Daily Mashriq


جسے جہاں بجا کہے بجا سمجھو

جسے جہاں بجا کہے بجا سمجھو

پہیلیاں بجھواتے وقت اپنے ہم عصروں سے پوچھا کرتے تھے کہ اس پرندے کا نام بتاؤ ’’جس کے سر پر پاؤں ہوں‘‘ ہماری یہ بات سن کر ہمارے ساتھی چکرا جاتے کہ بھلا وہ کون سا پرندہ ہے جس کے’’ سر پر پاؤں‘‘ ہوسکتے ہیں ، جب وہ ہماری پہیلی نہ بوجھ پاتے تو ہم انہیں بتاتے کہ ’’ہر پرندے کے سر پر اور پاؤں ہوتے ہیں ‘‘ ہمارا یہ جواب سن کر ان کا کیا رویہ ہوتا یہ ایک الگ کہانی ہے ، ہم اپنے آج کے کالم میں’’پر اور سر ‘‘ والے پیشہ ورانہ نام کا تجزیہ پیش کرنا چاہتے ہیں اور تجویز پیش کرنا چاہتے ہیں کہ ریڈیو کے پروڈیوسر کو پروڈیوسر کی بجائے ’’ پراڈیوسر‘‘ کہنا چاہئے، ہماری نظر میں پروڈیوسر کا لفظ ’ پر، ویڈیو، اور سر‘ کا مرکب ہے ، یہ لفظ یا پیشہ ورانہ نام ان خواتین و حضرات کے لئے مخصوص ہونا چاہئے ، جن کے پھڑپھڑاتے پر وں اور سر کا تعلق ویڈیوکی دنیا سے ہوتا ہے، لیکن ہم اس شخصیت کو بھی پراڈیوسر کی بجائے پروڈیوسر کہہ دیتے ہیں جن کا تعلق آواز کی دنیا سے ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری اس تجویز کو نقار خانہ میں طوطی کی آواز کے مترادف سمجھا جائے گا یا کسی دیوانے کا ذہنی فتور لیکن ہم

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

کے مصداق اپنے کالموں میں ایسی بہت سی باتیں ببانگ دہل کرتے رہتے ہیں

بھری بزم میں راز کی بات کہدی

بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں

کے مصداق کرتے ہیں رہتے ، اس لئے اگر ہماری اس بات کو کوئی خاطر میں لائے یا نہ لائے اس سے ہم دیوانوں کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ کل ہی کی بات ہے ہم جب ریڈیو پاکستان پشاور کے سٹوڈیو سے لائیو پروگرام کرکے نکلے توہمیں بتایا گیا کہ ریڈیو پاکستان پشاور کی دیواروں پر آویزاں تصویروں کے شو کیسوں میں تمہاری تصویر بھی سجا دی گئی ہے ، اس سے پہلے کہ ریڈیو پاکستان پشاور کے ارباب بست و کشاد کی زبانی یہ بات جان کر’’ زہے نصیب ‘‘ کا جملہ زبان سے ادا ہوتا ہم سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے ہماری آڈیو لائبریری دیکھی ہے ، وہ جسے آڈیو لائبریری کہتے ہیں وہ ہم نے پہلے ہی دیکھ رکھی تھی ، لیکن اب کے جو آڈیو لائبریری ہم کو دکھائی گئی اسے دیکھ کر بے اختیار سبحان تیری قدرت کے سے انداز میں ’’ تبدیلی آئی رے ’’ کا سکہ رائج الوقت کا نعرہ زبان سے نکلتے نکلتے دل کے نہاں خانوںمیں چھپ گیا

