Daily Mashriq

جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے

جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے

درخت کی ایک شاخ پرچڑھ کر اس نے ’شیر آیا شیر آیا ‘کی آوازیں لگائی تھیں اسکی آواز سن کر گاؤں کے لٹھ بردار لوگ گھروں سے باہر نکل آئے ۔’’ کہاں ہے شیر ؟‘‘گاؤں کے لٹھ برداروں نے پوچھا۔ جی وہ ادھر سے آیا اور ادھر نکل گیا۔ اس نے گھنے جنگل کی طرف اشارہ کرکے کہا۔ اور لٹھ بردار شیر کی تلاش میں جنگل کی طرف بڑھ گئے۔ واللہ بڑا مزہ آیا گاؤں والوں کو بے وقوف بنا نے میں ، دل ہی دل میں گاؤں والوں کی سادہ دلی پر ہنسنے لگا ۔ جس سے ثابت ہوا کہ وہ ایک اذیت پسند شخص تھا ، دوسروں کو اذیت دے کر یا ان کو بے وقوف بنا کر بہت خوش ہوتا تھا۔اس کے لئے تفریح یا دل کو خوش کرنے کا ایک بہانہ تھا ایسا سب کچھ کرنا ، اس نے درخت پر چڑھ کر شیر آیا شیر آیا کا شور ایک بار نہیں کیا۔ اس نے اپنی عادت سے مجبور ہوکر ایسی حرکت متعدد بار کی جس کے نتیجے میں دوتین بار دھوکہ کھانے یا بے وقوف بننے والوں نے ہوش کے ناخن لئے کہ وہ سب سمجھ گئے تھے کہ شیر آیا شیر آیا کا ڈرامہ کرنے والاجھوٹا مکار اور اذیت پسند ہے یا اس کے دماغ میں کوئی خلل ہے۔ سو انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ اب کے جو اس نے شیر آیا شیر آیا کا جھوٹ بولا تو ہم اس کی کسی بات پر یقین نہ کریں گے۔ اس کے جھانسے میں آکر اس کی مدد کے لئے نہ نکلیں گے۔ کیونکہ یہ مکار اور اذیت پسند ہم سب کو بے وقوف ہی نہیں بناتا ہماری سادگی پر ہنستا بھی ہے۔ پاگل ہے یہ کمبخت۔ لوگوں نے اس کی اس حرکت کے جواب میں جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق جو منہ میں آیا وہ کہا۔ اور پھر اپنے اپنے گھروں کو جاکر لمبی تان کر سور رہے ۔ ابھی وہ ٹھیک طرح سے سوبھی نہ پائے تھے کہ وہ شیر آیا شیر آیا کا شور ڈال کر گاؤں کے لوگوں کو ایک بار پھر اپنی مدد کے لئے بلانے لگا۔ لوگوں نے اس کی آواز پر کان نہیں دھرا کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ وہ پرلے درجے کا جھوٹا شخص ہے اور شیر آیا شیر آیا کا شور مچا کر شیر سے ڈرنے والوں کا تماشا کرتا ہے۔ سو وہ اپنے اپنے بستر پر دبکے رہے اور انہوں نے گھر سے باہر نکل کر شیر کو بھگانے یا اسے مارنے کی کسی قسم کی کوشش نہیں کی۔ کہتے ہیں اس روز سچ مچ گاؤں میں شیر آگیا تھا جس نے شور مچاتے بھولے باچھا کو نہ صرف دبوچ کر پکڑا اوراس کی آنتیں اوجھڑی نکال کر مزے لے لے کر چٹ کر گیا اور صبح ہونے سے پہلے اس کی بچی کھچی لاش اٹھا کر گھنے جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ صبح دم جب گاؤں کے لوگوں کو اس بات کا علم ہوا تو وہ اس کی مغفرت کے لئے دعا کرنے کے سوا کچھ بھی تو نہ کرسکے

یہ تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون

ہو گئے ہم راکھ تو دست دعا روشن ہوا

کاش گاؤں کے لوگ اس کی مدد کو آجاتے تو شائد اس کا وہ حشر نہ ہوتا جو آدم خور درندے نے اس کی تکہ بوٹیاں کرکے کیا تھا، کاش وہ جھوٹا اور فریبی نہ ہوتا اور اس کو اس انجام تک نہ پہنچنا پڑتا ۔ یہ سب اس بھونڈے مذاق کا کیا دھرا تھا جو اس نے از راہ تفنن یا تفریح طبع کی غرض سے کرتے رہنے کی عادت ڈال رکھی تھی ۔ اللہ خبر ایسی حرکتیں کرنے والوں کے کیا ہاتھ آتا ہے۔ خوف یا سراسیمگی پیدا کرنے کے لئے بغیر سر اور پیروں کے جھوٹ کو عام کرنے لگتے ہیں ،

نہ خوف برق نہ خوف شجر لگے ہے مجھے

خود اپنے باغ کے پھولوں سے ڈر لگے ہے مجھے

کشمیر کی ناگفتہ بہ صورت حال کے حوالے سے ہم پاکستان والے جس غم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں اورغمزدہ کشمیریوں کے دل کی ڈھارس بندھانے کے لئے ان کے ساتھ یکجہتی کے جو مظاہرے کر رہے ہیں اور ان کو آزادی دلانے کے لئے ہر حد کو پار کرجانے کے جو وعدے قسمیں اور پیار وفا نبھانے کے جو نغمے الاپ رہے ہیں ، ایسے میں ان لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو درخت پر چڑھ کر

دیکھو دیکھو کون آیا

شیر آیا شیر آیا

کا جھوٹ بولتے ہوئے کسی قسم کی شرمندگی یا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے ۔ آپ سوشل میڈیا پر جاکر دیکھیں ، آپ کو درجنوں کی تعداد میں ایسے لوگ نظر آئیں گے ، جو سراسیمگی پھیلانے کی غرض سے بے پر کی اڑانے کے ماہر نظر آتے ہیں ، بہت وقت ہے ہم لوگوں کے پاس، اگر وقت نہیں بھی تب بھی ہم وقت گزاری کے لئے آن لائن جاکر اپنے ذوق کی تسکین کے لئے یا حالات حاضرہ سے واقف ہونے کے لئے ایسی ویڈیوز کی تلاش میں رہتے ہیں ، جو ہمیں وہ سب کچھ بتادے جس کے بارے میں ریڈیو، ٹیلی ویژن یا اخبار بتانے سے قاصر ہیں ، بڑی خبر آگئی ، بڑا اعلان ہوگیا ، بھارت کے چھکے چھوٹ گئے ، ہماری افواج بھارت کے اندر داخل ہوگئیں ، ہمارے ہوابازوں نے بھارت کو ناکوں چنے چبوادئیے ، یہ اور اس قسم کی بہت سی خبریں قوم کا مورال بلند کرنے کے لئے ہی کیوں نہ گڑھی جاتی ہوں، ان کو افواہ طرازی کی ذیل میں رکھا جاسکتا ہے ، جو حالت جنگ میں پوری قوم کے اجتماعی شعور کو غلط فہمیوں کا شکار کردیتی ہیں ، اور بعض اوقات بے پر کی اڑائی گئی خبریں میدان جنگ کا پانسہ ہی پلٹ کر رکھ دیتی ہیں ، ہم نے بھولے باچھا سے جھوٹ بولنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ میں بھی تو اس معاشرے کا حصہ ہوں ، ہمیں یوں لگا جیسے وہ کہہ رہا ہو

جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے

سچ کہہ کر کون دار پر لٹکے

متعلقہ خبریں