداروں کی ملی بھگت سے پلازوں میں پارکنگ فلور تعمیر نہیں کئے۔ اس طرح چھوٹے بڑے شہروں میں قائم بلدیاتی اور ترقی کے لئے قائم دوسرے اداروں نے بھی شہروں میں پارکنگ کے مسائل کو جدید خطوط پر حل کرنے کی بجائے محض کمائی کا ذریعہ بنایا۔ عرض یہ کرنا مقصود ہے کہ وزرائے کرام پروٹوکولوں اور وزارت کے نخرے دکھانے کی بجائے زمینی حقائق کو سامنے رکھیں۔ پہلی فرصت میں چھوٹے بڑے شہروں اور خصوصاً کاروباری علاقوں میں پارکنگ کے مسائل کا حل تجویز کرتے ہوئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ ثانیاً یہ کہ جناب شیخ کو بھی سمجھانا ہوگا کہ اب آپ راجہ بازار کے چوک پر خطاب نہیں فرما رہے بلکہ وفاقی وزیر ہیں۔ بد قسمتی سے وفاقی وزیر ریلوے اور ریلوے کے او ایس ڈی بنا دئیے گئے چیف کمرشل منیجر کے درمیان لاہور میں ہوئی تلخی نے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا۔ بدھ کے روز انہوں نے سینٹ میں موچی باغ برانڈ خطاب پھڑکا دیا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ نئی حکومت کے سربراہ جناب عمران خان ہیں اس لئے ہر اچھائی اور زبان دانی کے مظاہرے کو ان کے ہی کھاتے میں لکھا جائے گا۔

ایل جی پی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد بدھ کے روز نیپرا نے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 36پیسے اضافے کی منظوری دے دی۔ گو وفاقی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو موخر کردیا ہے لیکن سوئی نادرن اور سدرن کے حکام جس طرح قیمتوں میں اضافے پر بضد ہیں ہفتے دو ہفتے میں حکومت کو مجبوراً ان کے سامنے سپر ڈالتے ہی بنے گی۔ پچھلے تین ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح میں مجموعی طور پر 9فیصد کے قریب اضافہ ہوا ہے یہ اضافہ ادویات کی قیمتوں میں بنا منظوری کے ہونے والے اضافے سے ملا کر دیکھا جائے تو 13فیصد بنتا ہے۔ آمدن اور قوت خرید میں عدم توازن کی وجہ سے پیدا شدہ مسائل کسی سے مخفی نہیں۔ خود عمران خان اور ان کے ساتھی انتخابی مہم کے دوران مہنگائی کی بلند ترین شرح پر پچھلی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہ کہتے رہے ہیں کہ اگر غیر ضروری اخراجات اور حکمرانوں کے اللوں تللوں پر قابو پا لیا جائے تو عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے۔ اندریں حالات میں یہ سوال جناب عمران خان اور ان کے رفقا کے سامنے رکھنا ضروری ہوگیا ہے کہ غیر ضروری اخراجات کے خاتمے اور دیگر معاملات میں بہتری لانے کے لئے ان کی حکومت نے کیا حکمت عملی وضع کی؟ محض یہ کہہ کر زبان بندی نہیں کروائی جاسکتی کہ ابھی ہمیں حکومت میں آئے اور امور مملکت سنبھالے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں۔ عوام تو توقع کر رہے تھے کہ نو منتخب وزیر اعظم قوم سے اپنے اولین خطاب میں اور کچھ نہیں تو پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں میں مناسب کمی کا اعلان کریں گے تاکہ بے لگام مہنگائی اور عذاب بنے مسائل میں کچھ تو کمی ہو۔ ایسا نہیں ہوا بلکہ ایل جی پی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہر دو اضافوں کی وجہ سے مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہوگا جس سے عام شہریوں کے مسائل میں ایک طرف اضافہ ہوگا تو دوسری طرف ان کے سیاسی مخالفین کے ہاتھ ہتھیار بھی لگیں گے۔ کیا امید کریں کہ جناب عمران خان اصلاح احوال کے لئے ذاتی طور پر دلچسپی لیں گے۔ تیسرا مسئلہ جس کی طرف حکومت کو متوجہ کرنا از بس ضروری ہے وہ مختلف محکموں میں بیورو کریٹس کے تبادلے اور تقرریاں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قائد اعظم سولر پارک منصوبے میں شہباز شریف کے دست راست جہانزیب کو اب چیئر مین ایف بی آر مقرر کردیاگیا ہے۔ شریف خاندان کے ذاتی ملازم کی شہرت رکھنے والے بیورو کریٹ اعجاز منیر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ مقرر ہوئے۔ ایک اور بیورو کریٹ ڈاکٹر سلمان جن کی تحریک انصاف پچھلے دور میں شدید ناقد رہی انہیں آئی بی کا سربراہ بنا دیاگیا۔ اعجاز منیر کی دوسری وجہ شہرت ان کا فواد حسن فواد کا دست راست ہونا ہے۔ مذکورہ تین مثالیں عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کیسے ممکن ہے کہ تبدیلی و اصلاح کا ایجنڈا رکھنے والی تحریک انصاف سابق حکمران خاندان کے وفادار ترین بیورو کریٹس کے ذریعے اپنی پالیسیوں پر عمل کرواسکے؟ یہ وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر ہم یہ عرض کریں گے کہ جناب عمران خان اپنی حکومت کی پالیسیوں کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لئے بیورو کریسی کے انتخاب کے عمل میں ذاتی طور پر نگرانی کریں۔ بہر طور بنیادی طور پر یہ تحریک انصاف کی ذمہ داری ہے کہ وہ تصویر کے دونوں پہلو سامنے رکھے۔

متعلقہ خبریں