Daily Mashriq

سودے بازی کا خوف یا شوق؟

سودے بازی کا خوف یا شوق؟

خدا جانے ہم سانپ کے ڈسے ہیں کہ رسی سے بھی ڈرتے ہیں یا دودھ کے جلے ہیں کہ چھاچھ کو بھی پھونک پھونک کر پیتے ہیں ۔شاید کوئی خوف ہمارے تحت الشعور میں کہیں پلتا ہے کہ جو تاریخ کے ہر موڑ پر ہمارے لفظوں کی صورت چھلک پڑتا ہے۔سودا ہو جانا ہمارا خوف ہے یا شوق کہ جب بھی کوئی بڑا اور تاریخی قدم اُٹھانے کا وقت آتا ہے ہم سودا ہوجانے کے خوف اور شوق کے ملے جلے جذبات کا اظہار کرنے لگتے ہیں ۔آج ہمارے اندر سے کشمیر کا سودا ہوجانے کی بات اس قدر تیقن کے ساتھ کی جاتی ہے کہ گویا بیتے ہوئے بہتر سال سے سری نگر پاکستان کا گرمائی دارالحکومت رہا ہو اور پانچ اگست کے بعد اب ہم اپنا کار حکومت وحیات وہاں جاری رکھنے کے قابل نہیں رہے اور اب ہمیں سرما وگرما میں اسلام آباد پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا ۔شوق وخوف کے ملے جلے جذبات کی حامل ایسی ہی آواز کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین مولانا فضل الرحمان کی طرف سے بلند ہوئی ہے جن کے مطابق بھارت نے کشمیر کو ضم کر لیا ہے ۔حکومت نے کشمیر کا سودا کر لیا ہے پہلے ہم کہتے تھے سری نگر چھڑائیں کیسے اب کہتے ہیں کہ مظفرآباد بچائیں کیسے۔ اب جو کچھ کرنا ہے کشمیریوں نے خود ہی کرنا ہے ۔صرف مولانا ہی نہیں کئی اور حلقے بھی کشمیر پر سودا ہوجانے کا راگ الاپتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔عین ممکن ہے کہ کشمیر کے حوالے سے غم وغصے کا جو عالم ہے حکومت پاکستان کی سرگرمیاں اور ردعمل اس سے مطابقت نہ رکھتا ہو ۔حقیقت بھی یہی ہے ابھی بھارتی اقدامات کا ہمہ جہتی مقابلہ کرنے کے لئے بہت کچھ کرنا باقی ہے ۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پاکستان نے کشمیر کا سودا کرکے کشمیریوں کو بھارت کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ۔موجودہ حالات میں اس سے سیاسی نمبر سکورنگ تو ہوسکتی اور کسی کے دل کے پھپھولے پھوٹ بھی سکتے ہیں مگر یہ بیانیہ کشمیریوں کو کنفیوزاور مایوس کرنے کا باعث بن سکتا ہے ۔اس وقت کشمیری جن حالات سے دوچار ہیں اس میں ان کے لئے بیرونی کمک کے صرف دوامکانات ہیں ۔او ل یہ پاکستان ان کی عملی مدد کرے ۔دوئم یہ کہ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے ساتھ کوئی امن فوج وہاں تعینات ہو ۔آخرالذکر بات کا تو سردست امکان نہیں کیونکہ تجارتی مفادات کی اسیر اور بھارت کی منڈیوں کے سحر میں مبتلا دنیا کو ایک مسلمان آبادی کو بچانے کی فکر کیوں دامن گیر ہو سکتی ہے؟۔جب کہ دنیا کے مختلف ملکوں لیبیا ،عراق ،شام ،افغانستان،فلسطین میں یہی لہو پانی کی صورت بہتا رہا ہے اور اب تک بہتا چلا گیا ہے۔ اسی دن کی امید اور انتظار میں ایف ٹی ایف کی زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔پاکستان کی ریاست ان عالمی قوانین کی زد میں تو آسکتی ہے مگر پلوامہ ٹو کے لئے برہان وانی اور ذاکر موسیٰ کے لاتعداد پیروکار اور اندرونی کردار کشمیر کی بستیوں میں موجود ہیں ۔ان کرداروں کے لئے سٹیج نریندر مودی نے خود سجا رکھا ہے ۔غصہ ،ردعمل ،نفرت کشمیر کی وادیوں میں طوفان بن کر اُمڈ آیا ہے۔جان دینے اور لینے کا جذبہ تاریخ کے کسی بھی دور سے زیادہ غالب ہے۔دیر صرف مواصلاتی رابطوں کی بحالی اور نقل وحرکت میں آسانی کی ہے ۔’’پلوامہ ٹو ‘‘ہوتے ہی بھارت کا ردعمل آزادکشمیر میں ظاہر ہوتا ہے تو یہ ایک جنگ کی ابتدا ہوگا۔اس جنگ میں وادی کشمیر اور وادیٔ چناب (جموں کے مسلم اکثریتی علاقے) کا کردار کلیدی ہوگا۔ان علاقوں کا پاکستان کے لئے معاون اور مددگار رہنا کامیابی کی شرطِ اولیں ہے۔یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ دنیا بڑی حد تک کشمیر کے ایک متنازعہ علاقہ ہونے کے موقف کی تجدید کررہی ہے ۔دنیا بھارت کے ساتھ اپنی محبت اور تجارتی مجبوریوں کے باوجود اٹوٹ انگ جیسی باتوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے ۔اس طرح پاکستان وہ واحد ملک ہے جو کشمیریوں کے لئے امید کی کرن ہے اور مستقبل میں کشمیریوں کے ساتھ طویل لڑائی لڑ سکتا ہے ۔کشمیریوں کی طویل مزاحمت کی تاریخ میں ستائیس اکتوبر بھارتی قبضہ ، پاک بھارت جنگ بندی ،شیخ عبداللہ کی برطرفی اور گرفتاری ،موئے مقدس کی چوری ،سقوط ڈھاکہ سمیت کئی کڑے لمحات آئے ۔پاکستان پر بھی سقوط ڈھاکہ سے زیادہ براوقت کوئی نہیں تھا ۔یہ وقت تھا جب پاکستان شکست اور مجبوری کے عالم میں کشمیر پر سودے بازی کرسکتا تھا ۔ان حالات میں بھی وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو بھارت کے ساتھ ایک معقول معاہدہ کرکے آئے اور کچھ دبائو کو تحریر میں لائے بغیر خوبصورتی سے وعدہ ٔ فردا پر ٹال آئے جن میں کنٹرول لائن کو مستقل سرحد قرار دینا بھی شامل تھا۔دبائو کے ماحول سے پاکستان نکل آیا تو اس نے زور وشور سے کشمیریوں کی مدد کی منصوبہ بندی شروع کی ۔مقبول بٹ کی رہائی کی درپردہ کوششوں کا آغاز کیاتاکہ ایک بڑے دماغ کو واپس لاکر استفادہ کیا جائے ۔کشمیر پر سودے بازی کی صرف ایک ممکنہ صورت ہے وہ ہے کنٹرول لائن کو مستقل سرحد قرار دینا۔کنٹرول لائن ایک عارضہ اور مرض ہے جو کبھی شفا نہیں بن سکتا۔وادی کشمیر اور وادیٔ چناب کے مسلمانوں کو بھارت کے رحم وکرم پر چھوڑدینے کا مطلب دوقومی نظریے سے دست برداری ہے۔ پاکستان نے اس حل کی ہمیشہ مخالفت کی ہے ۔بھارت نے طاقت کے نشے میں قائداعظم کی زندگی میں ہی جارحانہ اقدامات کئے تھے ۔لیاقت علی خان کے دور میں پاک بھارت جنگ بندی ہوئی جس سے مجاہدین کے بڑھتے ہوئے قدم ، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں