خوابوں کی صورتگری اور صدرممنون حسین کا نظریہ

31 اگست 2018

مسئلہ ہمارا مگر یہ ہے کہ ہم کسی بھی بات کو تولتے ہوئے کسی اپرے غیرے نتھوخیرے کی بات پر دھیان نہیں دیتے ۔ حالانکہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ، کایہ قول اکثرلوگ تحریروں کے علاوہ زبانی کلامی بھی دوہراتے رہتے ہیں کہ یہ مت دیکھوکون کہہ رہا ہے یہ دیکھوکیا کہہ رہا ہے ۔ مگر وہ جو من حیث القوم ہمارا رویہ ہے اسی کی وجہ سے ہم اکثر اپنے کالموں میں کسی بات کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس پر کوئی توجہ نہیں دے گالیکن اسے کیا کہا جائے کہ ہم بھی عادت سے مجبور ہیں اور بلا سوچے سمجھے بول دیتے ہیں ، فیض احمد فیض کی اس بات پر ایقان رکھتے ہوئے کہ ’’بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ‘‘حالانکہ ان سے پہلے صدیوں سے سیانوں کی یہ بات بھی ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے کہ پہلے تو لو ، پھر بولو، لیکن ہم بھی اپنی عادت سے مجبور ہیں ، بنا سوچے سمجھے بول ہی دیتے ہیں ،اور سندھ کے ایک اہم سیاسی رہنماسائیں منظورو سان کے ایک بیان پر ہم نے تبصرہ بھی کر دیا تھا جس کو کسی نے درخوراعتناء سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی لیکن وہ جو انگریزی میں کہتے ہیں فرام دی ہارسزمائوتھ ، تو اب صدر ممنون حسین نے بھی سائیں منظوروسان کے بارے میں کہیں اور نہیں لندن ائیر پورٹ پر کہہ دیا ہے کہ وسان کے خواب کی تعبیر یں ہمشیہ الٹ رہیں ، یوں صدر مملکت نے انگریزی محاورے کا بڑا بر محل استعمال بھی انگریزوں ہی کی سرزمین پر کر کے بات کا لطف دوبالا کردیا ۔ تاہم ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ اب لوگ (ہماری ہی کہی ہوئی بات)صدر مملکت کی زبانی سن کر اس پر یقین بھی کریں گے اور توجہ بھی دیں گے ، گویا صدر ممنون حسین کے ہم ممنون ہیں جنہوں نے ہماری ہی بات کو وقعت دے کر آگے بڑھایا۔ دراصل منظوروسان نے چند روز پہلے ایک بار پھر خواب دیکھتے اور اس حوالے سے تعبیر بتاتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان دوسال بھی نہیں گزار سکتا اور وہ خود ہی اسمبلیاںتوڑ کر نئے انتخابات کرائے گا ۔ سائیں منظور وسان نے یہ خواب کب یعنی کس وقت اور کس کیفیت میں دیکھا تھا اس بارے میں خبر میں کوئی تفصیل درج نہیں تھی ، اگر ہوتی تو ہم کسی خواب گر سے رجوع کر کے خواب کی اصل تعبیر کے بارے میں ضرور معلومات بہم پہنچانے کی کوشش کرتے ، حالانکہ اس حوالے سے بھی مختلف نظریات مشہور ہیں ، مثلاًایک شاعر نے کہا ہے کہ ہم نغمہ سرا کچھ جذبوں کے ، ہم صورت گر کچھ خوابوں کے ، جبکہ ماہرین نفسیات خوابوں کی توجیح انسان کے نا آسودہ جذبوں کے حوالے سے کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب کسی انسان کی کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی تو وہ خواب کی صورت اس کی لاشعورکی سطح سے شعور میں اتر کر نیند کے دوران سامنے آجاتی ہے ، اور اس کے بعد وہ جاگ کر احمد فراز کے الفاظ میں یوں گویا ہوتا ہے

دیکھویہ میرے خواب تھے ، دیکھو یہ میرے زخم ہیں

میں نے سبھی حساب جان بر سر عام رکھ دیا

شاید صدر مملکت ممنون حسین خود بھی کراچی سے تعلق رکھنے کی وجہ سے منظور وسان کو زیادہ قریب سے جانتے ہیں اس لئے انہوں نے کہہ دیا ہے کہ منظوروسان کے خواب کی تعمیر ہمیشہ الٹ رہی ہیں ، ویسے خدا لگتی کہئے تو صدر ممنون نے کوئی نئی بات بھی نہیں کی بلکہ خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے مشہور یہی ہے کہ خواب کی تعبیر الٹ ہوتی ہے ، جبکہ سائیں منظوروسان کے ماضی میں دیکھے گئے خوابوں میں سے کسی خواب کی تعبیر ان کے بیانئے پر کبھی پوری اترنے کی اطلاع بھی عوام تک نہیں پہنچی ، اب موصوف اگر ہمیشہ ہی الٹے سیدھے خواب دیکھتے رہے ہیں تو ہمیں خدشہ ہے کہ وہ کسی ماہر معدہ سے مل کر اپنا معائنہ کرائیں کہ کہیں ان کے معدے سے اٹھنے والے تبخیری جرثومے ان کے خوابوں پر تو حملہ آور نہیں ہوتے ، کیونکہ ماہرین نفسیات کی خوابوں کے بارے میں توجیحات سے قطع نظر ماہرین معدہ بھی خوابوں کے حوالے سے اپنے نظریات پر قائم ہیں اور وہ اس قسم کے ’’پریشان کن‘‘خوابوں کے پیچھے معدے میں گرانی اور اس سے اٹھنے والے تبخیری عمل کو قرار دیتے ہیں ، چونکہ مذکورہ خواب منظوروسان نے عید قربان کے بعد دیکھا تھا اس لئے ہمیں خدشہ ہے کہ موصوف نے قربانی کا گوشت کچھ زیادہ ہی کھا لیا ہوگا۔ اور اس سلسلے میںانہوں نے ماہرین طب کے ان مشوروں کو بھی درخوراعتناء سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہوگی جو ہمیشہ عید قربان پر عوام کو بغیر فیس لئے مشورہ دیتے ہیں کہ قربانی کے جانوروں کا گوشت کھاتے ہوئے اعتدال کو ہاتھ سے نہ جانے دیں ورنہ صورتحال بگڑسکتی ہے ، اور عید کی چھٹیوں کے دوران ہی مختلف چینلزپر بسیار خوری کے شکار افراد کی ہسپتالوں میں پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں تاہم مقام شکر ہے کہ سائیں منظورو سان کے حوالے سے ایسی کوئی بد خبری تو نہیں آئی البتہ تبخیر معدہ کی صورتحال نے انہیں حسب عادت نئے خواب دیکھنے پر ضرور اکسا یا اور پھر انہوں نے اس پریشان کن خواب کی جو تعبیر بتائی اس پر صدر ممنون حسین کو بھی تبصرہ کرنا ہی پڑا ۔ حالانکہ ایسے پریشان خوابوں کی تعبیر مرزاغالب نے بھی یوں رقم کی ہے

تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ

جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سودتھا

مزیدخبریں