Daily Mashriq

فوجوں کی واپسی کے باوجود افغانستان میں امریکی موجودگی

فوجوں کی واپسی کے باوجود افغانستان میں امریکی موجودگی

امریکہ کی طالبان سے معاہدے کے باوجود بھی افغانستان میں موجودگی رہے گی امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق آٹھ ہزار چھ سو امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں گے جس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ افغانستان میں اپنے بیسز اور اپنے مفادات کی حفاظت اور خطے میں کسی ممکنہ کارروائی اور حالات پر نظر رکھنے کیلئے موجود رہے گا۔یہ سوال بے معنی ہے کہ امریکہ کو اس کی کیا قیمت چکانی پڑی،قیمت تو وہ ادا کر چکا اور افغانستان میںامریکہ کی مستقل طور پر موجودگی بھی رہے گی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ سے لڑنے والوں کو کیا ملے گا۔افغانستان کے جنگ زدہ عوام کی طویل مشکلات کا خاتمہ کیسے ہوگا۔طالبان کی افغانستان میں امریکہ کے خلاف جدوجہد اور امریکہ کی شکست یا بے نتیجہ واپسی کافی نہیں اگر دیکھا جائے تو اس معاہدے کے ذریعے بالآخر طالبان امریکی تسلط کے قائل ہوگئے ہیں امریکہ جن اہداف کے حصول کیلئے افغانستان آیا تھا اگر اسے مجسم گردانا جائے تو امریکہ اسامہ بن لادن تک پہنچ گیا اوراسامہ بن لادن والقاعدہ کی اعلیٰ قیادت اب موجود نہیں مگر امریکہ افغانستان میں اپنے پنجے گاڑنے میں کامیاب ہوا۔امریکہ کواپنے سازش میں کامیاب اور ان کے مخالفین بالآخر مصلحت کی ردا اوڑھتے دکھائی دیتے ہیںاگر اس کا انجام یہی نکلنا تھا یا پھر اس کے کرداروں کو بالآخر یہی منظورتھا تو خطے میں آگ وخون کی جو ہولی کھیلی گئی اس کا ذمہ دارکون ہوگا۔

نجی سکولز مالکان کی بلاوجہ فریاد

نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کا مالی بحران کے باعث اپنے تعلیمی ادارے فروخت کرنے پر مجبور ہونے کا تاثر اس لئے درست نہیں کہ ان کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہوتی ہیں جس کا ثبوت ہر چند سال بعد ایک نئی شاخ کا کھلنا ہے۔نجی سکولوں کے مالکان دوتین ماہ فیسیں وصول نہ کر کے جس مالی بحران کا شکار ہونے کا واویلا کر رہے ہیں بہتر ہوگا کہ ان کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے اگر وہ واقعی مالی بحران کا شکار پائے گئے تو حکومت کو چاہیئے کہ وہ ان کی مالی مدد کرے اور اگر کوئی اور صورت ہوتی ہے تو پھر اس صورتحال کے مطابق ان سے نمٹا جائے۔عام مشاہدہ یہ ہے کہ تعلیم کی تجارت نہایت منافع بخش کاروبار ہے اور ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھاآئے کے مصداق معاملات ہیں نجی سکولز مالکان فیس تو ہزاروں میں وصول کرتے ہیں لیکن اپنے اساتذہ اور عملے کو اتنی تنخوہ دیتے ہیں جس میں وہ بمشکل بھی گزارہ نہیں کر سکتے۔نجی سکولز مالکان اپنے منافع سے اپنے سٹاف کو دوماہ کی تنخواہیں تک ادا کرنے کیلئے تیار نہیںان کی مظلومیت کی اداکاری سے قطعی متاثر نہیں ہونا چاہیئے۔بہرحال اس کے باوجود انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ نجی سکولوں کے مسائل اور معاملات کے حوالے سے حکومت جامع سروے کروائے اور مسائل کی نشاندہی کے بعد جو نجی سکول واقعی خسارے کا شکار ہوں اُن کو مراعات دی جائیں جبکہ متعدد شاخوں اور فرنچائز والے سکولوں کے طلباء سے تعطیلات کی فیس وصولی بارے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے اس سلسلے میں عدالت سے جو فیصلہ آئے وہ یقینا والدین اور سکول مالکان سبھی کیلئے قابل قبول ہوگا۔

بیمار مگر نہایت ہونہار طالب علم

شانگلہ میں کینسر سے لڑنے والی طالبہ کی میٹرک کے امتحان میں اول پوزیشن لیکر ضلعی حکومت سے پچاس ہزار روپے انعام کی وصولی اور تھیلی سیمیا سے متاثرہ سوات کے طالب علم کا ایٹا ٹیسٹ میں شاندار نمبر لینا ان طلبہ کیلئے ایک مثال ہے جو صحت مند ہونے کے باوجودپڑھائی میں دلچسپی نہیں لیتے۔پڑھائی ہو یا کئی بھی کام اچھی صحت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں لیکن محولہ طلبہ نے ثابت کردیا کہ عزم وحوصلہ اور محنت ہو تو خرابی صحت کے باوجود شاندار کا میابی ممکن ہے۔شانگلہ کی طالبہ اور سوات کے طالب علم دونوں موذی مرض کا شکار ہیںان کا علاج صبر آزما اور خاصا مشکل ہے اس کے باوجود ان کی تعلیم سے محبت اور لگن قابل صد تحسین ہے جس کا صوبائی حکومت کو عملی طور پر اعتراف کرتے ہوئے نہ صرف ان کے علاج معالجے میں ان کی پوری مدد کی ضرورت ہے بلکہ ان خاص نوعیت کی بیماریوں کے علاج میں آسانی کیلئے ان کو خصوصی احکامات کے تحت ایسے تعلیمی اداروں میں داخلہ دیا جائے جہاں وہ علاج جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھ سکیں۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوامحمود خان اور مشیر تعلیم ہونہار طالب علموں کی بھر پور حوصلہ افزائی کریںگے۔

مضر صحت اشیاء کی کھلے عام فروخت کا مسئلہ

پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ناقص چپس اور پاپڑ بنانے والی فیکٹری کو سیل کرتے ہوئے مالک کی گرفتاری احسن اقدام ہے ۔مشکل یہ ہے کہ سرکاری اداروں کی طرف سے اس طرح کے فیکٹریوں کے خلاف کارروائی تو ہوتی ہے لیکن دکانداروں کو مضر صحت اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت پر جرمانہ اور سزا دینے کی زحمت کم ہی کی جاتی ہے اس امر کے ا عادے کی ضرورت نہیں کہ اس قسم کے چھوٹے چھوٹے کارخانے گھر گھر چل رہے ہیں اور تقریباً ہر چھوٹے بڑے جنرل سٹور پر یہ اشیاء کھلے عام بک بھی رہی ہوتی ہیں اگر ان اشیاء کی روک تھام مقصود ہے تو چند ایک نمائشی کارروائیوں کی بجائے ہر تھانے کی سطح پر اور ہر مارکیٹ اور دکان جا کر ان مضر صحت اشیاء کی فروخت کی روک تھام کرنا ہوگی جب تک اس طرح کے تمام کارخانے بند نہیں کئے جاتے اور ان کی تیار کردہ اشیاء پر مکمل طور پر پابندی نہیں لگائی جاتی اس وقت تک ان اشیاء کی ترسیل کی روک تھام نہ ہوگی اور مضر صحت اشیاء کھانے سے بچوں میں مختلف بیماریاں پھیلتی رہیں گی اور ان کی نشوونما متاثر ہوتی رہے گی۔

متعلقہ خبریں