Daily Mashriq


سی پیک ، اطمینان اور عدم اطمینان

سی پیک ، اطمینان اور عدم اطمینان

بیجنگ میں پاکستان چین جائنٹ کو آپریشن کمیٹی کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کے لئے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت تین بڑے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری اور صوبے کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا ان منصوبوں پر اطمینان کے اظہار کے بعد پاک چین اقتصادی راہداری میں خیبر پختونخوا کو نظر انداز کرنے کی شکایات کا اصولی طور پر خاتمہ ہونا چاہیئے۔ مگر وزیر اعلیٰ جہاں ایک طرف اطمینان کا اظہار کر رہے ہیں وہاں دوسری طرف اسی سانس میں وزیر اعظم پر تحفظات دور کرنے پر زور دیتے نظر آئے جو سمجھ سے بالا تر ہے اور خواہ مخواہ شکوک وشبہات کا بھی باعث ہے ۔ہمارے تئیں بیجنگ میں کو آپریشن کمیٹی کے اجلاس میں ہر صوبے کی نمائندگی اور مشاورت کے بعد منظور ہونے والے منصوبوں اور مزید تجاویز پر غور وخوض کے مراحل میں کسی ایسے بیان کی گنجائش نہیں جس میں ایک آنکھ سے ہنسنے اور دوسری آنکھ سے رونے کا تاثر ملتا ہو ۔ہم سمجھتے ہیں کہ بیجنگ میں وفاقی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ ملاقاتوںمیں اور چینی حکام سے با آسانی رابطے کا موقع غلط فہمیاں دور کرنے کا مناسب اور موزوں موقع تھا جس کا یقینا وزیر اعلیٰ نے فائدہ اٹھایا ہو گا اور وزیر اعلیٰ کا منصوبوں پر اطمینان کا اظہار بھی اس امر پر دال ہے کہ اب مغربی روٹ میں نظر انداز کئے جانے اور وفاقی حکومت کی طرف سے اعتماد میں نہ لینے اور منصوبوں کو اخفا ء میں رکھنے جیسے الزامات کے اعادے کی گنجائش نہیں اور اگر بالفرض محال اب بھی تحفظات باقی ہیں تو ان منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیوں کیا گیا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں سی پیک میں بھاشا ڈیم کے منصوبے کی شمولیت سترہ سو میگا واٹ کے پن بجلی کے منصوبے پشاور ، چارسدہ ، نوشہرہ ، مردان اور صوابی کے درمیان سرکلر ریلوے کا منصوبہ اور موٹر وے کے ساتھ جدید ترین اکنامک زون کے قیام کے منصوبوں کی منظوری اور اتفاق کافی ہے جبکہ گلگت چترال چکدرہ روڈ کی تعمیر کو سی پیک میں شامل کرنے کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی تجویز کی منظوری کے بعد ٹیکنیکل فزیبلٹی اور مزید ہوم ورک کے لئے منصوبے کو ٹرانسپورٹ جائنٹ ورکنگ گروپ کو بھجوانے کا عمل حوصلہ افزاء اور خوش آئند امور ہیں۔ صنعتی تعاون کے تحت صوبے میں رشکئی اکنامک زون کا قیام اور مزید زونز کے قیام کے امکانات اور وقت کے ساتھ تعمیر کا عندیہ متعلقہ فورم سے ملنا مغربی روٹ کے حوالے سے خد شات کے ازالے کے لئے کافی ہیں ۔ وزیر اعلیٰ کی گلگت ، چترال ، چکدرہ روٹ کی تجویز نہ صرف سی پیک کے لئے نافع منصوبہ ہوگا بلکہ یہ روٹ سے وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے گیٹ و ے بھی ثابت ہوگا جس کے جائزے کے بعد اس کی منظوری کے قوی امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ۔ اس تما م پیشرفت کے بعد ضرورت اس امر کی رہ جاتی ہے کہ شکوک وشبہات کو بالا ئے طاق رکھ کر ہر صوبے کو اپنے صوبے میں ایسے حالات یقینی بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے جس میں تحفظ اور اعتماد کے ماحول میں سی پیک کے منصوبوں پر کام جاری رہے ۔دوسری جانب سی پیک کے باعث جو وسیع مواقع دستیاب ہونے جا رہے ہیں اپنے صوبے کی بنیادی اساس اور افراد کو اس قابل بنانے پر توجہ کی ضرورت ہے کہ ا ن منصوبوں سے کما حقہ استفادہ کیا جاسکے ۔ صوبے میں سب سے زیادہ کمی ہنر مندوں کی ہے اس وقت بھی اگر چہ صوبے میں صنعتیں برائے نام ہی ہیں مگر ان صنعتوں کے لئے بھی مقامی طور پر ماہرکاریگر دستیاب نہیں اور اس ضرورت کو پوری کرنے کے لئے ہمیں پنجاب پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ پنجاب میں سی پیک کے فوائد سمیٹنے کے لئے ہنرمندوں کی تیاری اور چینی زبان سکھانے کے جن منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام دکھائی دے رہا ہے کیا خیبر پختونخوا کی حکومت کا فرض نہیں کہ وہ بھی اس طرح کی تیاریاں کرے ۔ بہر حال وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے میں تمام صنعتی مراکز کا درجہ بڑھانے کے انتظامات کے تحت گیارہ مراکز پاک فضائیہ باقی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور نجی شعبوں کے حوالے کئے جارہے ہیں جس کا بنیادی مقصد صنعتوں کو در کار ہنر مند وں کی فراہمی ہے ۔صوبے میں رشکئی حطار اور ڈیرہ اسماعیل میں صنعتی پارکس کا قیام یقینا قابل اطمینان امر ہوگا جس کے لئے اراضی کا حصول بھی ہوا ہے جس کے بعد عملد ر آمد میں تاخیر کی گنجائش نہیں ۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ ستاون کھرب روپے کے سی پیک منصوبے کے تحت ملک بھر میں جہاں بھی منصوبے بنیں اس کے اثرات کے اجتماعی سود مند ہونے اور کسی نہ کسی لحاظ سے اس سے افادیت فطری امر ہوگا ۔ ہمارے تئیں صوبے کے حقوق اور حصے کے لئے آواز بلند کرنا کوئی نا مناسب بات نہیں بلکہ صوبے کی حکومت اور سیاسی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں البتہ اس کا انداز مفاہما نہ ہو اور تضا دات کا باعث بننے والا نہ ہو اگر کہیں نظر انداز کئے جانے کا حامل تضا د کا معاملہ سامنے آئے تو صرف نظر کی پالیسی بہتر حکمت عملی اور ملکی مفاد کا تقاضا ہوگا ۔ ہمیں مل جل کر پاک چین اقتصادی راہداری کی راہ میں اندرونی او ربیرونی رکاوٹیں ہٹا کر اس سے مقررہ مد ت کے اندر مکمل ہونے کا ماحول پید ا کرنا ہوگا۔ اس اہم منصوبے کی تکمیل سے آنے والے وقتوں میں ملکی معیشت کا گراف بلند ہوگا اور عوام کو کاروبار و روزگار کے مواقع ملیں اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا ۔

متعلقہ خبریں