اوسط درجے کے کمرے کی دیوار کے ساتھ ایستادہ الماریوں کے شیشوں سے جھانکتے آڈیو کیسٹوں کے ڈبے۔ وال ٹو وال کارپٹ، اعلیٰ ترین فرنیچر آنکھوں کو بھلی لگنے والی روشنی اور دیوار پر چسپاں سپلٹ ائیر کنڈیشن کے ٹھنڈے جھونکے۔ یہ تھی ریڈیو پاکستان پشاور کی آڈیو لائبریری کی وہ لفظی تصویر جو میری اچٹتی نظر نے کھینچی اور ثبت کردی زیر نظر کالم میں اپنے قارئین کی دلچسپی کے لئے۔ اس آڈیو لائبریری کا دروازہ کھلتے ہی دیوار پر آویزاں خوبصورت نوشتہ آپ کو بتا دے گا کہ اس آڈیو لائبریری کو محمد یعقوب بنگش میمورئیل لائبریری کا کا نام دیا گیا ہے ۔ محمد یعقوب بنگش ریڈیو پاکستان پشاور میں 1982 سے 1986 تک سٹیشن ڈائریکٹر رہ چکے ہیں اور ریڈیو پاکستان پشاور کی یہ آڈیو لائبریری ان کی پیشہ ورانہ خدمات کا اعتراف کرنے کے لئے 26 جولائی 2018 کو منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب ان کے نام نامی سے نہ صرف منسوب کی گئی ۔ بدلتے موسموں کے دور اور تبدیلی تبدیلی کے شور میں ریڈیو پاکستان پشاور میں رونما ہونے والی یہ تبدیلی جس کا تذکرہ ریڈیو پاکستان پشاور سے منسلک رہنے والی نمایاں شخصیات کی تصویروں کے نوشتہ دیوار بنے شو کیسز سے آڈیو لائبریری تک جا پہنچا ہے تو یہاں یہ عرض کردینا ضروری ہوگیا ہے کہ راقم السطورکا ماضی ایک مستند اور پیشہ ور عوامی کتاب دار یا پبلک لائبریری آفیسر کی حیثیت سے گزرا ہے وہ سوچ رہا ہے کہ آیا ہم آرکائیو ویلیو کی حامل کیسٹوں یا ساؤنڈ ریکارڈنگ کے اس ذخیرے کو لائبریری کہہ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ لائبریری کو اردو, فارسی یا اس قبیل کی دیگر زبانوں میں کتب خانہ کہا جاتا ہے۔ اس لئے ہم اس آڈیو، سمعی یا صوتی لائبریری کو کیسٹ خانہ یا سمعی مواد خانہ قسم کا نام دے سکتے ہیں۔ لیکن لائبریری کا نام دینے میں اس وقت تک اپنے آپ کو حق بجانب نہیں سمجھتے جب تک یہ لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس کے اصولوں کے مطابق کیٹلاگنگ، کلاسیفیکیشن اور لائبریری ایڈمنسٹریشن کے تقاضے پورے نہیں کرلیتی۔ لیکن ہمارے ہاں برس ہا برس سے رائج اس کلچر کا کیا کیا جائے جس کے زیر اثر ہر ذخیرہ کتب کو لائبریری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ہم اپنے کالموں میں کرائے پر ملنے والی کتابوں کی دکانوں کو’’ آنہ لائبریری‘‘ کے نام سے یاد کر تے رہے ہیں کہ یہ نام ان لوگوں کی ذہن کی اختراع تھی جو یہاں سے کتابیں مستعار لیکر پڑھتے تھے۔ اسی طرح ہم بلدیہ پشاور کے زیر اہتمام اخبارات کے ریڈنگ رومز کو بھی لائبریری کا نام دے دیتے ہیں۔ اگر بیتے دنوں یا عہد حاضر کے اس کلچر کو سب اچھا کہہ لیا جائے تو ہم ریڈیو پاکستان پشاور میں قائم اس سمعی مواد کے ذخیرے کو بھی آڈیو لائبریری کہہ کر ارباب بست کشاد کو مبارک باد دیتے ہوئے عرض کئے دیتے ہیں کہ

زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو

جسے جہاں بجا کہے بجا سمجھو

متعلقہ خبریں