Daily Mashriq

کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینانہ ہوا

کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینانہ ہوا

چند ہفتے پہلے فیس بک پرایک پوسٹ نظر سے گزری تاہم اس وقت ایک سرسری نظر ڈال کر صرف نظر کردیا،لیکن حال ہی میں بھارت کی جانب سے دریائے ستلج،چناب اور دیگر آبی منابع سے وافر مقدار میں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے پانی چھوڑ کر پاکستان میں سیلاب کی صورتحال پیدا کر کے پاکستان پر آبی جارحیت تھوپنے سے وہ پوسٹ یاد آگئی اور اس کی اہمیت کا احساس ہونے لگا، اب اسے کہاں تلاش کرتا کہ اس پر میں نے تب لائک بھی نہیں کیا تھا،نہ یہ معلوم تھا کہ وہ کس نے فیس بک پر ڈال کر پاکستانی عوام کو تنبیہہ کیا تھا،کہ اچانک گزشتہ روزوہی پوسٹ ایک بار پھر سامنے آگئی گویا بلی کے بھاگوں چھیکا ٹوٹا، میں نے اسے شیئر کرتے ہوئے اس کے اوپر یہ الفاظ لکھے کہ’’تحقیق ہونی چاہیئے کہ یہ نظر یہ کہاں تک درست ہے؟‘‘یعنی خود میں بھی یہ چاہتا تھا کہ کوئی ماہر آبی وسائل یا پھر اس حوالے سے متعلقہ انجینئرز ہی کوئی رائے دے کر پاکستان کے عوام کی رہنمائی کریں،اس پوسٹ میں پاکستان کے بالائی علاقوں کا نقشہ سامنے رکھ کرگلگت بلتستان کے متعلقہ حصوں کے گرد سرخ رنگ کا دائرہ لگا کر واضح کیا گیا ہے کہ وہاں سے پانی کے دودریا بھارت جاتے ہیں،اب ذرا پوری عبارت پڑھیئے جس نے مجھے بھی یہ پوسٹ شیئر کرنے پر مجبور کیا،نقشے کے اوپر سرخی جمائی گئی ہے’’وہ خفیہ راز جس کیلئے بہادر قوم بننا پڑے گا‘‘۔اور نقشے کے نیچے یہ عبارت درج ہے’’گلگت بلتستانG-B‘‘میں دیوسائی سے کالا پانی اور چھوٹا پانی کے نام سے دو دریا بھارت جاتے ہیں،جس مقام پر وہ بھارت میں داخل ہوتے ہیں اس سے30کلو میٹر پہلے ،ان دریائوں کے رخ کو موڑا جا سکتا ہے،اس کام کیلئے گلگت بلتستان کے3پہاڑوں کی کٹائی سے دریا کا رخ موڑا جا سکتا ہے اور بھارت کو پانی روکنے کے بعد ایک بھیانک زندگی دی جا سکتی ہے فیصلہ عوام نے کرنا ہے اور سرکار سے عمل درآمد کروانا ہے(نوٹ) فیصلہ کریں کہ مودی سرکار اور بھارتی فوج سے مرتے رہنا ہے یا دشمن کو سبق سکھاناہے؟‘‘ یہ پوسٹ شیئر کرتے کرتے احمد فراز کا یہ شعر ضرور یاد آیا کہ

دیکھو یہ میرے خواب تھے،دیکھو یہ میرے زخم ہیں

میں نے سبھی حساب جاں برسر عام رکھ دیا

یہ پوسٹ جیسا کہ اوپر کی سطور میں بھی گزارش کرچکا ہوں صرف اپنی معلومات میں اضافہ کیلئے شیئر کیا تھا،اس پر بعض کرمفرمائوں نے تبصرے شروع کردیئے ،کچھ حوصلہ افزائی اور کچھ نے اعتراضات شروع کردیئے ،حالانکہ یہ پوسٹ میری تو تھی نہیں، بہرحال یاردیرینہ کالم نگار جمیل مرغز نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ ہمارا دریائے چترال کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے میں نے اس کا رخ موڑنے کے حوالے سے لکھا تھا،ایک اور ہمدم دیرینہ سہیل انجم نے لکھاکہ’’دریا کا رخ موڑنا بچوں کا کھیل نہیں ہوتا، اپنے تو تین دریا جنرل ایوب نے سندھ طاس معاہدے کے تحت سرنڈر کر دیئے تھے جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں،اور باتیں کرتے ہیں دریا کا رخ موڑنے کی ،آگے اپنی ہی بات کی ترردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں،جس دریائے جہلم پر ہمارا بلا شرکت غیرے حق تھا اس پر بھی بھارت نے کئی ڈیم بنا لیئے ہیں،ہم نے اس کا کیا اکھاڑ لیا ہے،مزید سنیئے افغانستان، ہندوستان کی مالی اور تکنیکی معاونت سے پاکستان کی سرحد کے قریب دریائے کابل پر ایک بڑا بند بنا رہا ہے چونکہ ہمارا افغانستان سے کوئی آبی معاہدہ نہیں اس لئے ہم یہ معاملہ کسی فورم پر نہیں اٹھا سکتے ،اس ڈیم کی تکمیل کے بعد دریائے کابل کے پانی پر افغانستان کا مکمل کنٹرول ہو جائے گا‘‘۔سہیل انجم نے جو لکھا اس کو امیر مینائی کے الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ

کباب سیخ ہیں ہم کروٹیں بدلتے ہیں

جو جل اٹھتا ہے یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں

ارے بھائی میں نے یہ کب کہا کہ دریا کا رخ موڑنا بچوں کا کھیل ہے، تاہم یہ جو بھارت نے ہمارے دریائوں کے رخ موڑ کر ان پر ڈیم بنالیئے اور اب جب چاہے ہمارا پانی بند کر دے،جب چاہے اضافی پانی راتوں رات چھوڑ کر ہمارے شہروں اور دیہات کو سیلاب کی نذر کر دے کیا یہ ممکن نہیں بنایا گیا؟ظاہر ہے اس کیلئے پالیسی بنانی پڑتی ہے،فنڈز فراہم کرنا پڑتے ہیں،چلیں بھارت کو چھوڑیں یہ جو میرافضل خان کے دور صوبائی حکومت میں اے این پی کے اس وقت کے وزیر آبپاشی فرید طوفان نے غازی بھروتا کا رخ موڑنے کی اجازت دیکر آگے ہمارے دریائے سندھ کو اٹک کے مقام پر خشک کرنے کا معاہدہ کیا اور غازی بھروتہ سے پانی پنجاب کو دیا گیا ،کیا یہ دریا کا رخ موڑنا نہیں تھا؟اور30اگست کے اخبارات میں جو یہ خبر چھپی ہے کہ سیدوشریف ایئر پورٹ کے رن وے میں حائل نہر کو 3مہینوں میں منتقل کرنے کے احکامات صادر کر دیئے گئے ہیں تو کیا یہ بچوں کا کھیل ہے۔

قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل

کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینانہ ہوا

یہ جو کابل میں ڈیم بنانے کی بات ہے تو صرف یہی نہیں،ادھر بلوچستان کی سرحدات کے قریب بھی ایک اور ڈیم بھارت کے تعاون سے بنایا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کو مکمل طور پر بنجر کر کے ان افریقی ممالک کے ہم پلہ کردیا جائے جہاں بقول ضیاء الحق گھاس بھی نہیں اگتی،اس لیئے گزشتہ کئی سال سے دریائے چترال کے بارے میں لکھ رہا ہوں کہ ارندو کے مقام سے پہلے جہاں یہ دریا افغانستان، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں