Daily Mashriq

مسئلہ کشمیر کا حل

مسئلہ کشمیر کا حل

بحیثیت قوم ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم حقیقت چھوڑ کر سرابوں کی طرف بھاگتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے مسائل اس طرح حل ہو جائیں گے۔

چھوڑ کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا

ریت اس نگر کی ہے اور نہ جانے کب سے ہے

مسئلہ کشمیر کو عالمی دنیا پر اجاگر کرنے کی سعی میں 72سال ہم نے گزار دیئے ہیں اور حاصل وصول کچھ بھی نہیں ہے۔ عالمی ضمیر ہمیشہ سویا رہا ہے اور یہ آئندہ بھی سوتا ہی رہے گا کیونکہ قوموں کے نزدیک ’’انسانی حقوق‘‘ کے نام کی دستاویز اسی وقت اہمیت رکھتی ہے جب کہ ان کے مفادات اور نظریات پر زد پڑتی ہے۔ جو لوگ ہم میں سے یہ گمان رکھتے ہیں کہ انسانی حقوق کی بنیاد پر وہ عالمی رائے عامہ کو ہندوستان کے خلاف کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ان کی معصومیت اور سادہ لوحی پر ترس آتا ہے۔ اگر ایسی روش زمانے کی ہوتی تو کشمیر کا مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہوتا۔ حق خودارادیت انسانوںکا ناقابلِ تنسیخ حق سمجھا اور مانا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کا چارٹر بھی یہی کہتا ہے لیکن کشمیری عوام کو یہ حق دلوانے میں تمام دنیا ناکام ہے حالانکہ اقوام متحدہ کی اپنی قراردادیں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتی ہیں اور استصواب رائے کے ذریعے یہ حق انہیںدینے کا وعدہ کرتی ہیں۔ یونیورسل ڈکلیئریشن آف ہیومن رائٹس میںجو کچھ لکھا گیا ہے کشمیریوں کے انسانی حقوق پر اس کا اطلاق کیوں نہیںہوتا؟ ہندوستان نے گذشتہ 72برس اور خاص طور پر 90کی دہائی میں کشمیریوں پر جو ظلم و ستم ڈھائے کیا اس کا نوٹس کبھی عالمی طاقتوں نے لیا۔ ہم روتے اور پیٹتے رہ گئے مگر ہماری پکار پر کسی نے توجہ نہ دی۔ کیا ہم نے برسوں یہ پکارنہ لگائی…!

اے دنیا کے منصفو‘ سلامتی کے ضامنو …کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو

کیا کسی نے کشمیریوں کے بہتے ہوئے خون کا شور سنا؟ انسانی حقوق کی بنیاد پر ہم ان کی مدد کے طلبگار ہیں جنہوں نے انسانی حقوق کا یہ مسئلہ خود پیداکیا ہے۔ مجھے یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ مغربی عالمی طاقتوںکی ملی بھگت سے ایسے خطوط پر تقسیم ہند کی گئی تاکہ پاکستان مسائل میں پھنسا رہا۔ باؤنڈری کمیشن نے تقسیم ہند کے بنیادی اصولوںکی خلاف ورزی کی ‘ طے تھا کہ بنگال اور پنجاب کی تقسیم کرتے وقت ملحقہ مسلم اکثریتی اضلاع کو پاکستان میں شامل کیا جائے گا لیکن ضلع گورداسپور کو مشرقی پنجاب کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس کارروائی کے پیچھے جو بدنیتی کارفرما تھی وہ ریاست جموں و کشمیر اور ہندوستان کو زمینی طور پر آپس میں ملانا تھا۔ ریڈ کلف ایوارڈ سے بڑا فراڈ انسانوں کے ساتھ بیسویں صدی میں نہیں ہوا جس کی وجہ سے لاکھوں انسانوںکی زندگیاں خطرے میں ڈالی گئیں اور مستقل طور پر خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر دیا گیا۔ یہ سب انگریز افسر کر رہے تھے اور ان کی کمان انگریز گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ہاتھ میں تھی۔ مسئلہ کشمیر سلطنت برطانیہ کا پیدا کردہ ہے لیکن ہم گمان رکھتے ہیں کہ وہی برطانیہ انسانی حقوق کی بنیادوںپر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون کرے گا۔ کیا ہم بھول گئے ہیں کہ قبل ازیں کشمیر کو ڈوگرہ شاہی کے پنجہ استبداد میں دینے والے بھی یہی انگریز تھے؟انگریزوں اور گلاب سنگھ کے درمیان ہونے والا معاہدہ امرتسر جسے تاریخ بیع نامہ کشمیر کے نام سے بھی پکارتی ہے کیا ہمیں یاد نہیں رہا؟ وہ کون تھا جس نے کشمیر کے کھیت اور کھلیان بیچ دیے اور کشمیر کے سرسبز و شاداب میدانوں ‘ جنگلوں اور خوبصورت وادیوں کا سودا کیا؟فقط بے جان اور بے زبان اشیاء کی بات نہیں بیچنے والوں نے زندہ جیتے جاگتے انسانوںکے سروںکا سودا کیا۔ مبلغ پچھتر ہزار روپے میں انسان فروشی کا یہ معاہدہ تاریخ کے بدنما داغوں میں سے ایک داغ ہے۔ اقبالؒ نے اپنے دردکو شعر میں ڈھالا تو کہا…!

دہقان و کشت و جوئے و خیاباں فروختند

قومیں فروختند و چہ ارزواں فروختند

آج ہمیں ان سے وفا کی امید ہے جو نہیں جانتے وفا کیا ہے۔ آج کشمیر میں کرفیو کا26واں روز ہے‘ ہمارے وزیر خارجہ دنیا کو متنبہ کر رہے ہیں کہ ادویات اور خوراک کی عدم یابی کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے مگرمجال ہے جو عالمی طاقتوں کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ یہ ہیں انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار اور ان کا کردار۔ ان سے ہمیں توقع ہے کہ ان کا ضمیر جاگے گا اور ان کے سامنے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے سے اس مسئلے کے حل کی کوئی راہ نکلے گی ۔ نوابزادہ نصر اللہ یاد آتے ہیں

کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں

کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے

کشمیر کی آزادی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے طفیل نہ ہوئی اور نہ ہو گی۔ کشمیر کو ہندوستان کے چنگل سے نکالنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے کشمیری عوام کا قابض ہندوستان فوج کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونا اور پاکستان کا کشمیریوں کی مدد کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار رہنا۔ آزادی کی جدوجہد میں پہلی مرتبہ کشمیریوں کی تمام نمائندہ سیاسی قوتیں ایک صفحے پر ہیں‘ اگر یہ باہمی اشتراک پر رضامند ہو جاتی ہیں اور ان کے درمیان ہندوستان سے آزادی کے یک نکاتی ایجنڈے پر اتفاق ہو جاتاہے ، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں