Daily Mashriq

ملکی دفاع کا ایک اور اہم سنگ میل

ملکی دفاع کا ایک اور اہم سنگ میل

ایک ایسے وقت میں جب بھارت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشیدگی انتہا پر ہے سرحدوں پر فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہیں اکا دکا سرحد ی چھڑپیں بھی ہوئی ہیں دنیانے پاکستان کو تقریباً تنہا چھوڑ دیا ہے خود ہمارے عرب دوست ممالک اور اسلامی ممالک سے بھی توقعات پوری نہ ہوئیں ایسے وقت میں پاکستان کا ز مین سے زمین پر ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائل غزنوی کا کامیاب تجربہ قوم کیلئے اطمینان کا باعث لمحہ ہے جس پر ہمارے دفاعی ماہرین کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا سڑائیک کور کی جنگی تیاریوں پر اطمینان کا اظہار بھی حوصلے کا باعث امر ہے۔جنگ ہو یا امن اسلام نے مجاہدین کو ہر حال میںاپنے گھوڑے تیار رکھنے اور پوری تیاری کے ساتھ رہنے کا درس دیا ہے بلاشبہ پاکستان پرامن ملک ہے اور جنگ سے گریز ہماری پالیسی ہے پاکستان کے کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیںلیکن پاکستان جن ممالک میں گھرا ہے اور خاص طور پر پڑوسی ملک بھارت کی شرانگیزیوں کا ہمیں مختلف مواقع پر مختلف صورتوں میں سامنا رہتا ہے یہاں تک کہ بھارت کے اندر کوئی بڑا واقعہ ہو تو اس کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے فروری میں بھارت نے بالاکوٹ میں جو ناکام کارروائی کرنے کی کوشش کی اور اس کا جس قسم کا جواب پاکستان کی طرف سے ملا اس کے اعادے کی ضرورت نہیں۔بھارت کے پاکستان کے حوالے سے عزائم ہر دور میں جارحانہ رہے ہیں خاص طور پر جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو ایسا لگ رہا تھا کہ خدانخواستہ بھارت دنوں میں پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرسکتا ہے اگر بھارت پہل نہ کرتا تو پاکستان شاید ہی کبھی اپنی ایٹمی صلاحیت کا راز کھول دیتا لیکن ایٹمی دھماکے کے تجربے کے بعد پاکستان کے پاس سوائے ترکی بہ ترکی جواب کے کوئی چارہ کار نہیں بچا تھا اس کے باوجود پاکستانی قیادت نے کافی تحمل اور سوچ بچار کے بعد قوم کے دبائو پر کامیاب ایٹمی دھماکہ کر کے حساب برابر کردیا۔اس موقع پر میزائل کا کامیاب تجربہ اور سٹرائیک کور کی تیاریوں کاجائزہ بھارت کیلئے ایک بھر پور پیغام ہے بھارت طاقت کی زبان ہی سمجھتا ہے اور ہتھیاروں کی دوڑ میں ہمیشہ سے بھارت پہل کرتا آیا ہے اس موقع پر بھی خدشہ یہ ہے کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بگاڑنے اور مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے وہ پاکستان سے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کرے گا جس کیلئے ہر دم تیار رہنا اور تمام دفاعی قوت کو پوری طرح تیاری کی حالت میں رکھنے کی ضرورت ہے مقام اطمینان یہ ہے کہ پاکستان کے پاس نہ صرف بھارت کو فوری جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے بلکہ ہمارے دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان بارہ منٹ کے اندر اسرائیل کے ناپاک وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے گوکہ عرب ممالک اسرائیل سے پینگیں بڑھا رہے ہیں لیکن اسرائیل ،پاکستان کا اسی طرح دشمن ہے جس طرح بھارت ہے ایک اسرائیلی اخبار کی شہ سرخی کے مطابق پاکستانی شاہینوں نے فروری میں بھارتی طیارے کو مار گراتے وقت ایک اور شکار بھی کرلیا تھا بقول اس اخبار کے جس کا اسرائیلی پائلٹ مبینہ طور پر پاکستان کے پاس ہے۔یہ اطلاع درست ہو یا غلط اس سے قطع نظر پاکستان کو اسرائیل سے بھی اس طرح خطرہ ہے جس طرح بھارت سے ہے پاکستان کے پاس اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں کہ جتنا ممکن ہوسکے اپنے دفاع کو مضبوط بنایا جائے ملکی دفاع میں پاکستانی میزائلوں کا دفاعی نظام خاص طور پر قابل ذکر اور قابل بھروسہ دفاع ہے جن کی موجودگی ہی پاکستان کے خلاف میلی آنکھوں سے نہ دیکھ سکنے کی ضمانت ہے قوم بجا طور پر توقع رکھتی ہے کہ ہمارے دفاعی سائنسدان دفاعی سازوسامان میں جدت لانے اور ان کا فاصلہ زیادہ سے زیادہ کرنے کی مساعی جاری رکھیں گے اور پاکستان کا دفاع مزید مضبوط ومستحکم بنانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

متعلقہ خبریں